عمران خان ،سراج الحق اورخواجہ سراﺅں کا کوٹہ

razi uddin raziخیال تھا کہ ہم آج ان موضوعات کو زیرِ بحث لائیں گے جن پر گزشتہ کئی روز سے بوجوہ بات نہیں کر سکے ۔ان میں بعض ایسے موضوعات بھی شامل تھے جن میں کچھ مقامات آہ وفغاں بھی آتے ہیں اور ہم نے جب بھی ان پر قلم اُٹھانا چاہا فسادِ خلقِ خدا کے پیشِ نظر خاموش رہنا ہی بہتر جانا ۔جہلم میں احمدیوں کے گھر اور عبادت گاہ نذر آتش کئے جانے سے لے کر ممتاز قادری کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے جنگی جرائم کے مجرموں کی پھانسی تک بہت سے ایسے معاملات تھے جن سے ہم نے دانستہ صرفِ نظر کیااور ”ہم چپ رہے، ہم ہنس دئے“ کی عملی تصویر بنے رہے باوجود اس کے کہ اس میں کسی کا پردہ بھی مقصود نہیں تھا۔
آج جماعت اسلامی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماﺅں کو ایک ٹرک (فی زمانہ اس کے لئے” ایک صفحے“ کی اصطلاح بھی رائج ہے) پر دیکھ کر بے اختیار قلم اٹھانے کو جی چاہا تو خواجہ سرا درمیان میں آ گئے ۔ پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دینے والے خواجہ سراﺅں کو شکوہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں ان کا کوٹہ مختص نہیں کیا جا رہا۔سو قارئین کرام ہم نے عمران خان اور سراج الحق کے مطالبات کو ایک جانب رکھا اور خواجہ سراﺅں کے مطالبے پر غور شروع کر دیا ۔پہلا سوال یہی ذہن میں ابھرا کہ خواجہ سرا جس کوٹے کا مطالبہ کر رہے ہیں اُ س پر کوئی اور تو قابض نہیں ہو چکا ۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں بہت سے کوٹے اسی طرح استعمال کر لئے جاتے ہیںاور حق دار منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔جس ملک میں خاکروب بھرتی ہونے کے لئے لوگ خود کو غیر مسلم ظاہر کردیں وہاں کچھ بھی بعید از قیاس نہیں ۔سوچ بچار کے بعد نتیجہ یہی نکلا کہ خواجہ سرا بلا وجہ احتجاج کر رہے ہیں ان کے کوٹے پر پہلے ہی بہت سے غیر خواجگان ملازمتیں لے چکے ہیں۔ آپ محکموں اور عہدوں کو سوچتے چلے جائیں ایک سے ایک خواجہ سرا آپ کوکسی نہ کسی منصب پر فائز نظر آئے گا ۔اور جناب اس سوچ بچار کے دوران اگر آپ وطن عزیز کے مقدس اداروں اور عہدوں پرفائز ارباب بست و کشاد کے ناموں کو ذہن میں نہ لائیں تو ہم آپ کے ممنون ہوں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *