برصغیر میں ’ربا‘ (سود) کے بارے میں علمائے کرام کی خیالات

amir mughalعامر شفیق مغل

ربا interest کے روایتی تصور کے مطابق یہ قرض کی اصل رقم پر "زائد رقم" یا مقدار ہوتی ہے جو کہ ایک مقروض اپنا قرض ادا کرتے وقت قرض دینے والے کو ادا کرتا ہے۔
ربا کی درج بالا تعریف پر روایتی مکتبہ فکر کا اتفاق ہے، لیکن غیر روایتی مکتبہ فکر میں بہرجال ربا کو مختلف انداز سے بھی دیکھا گیا ہے۔ لیکن دونوں مکتبہ فکر میں اس بات پر اتفاق ہے کہ ربا حرام ہے اور یہ قرض کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔
اصل میں روایتی مکتبہ فکر کے نزدیک قرض کی اصل رقم پہ ہر طرح کا اضافہ، قطع نظر اس کے وہ کیوں ہے، کس مقصد کے لیے ہے.... ربا کہلائے گا.... لیکن غیر روایتی مکتبہ فکر اس پابند تعریف کو مختلف بنیادوں پر ماننے سے اختلاف کرتا ہے۔
ربا کے سلسلے میں "بے محنت کمائی " کے اوپر سوال اٹھتا ہے۔۔ اگر اجارہ ، مضاربہ اور مزارعہ وغیرہ بطور ’کمائی‘ جائز ہیں تو جس کو ہم ربا کہہ رہے ہیں وہ بھی تو ’بے محنت کمائی“ ہی ہے۔
دونوں مکتبہ فکر کی جانب سے ابھی تک ربا کی کوئی ٹھوس جامع تعریف سامنے نہیں آئی۔
الجصاص میں ربا کی تعریف یوں کی گئی ہے
"ربا ایک ایسا قرض ہے جوکہ ایک مخصوص مدت کے لیے اس شرط کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ "مخصوص مدت" گزرنے کے بعد قرض دار اس کو اضافی رقم کے ساتھ واپس کرے گا۔"
روایتی مکتبہ فکر
روایتی مکتبہ فکر عام طور پر ربا کو کرنسی / نقدی تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ دیگر ٹھوس اثاثہ جات کو استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ جیسے آپ اپنا گھر کسی کو کرایہ پر دے سکتے ہیں لیکن اپنی نقد رقم یا اس جیسا کوئی منقولہ اثاثہ کرایہ پر نہیں دے سکتے۔
اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مکان جیسے اثاثہ جات فرسودگی depreciation کا عنصر رکھتے ہیں اس وجہ سے ان کو کرایہ پر دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ نقدی یا کرنسی depreciate نہیں ہوتی۔ ( جو کہ ایک غلط تصور ہے ) لہٰذا اس کو کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا یا اضافی رقم وصول نہیں کی جاسکتی۔
پاک و ہند میں ربا کے اس تصور کو غیر روایتی مکتبہ فکر کی طرف سے وقتاً فوقتاً چیلنج کیا گیا ہے۔ اسکی ایک مثال برصغیر میں 1925 میں چلنے والی سود مند تحریک ہے اور 60/70 کی دہائی میں مولانا جعفر پھلواری، جناب عطا اللہ پلوی، سید یعقوب شاہ اور ڈاکٹر فضل الرحمان جیسے سکالرز کا نقطہ نظر ہے۔
غیر روایتی مکتبہ فکر کے نزدیک ربا ہے تو قرض سے مشروط مگر یہ تب ربا کہلائے گا جب اس کے اندر "استحصال" کا عنصر واضح ہو گا۔
روایتی مکتبہ فکر کی نظر میں سود قرض کی اصل رقم کی ادائیگی کے اوپر وہ زائد رقم ہے جو ایک قرض دار قرض خواہ کو ادا کرتا ہے۔ یہ اضافی رقم وقت کی رعایت کی خاطر لی جاتی ہے۔
روایتی مکتبہ فکر کے نزدیک سود کا اطلاق "قرض" کے ساتھ مخصوص ہے۔
سورہ بقرہ آیت 279 ( اصل رقم کے بارے میں ہدایت )
”تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور نہ تمہارا نقصان“
سورہ بقرہ آیت 280 ( وقت کی رعایت کے بارے میں ہدایت )
”اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو“
تو روایتی مکتبہ فکر کی آراءکا خلاصہ یوں ہو گا
1-قرض کی اصل رقم پر کسی طرح کی اضافی ادائیگی چاہے کم ہو یا زیادہ سود / ربا کہلائے گی
taqi usmani2-قرض کی نوعیت اس کے اوپر اثر انداز نہیں ہوتی.... چاہے وہ تجارتی قرض ہو یا عام صارف کا قرض ۔ (مولانا تقی عثمانی 2005 سود پر تاریخی فیصلہ)
3-قرض لوٹانے کے عرصہ کے دوران کرنسی کی قدر میں کسی قسم کا اتار چڑھاو¿ قابل ذکر نہیں ہو گا۔
4-سادہ یا مرکب سود ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔ (مولانا تقی عثمانی 2005 سود پر تاریخی فیصلہ)
5-پیداواری ذرائع کے لیے بھی کرنسی، سونا چاندی وغیرہ کو کرایہ پر نہیں دیا جا سکتا
6-مسلم ریاستوں کے باہم.... نیز مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کے درمیان کسی قسم کی سودی ٹرانزیکشن ممنوع ہے۔ (مولانا ابوالاعلیٰ مودودی )
ایک بنیادی سوال:
ربا قرض کے ساتھ ہی مشروط کیوں ہے؟
کرنسی بھی ایک بنیادی اثاثہ کے طور پر شمار ہوتی ہے تو کرنسی ہی کیوں کرایہ پر دینی ممنوع ہے ؟ باقی اثاثہ جات کیوں کرایہ پر دیے جا سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں 4 اہم وجوہات بیان کی جاتی ہیں
فرسودگی Depreciation
ہر وہ چیز کرایہ پر دی جا سکتی ہے جو فرسودہ ہو سکے مگر کسی پراسیس process میں اپنی شکل قائم رکھ سکے اور کلی طور پر ختم consume نہ ہو سکے۔ زمین، مشینری، عمارت، گاڑی وغیرہ۔۔۔ مگر ایسی اشیاءجو کسی پراسیس کے دوران اپنی شناخت کھو دیں کرایہ پر نہیں دی جا سکتیں۔ جیسے کرنسی، خوراک، خام مال وغیرہ.... (ایم این صدیقی 1968 اسلام کا نظریہ ملکیت)
اعتراض: زر / کرنسی بھی فرسودہ ہوتی ہے۔ تو کم از کم اصل رقم کے ساتھ فرسودگی کی قیمت بھی ملنی چاہیے۔ اس کو کس بنیاد پر حرام کہا جا رہا ہے۔ قرآن یا حدیث میں ایسا کوئی متن نہیں ملتا جس میں ڈیپریسی ایشن کی بنیاد پر فائدہ لینے یا دینے کو حلال و حرام کہا گیا ہو۔
ملکیت میں تبدیلی
ہر وہ شے کرایہ پر لی دی جا سکتی ہے جس کی ٹرانزیکشن کرنے پر حق ملکیت تبدیل نہ ہو سکے۔ (مولانا عبدالرحمن کیلانی 1991 تجارت اور لین دین کے مسائل)
اعتراض: یہ صرف ایک مغالطہ ہے کہ کرنسی کو کرایہ پر دینے سے حق ملکیت تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح تو حق ملکیت تبدیل ہو تو اصل رقم کا مطالبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کرایہ پر جب بھی کوئی اثاثہ دیا جاتا ہے تو اصل مالک معاہدے کے ذریعے عارضی طور پر حق ملکیت چھوڑے گا تو معاہدہ کی تکمیل ہو گی۔
نوعیت میں تبدیلی
اگر کرایہ کے معاہدے کے دوران شے کی بنیادی نوعیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو تو اس پر معاوضہ لینا جائز ہے۔ (مولانا عبدالرحمن کیلانی 1991 تجارت اور لین دین کے مسائل)
اعتراض: اگر میں بنک میں 1000 روپے (کرنسی) جمع کرواو¿ں اور دوسال بعد مجھے 1100 روپے (کرنسی) ملیں تو اس پراسیس کے دوران شے (کرنسی) کی نوعیت نہیں بدلی.... تو کیا وہ 100 روپے زائد بطور ریوارڈ لینا جائز ہو گیا؟
نفع نقصان کا عنصر
اگر کرایہ پر دیے گئے اثاثہ جات کے نقصان کا خطرہ ہو تو اس پہ ریوارڈ لینا جائز ہے۔ کیوں کہ یہ ممکنہ نقصان کی قیمت کہلائے گا۔ کرنسی وغیرہ ایسے کسی نقصان کے خطرے سے مبرا ہوتے ہیں لہذا اس پر کسی قسم کا reward لینا سود کہلائے گا (مولانا تقی عثمانی 1999 اسلام اور جدید معیشت و تجارت)
اعتراض: اگر رسک فیکٹر کی بنیاد پر reward لینا جائز ہے تو جوئے میں رسک فیکٹر بہت ہائی ہوتا ہے سو وہ اس بنیاد پر حلال ہونا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ لہذا یہ جواز بے بنیاد ہے۔
غیر روایتی مکتبہ فکر:
روایتی مکتبہ فکر کے متوازی غیر روایتی مکتبہ فکر نے ربا کی صرف استحصالی شکل کو ممنوع قرار دیا ہے۔ غیر روایتی مکتبہ فکر کا یہ نظریہ مقبول عام نہیں ہو سکا۔
سرسید احمد خان:
سر سید احمد خان سے قبل شاہ عبدالعزیز یہ فتوی جاری کر چکے تھے کہ مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ سودی لین دین کر سکتے ہیں ماسوائے ہندو مذہب کے ماننے والوں کے۔ (سید طفیل احمد 1930 جواز سود میں فتاوی)
مولوی عبدالحئی محلی، علامہ سید ابو اسحاق حنفی، مولانا سید ناصر حسین اور سید نجم الحسن لکھنوی کے نزدیک یہ جائز ہے۔ ان بزرگوں کے نقطہ نظر پر چلتے ہوئے سر سید نے "ربا" کو اس قرض تک محدود رکھا ہے جو کسی غریب / محتاج کو سود کی شرط پر دیا جاتا ہے اور اس سے وہ غریب استحصال کی چکی میں پستا ہے۔ سرسید کے نزدیک کسی امیر سے سود وصول کرنا بالکل جائز ہے۔ سرسید کے نزدیک کسی بھی کاروباری/کمرشل معاملے میں بنک کی سودی ٹرانزیکشن جائز ہے۔
سود مند تحریک:
سید طفیل احمد، مولانا اقبال احمد اور مولوی اکرام کی 1925 میں برصغیر کی اس تحریک نے سود کے بارے میں کافی بنیادی سوالات اٹھائے ۔
سود ہے کیا؟
سود کی حدود کیا ہیں؟
سود جس وجہ سے حرام ہے کیا وہ وجہ اب بھی پائی جاتی ہے؟
کیا سود کی حرمت صرف مسلمانوں کے ساتھ ہے یا غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہے؟
سید طفیل احمد
fazal urehmanان کے نزدیک قرآن نے جس سود کو حرام کہا ہے وہ سود مرکب ہے۔ (دگنا تگنا) اور اسکی ممانعت "استحصال" کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی وجہ سے سود کی ممانعت کے ساتھ صدقات کی، مہلت دینے کی ترغیب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بنیادی ٹیکسٹ میں "ربا" نہیں بلکہ "الربا" کہا گیا ہے جس کا مطلب سود نہیں بلکہ سود کی ایک مخصوص شکل ہے۔
ان علما کے نزدیک تجارتی مقاصد کے لئے لین دین میں کرنسی کے اوپر اضافہ لینا ایک ایسا معاشی فیکٹر ہے جس کے ذریعے اکانومی میں سرمایہ بڑھتا ہے جو مزید پیداوار میں اضافے کا موجب بنتا ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمان:
ان کے نزدیک سورہ آل عمران میں سود کی اس شکل کو واضح کر دیا گیا جو حرام کہی گئی ہے۔ اور یہ مسلمانوں سے ہی مخصوص ہے۔
’اے ےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاو¿ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو۔‘
سید یعقوب شاہ:
ان کے نزدیک بھی "ربا" اور "الربا" میں فرق ہے۔ موخر الذکر استحصال کے ساتھ مخصوص ہے۔
عطاءاللہ پالوی:
ان کا موقف بہت منفرد ہے۔ ان کے نزدیک قرآن میں یہ جو الفاظ ہیں کہ ’سود حرام اور تجارت حلال ہے‘ یہ قرآن نے لوگوں کے الفاظ کو نقل کیا ہے نہ کہ یہ حکم کے معنی میں ہیں۔ ان کے نزدیک ربا کی حرمت سرے سے قرآن سے ثابت ہی نہیں ہوتی کیونکہ قرآن ہر زمانے کے لئے ہے اور ربا روز مرہ کے لین دین کا حصہ ہے۔
مولانا جعفر شاہ پھلواری:
انکے نزدیک بھی ربا کی صرف استحصالی شکل ممنوع ہے۔ مولانا کے بقول نقد بھی ایک اثاثہ ہے اور اگر باقی اثاثوں پر اگر اضافہ لینا جائز ہے تو نقد پر اضافہ لینا بعنیہ جائز ہے۔ اسکی کوئی تاویل نہیں بنتی۔
ان کے نزدیک بنک کا سود مضاربہ پہ ہی قیاس ہو گا جس میں ایک ورکر (عامل) فنانسر (رب المال) کو نفع میں سے مخصوص حصہ دینے کا پابند ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مضاربہ میں وہ غیر یقینی ہوتا ہوتا ہے اور اس میں وہ یقینی ہوتا ہے۔
اور اگر شریعہ میں بے محنت کمائی جیسے کرایہ، مزارعہ وغیرہ حلال ہے تو یہ والی بے محنت کمائی بھی جائز ہے۔
بیع سلم میں اجناس کے اوپر منافع لینا جائز ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے کرنسی کے اوپر بھی منافع لینا جائز ہے۔
jafer shah phulwariجس طرح تجارت میں بیع غرر ( چانس ، غیر یقینیت کی بنیاد پر بیع ) منع ہے حالانکہ عمومی تجارت حلال ہے اسی طرح ربا کی صرف استحصالی شکل منع ہے نہ کہ ہر طرح کا ربا منع ہے۔
غیر روایتی مکتبہ فکر کی آراءپر تنقیدی نوٹ:
"استحصال" exploitation کو غیر روایتی مکتبہ فکر میں ربا کے سلسلے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ یہ نا تو استحصال کو ڈیفائن کر سکے اور نہ ربا کو.... مثلاً زید کے نزدیک فلاں لین دین استحصال کے زمرے میں آتی ہے لہذا حرام ہے.... بکر کے نزدیک یہ ٹرانزیکشن استحصال کے زمرے میں نہیں آتی سو حلال ہے.... یہ بالکل ایک مبہم صورتحال ہو گی.... مطلب استحصال ایک اضافی اصطلاح ہوئی جسکو ناپنا کرنا قریب قریب نا ممکن ہے اور فرد سے فرد تک اس کا اطلاق مختلف ہے۔
دوسرا اعتراض یہ بنتا ہے کہ سورہ آل عمران میں جو ’ دوگنا چوگنا ‘ کہا گیا ہے تو کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میں 99.99فی صد سود لے سکتا ہوں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو / یا ایسا ہی ہے تو "استحصال" کے فیکٹر کو اس میں کیسے فٹ کریں گے؟
اور اگر سود باہمی رضا مندی سے جائز ہے تو اسی پہ قیاس کرتے ہوئے کیا باہمی رضا مندی سے غیر محرم سے جنسی تعلق بھی جائز ہے؟
اور اگلا سوال یہ ہے کہ اگر ربا کمرشل قرضہ جات کے لئے جائز اور ڈومیسٹک کنزیومر قرضہ کے لئے ناجائز ہے تو اس پر کیا کہیں گے اگر کمرشل لون گھریلو لیول اور ڈومیسٹک لون کمرشل لیول پر استعمال کر لیا جائے یعنی اس بنیاد پر ربا کو ڈیفائن کرنا قابل توجیہ نہیں ہے۔
حاصل بحث:
اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ دونوں مکتبہ فکر (روایتی اور غیر روایتی) اس بات پر متفق ہیں ربا قرض کے ساتھ خاص ہے اور یہ وہ مخصوص اضافہ ہوتا ہے جو قرض کے اوپر وقت کی رعایت کے حصول کے لئے رکھا جاتا ہے۔
فرق یہ ہے کہ روایتی مکتبہ فکر قرض پر کسی قسم کا بھی اضافہ سود گردانتا ہے جبکہ غیر روایتی مکتبہ فکر کے نزدیک قرض پہ ہر اضافہ سود نہیں ہے۔ دونوں اطراف کے جائزے کے بعد یہ سوچ ابھرتی ہے کہ "ربا" کی کسی ایک مکمل تعریف پر اسلامی معیشت کے علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ اور اس اختلاف کی اصل جڑ نقد اور دوسرے اثاثوں کے درمیان تفریق کرنا ہے۔ یہ تفریق سراسر اجتہادی ہے جس میں دونوں مکتبہ فکر اپنے اپنے دلائل رکھتے ہیں۔

(یہ تحریر بنیادی طور پر ایک ریسرچ آرٹیکل سے اخذ کی گئی ہے جسے فاروق عزیز ، محمد محمود اور عماد الکریم نے خادم علی شاہ بخاری انسٹی ٹیوٹ کے لئے لکھا۔ اس انگریزی مضمون کا ترجمہ و تلخیص عامر شفیق مغل صاحب نے کیا ہے ۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *