پیمرا کے دونوں چیئرمین بیک وقت متحرک

pemraپاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیشن اتھارٹی (پیمرا) میں افراتفری کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے کہ اس ادارے میں دو چیئرمین ایک ساتھ کام کررہے ہیں، جس کا ادارے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے پندرہ دسمبر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے چوہدری راشد احمد کی پیمرا چیئرمین کے عہدے سے برطرفی کا نوٹس جاری کیا تھا۔

انہیں پیپلزپارٹی کی پچھلی حکومت کی جانب سے 28 جنوری 2013ء کو چار سال کی مدت کے لیے پیمرا کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس حکومت نے 2010ء سے خالی چلے آرہے اس عہدے کو پُر کیا تھا۔

موجودہ حکومت نے چوہدری راشد احمد کو برطرف کرکے ایگزیکٹیو ممبر راؤ تحسین علی خان کو پیمرا کا قائم مقام چیئرمین مقرر کیا۔

بروز منگل سترہ دسمبر کو چوہدری راشد اور راؤ تحسین علی خان دونوں ہی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے لیے آفس پہنچے، لیکن پیمرا آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے کچھ کارکنان نے ان کا راستہ روک کر انہیں آفس میں داخل ہونے سے روک دیا۔

پیمرا کے اندرونی ذرائع کے مطابق بعد میں چوہدری راشد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان حق میں دیئے گئے فیصلے پر عملدرامد کے لیے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ افسران انہیں ان کے آفس میں لے گئے۔ جبکہ راؤ تحسین علی خان نے اپنے پرانے عہدے کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ”پولیس نے چوہدری راشد کے آفس کا تالا توڑ دیا اور دو گھنٹے ان کے ساتھ ان کے آفس میں بیٹھی رہی۔“

بروز بدھ اٹھارہ دسمبر کو معاملہ کچھ ٹھنڈا رہا، اس لیے کہ چوہدری راشد آفس نہیں پہنچے، تاہم جنرل مینیجر میڈیا ریلیشن فخرالدین مغل نے بتایا کہ حکومت نے راؤ راشد کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”اس کے بجائے حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک اپیل سپریم کورٹ میں داخل کردی ہے، اور اس اپیل میں حکم امتناعی کے لیے بھی درخواست کی ہے۔“

فخرالدین مغل نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں ہی جمعرات انیس دسمبر کو اس معاملے کا جائزہ لیں گی۔

بدھ کے روز حکومت نے اپنے وکیل حافظ ایس اے رحمان کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک اپیل جمع کرائی تھی، جس میں چوہدری راشد اور پیمرا کو فریق مخالف نامزد کیا گیا تھا۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ بحیثیت پیمرا چیئرمین کے راؤ راشد کی تقرری غیر شفاف انداز میں کی گئی تھی، چنانچہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے معاہدے کو ختم کردیا جائے۔ حکومت نے واضح کیا کہ چوہدری راشد کی تقرری کا اقدام کی سمری غیرقانونی اور سپریم کورٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ اس سمری سے رولز آف بزنس کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کا مؤقف جانے بغیر چوہدری راشد کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

اس اپیل میں حکومت نے عدالت عالیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرے جس کے نتیجے میں پیمرا میں دو چیئرمینوں کی وجہ سے انتظامی مشکلات پیدا ہورہی ہیں، جو فی الحال اپنے فرائض ادا کررہے ہیں۔

حکومت نے زور دیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کو یہ فیصلہ دینے کا اختیار نہیں تھا، اور یہ بھی کہا کہ ”پیمرا چیئرمین کی تقرری وفاقی حکومت پیمرا کے ترمیمی ایکٹ 2007ء کی شق چھ کے تحت کرتی ہے۔“

اس میں مزید واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چوہدری راشد احمد کی ریٹائرمنٹ چھبیس اپریل 2013ء کو ہونی تھی، اس سے کچھ عرصہ پہلے چار سال کے لیے چیئرمین تعینات کردیا گیا، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *