تاریخ بڑے کام کی چیز ہے

Jamshed Iqbalکل شب مجھے تاریخ کے ایک بزرگ پروفیسر کا فون موصول ہوا ، جنہیں میری اصلاح عزیز تھی۔ دس سال قبل میں نے سید لطیف کی کتاب ’ملتان کی ابتدائی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ کیا تھا جسے پروفیسر صاحب نے چند روز قبل پڑھا اور اسے میرا تازہ کام سمجھ کر تاریخ نویسی کے کچھ زریں اصول بتائے۔ مثال کے طور پر یہ کہ کسی غیر مسلم کے لئے جمع کا صیغہ استعمال نہ کرو اور جن علاقوں میں مسلمان قابض ہوں انہیں مقبوضہ نہیں، مفتوحہ لکھا کرو۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا انہوں نے تاریخ نویسی کے ان کہنہ نسخوں پر عمل کو ہماری قومی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے فون بند کردیا۔
میں پروفیسر صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور محض اتنی گزارش کرنا چاہتا تھا کہ عصرحاضر میں تشدد اور نسل کشی کے واقعات کا سائنسی مطالعہ کرنے والے ماہرین اس طرز کی تاریخ کو دنیا بھر میں تشدد اور نسل کشی کے واقعات کا باعث قرار دیتے ہیں۔ تاہم میں ان کا اس لئے بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے تاریخ، نسل کشی اور تشدد جیسے بنیادی موضوع کی طرف توجہ دلائی۔
نسل کشی (genocide) شاید زمانہ قبل از تاریخ سے جاری تھی لیکن یہ اصطلاح پہلی بار رافیل لیمکن (1900-1958) نے 1944 ءمیں اپنی شہرہ آفاق کتاب Europe in Occupied Rule Axis میں متعارف کروائی۔ لیمکن کے نزدیک نسل کشی کا مطلب کسی قوم یا نسلی گروہ کا نام و نشان مٹا کر رکھ دینا ہے۔
بعد ازاں 1990ءکی دہائی میں نسل کشی کے مربوط مطالعے کو باقاعدہ سائنس کا درجہ ملا اور لیمکن اس علم کا باپ کہا گیا۔ لیمکن کی کاوشوں سے اقوامِ متحدہ نے نسل کشی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور بہیمانہ جرم قرار دیا۔ لیمکن نے نسل کشی کی تعریف وضع کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی حملہ آوروں کے زاویے سے لکھی ہوئی تاریخ ، نسل کشی اور تشدد کے مابین اٹوٹ رشتوں پر روشنی ڈالی۔ بعد میں آنے والے محققین ، خاص طور پر جان ڈوکر نے لیمکن کے بنیادی تصورات کی روشنی میں حملہ آوروں کی لکھی ہوئی تاریخ میں ا±ن بیانیوں کی نشان دہی کی جو تشدد اور نسل کشی جیسے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر تاریخ نویسی کے جس فارمولے کی سفارش پروفیسر صاحب کررہے تھے اس علم کی اصطلاح میں victimology کہلائے گا ( اگرچہ مستعمل نہیں ہے لیکن اصطلاح کو ہم اپنی سہولت کے لئے ا±ردو میں ‘شکاریات’ کہہ سکتے ہیں )۔شکاری طرز کے تاریخی بیانیوں میں تاریخی واقعات کو شکاری کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر شکاری حضرات جب شاہین کو فاختہ پر وار کرتا ہوا دیکھتے ہیں تو وہ عجیب سا لطف محسوس کرتے ہیں۔
اسی طرح اس طرز پر لکھی گئی تاریخ کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگی اس قدر سستی ہوتی ہے کہ انہیں بے ملال صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکتا ہے۔ شکاری تاریخ سے بعد میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات کو جائز اور مبنی برحق ہونے کی سند مل سکے۔
لہٰذا مورخ سمجھے جانے والے لوگ شکاری طرز کی تاریخ لکھ کر مستقبل میں نسل کشی کی راہ ہموار کررہے ہوتے ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں ، یا پھر دنیا پھر میں ، لوگوں کی تربیت عسکری زاویے سے لکھوائی گئی شکاری طرز کی تاریخ پر کی گئی ہے۔یہ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ لوگ صرف ایسے لوگوں کو مورخ قرار دیتے ہیں جو ان کی اجتماعی انا کی مالش کریں اور انہیں بتائیں کہ صرف وہی ’ترکیب میں خاص‘ ہیں جبکہ دیگر لوگ عام ہیں۔ اسی بنا پر ہمیں مغلیہ تاریخ میں ابو الفضل کی نسبت م±لا عبدالقدیر بدایونی پسند ہے۔ ابوالفضل اس بات پر یقین نہیں رکھتا تھا کہ تاریخ کا مقصد محض مسلمان حکمرانوں کا ریکارڈ رکھنا ہے جبکہ بدایونی ہندوستان کی تاریخ میں م±سلمانوں کے علاوہ کسی کا تذکرہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔
شکاری تاریخ میں کچھ گروہوں کو د±وسرے گروہوں کی جان و مال سے کھیلنے کا حق اس لئے حاصل ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس ایسی اساطیر موجود ہوتی ہیں جو انہیں چنیدہ (chosen) نسل ثابت کرتی ہیں۔ جن خطوں میں تاریخ کی یہ تعبیر رائج ہو، وہاں بیرونی حملہ آوروں کا تصور چنیدہ لوگوں کے طور پر راسخ کیا جاتا ہے اور وہاں تشدد اور نسل کشی کے واقعات یقینی ہوجاتے ہیں۔
چنیدہ لوگوں کو مافوق الفطرت قوتوں کی ہمدردیاں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مظالم کا شکار ہونے والے اور حروفِ غلط کی طرح مٹا دیے جانے والے لوگ بھی اپنے آپ کو ایسی قوتوں کا چنیدہ گروہ سمجھیں ، لیکن طاقتور طبقات مظلوم طبقات کے بارے میں یہ تصور عام کردیتے ہیں کہ اس وقت ماورائی قوتیں ان پر ناراض ہیں۔ یا پھر ان کی شکست اور یہاں تک کہ قدرتی آفات کا قہر ٹوٹنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ شکست خوردہ اقوام سماوی قوتوں اور ارضی روحوں کی درست طریقے سے عبادت نہیں کر رہیں۔ اس لئے ان کی ثقافت ، رسوم اور مذہب کو بزورِ شمشیر پاک کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ میں دو ایسے گروہوں کا ٹکراﺅ بھی ممکن ہے جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو چنیدہ قرار دیتا ہو ۔ تاہم ماورائی قوتوں کے نزدیک چنیدہ ہونے کا فیصلہ ہمیشہ میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر الیگزینڈر ڈاﺅ تاریخ ہندوستان میں لکھتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی ہندوستان میں ہر حملہ سے قبل ایک ٹیلے پر چڑھ کر خ±دا سے مخاطب ہوکر کہتا کہ کل جنگ کا نتیجہ بتائے گا کہ میرا خدا سچا ہے یا پھر ہندوستانیوں کا۔
اگر وہ جنگ ہار جاتا....
لیکن اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ کیونکہ جہانِ جدال و قتال میں خدا کے ایسے ہی عملی تصور کا سکہ چلتا یا چلایا جاتا رہا ہے۔ کیرن آرم سٹرانگ اپنی کتاب ’خدا کی تاریخ‘ میں ایسی کئی مثالیں پیش کرتی ہیں جن میں لوگوں نے ایسے خدا پر یقین کرنا چھوڑ دیا جو کچھ عرصے تک میدان جنگ میں ان کے کام نہ آسکا کیونکہ خدا کے عملی تصور میں خدا کی اصل آزمائش جنگ میں کامیابی دلانا سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر ایک خدا کچھ عرصے تک جنگ میں فتح نہ دلا سکے تو لوگ اس کی جگہ فاتح ، کامیاب اور خوشحال لوگوں کے خدا پر یقین رکھنا شروع کردیتے ہیں۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا کے منظورِ نظر اور راندہ درگاہ ہونے کا فیصلہ ہمیشہ عسکری طاقت کرتی رہی ہے۔ کمزور کا علم جہالت اور طاقت ور کی جہالت علم سمجھ لی جاتی ہے۔ طاقتور اپنی کورچشمی کو بھی بصیرت منوا لیتا ہے اور کمزور کا علم راکھ بناکر اڑا دیاجاتا ہے۔ مفتوحین کی لائبریریاں جلانے کے پیچھے اسی تصور کا ہاتھ تھا کہ شکست خوردہ لوگوں کے پاس اگر کوئی علم ہوتا تو انہیں شکست کا ذائقہ کبھی نہ چکھنا پڑتا۔
شکاریات اور چنیدہ نسل کے علاوہ ارض موعودہ (promised land ) کا بیانیہ بھی تاریخ میں تشدد اور نسل کشی کا باعث رہا ہے۔ اس بیانئے کے مطابق کسی خاص خطے کے لوگ بھٹکتے ، جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرتے آخر کار، مافوق الفطرت قوتوں کی رہنمائی میں ، ایک خطے میں پہنچتے ہیں جس پر قابض ہونے کی بشارت فوق البشر قوتیں دیتی ہیں۔ اگرچہ یہاں پر پہلے سے لوگ آباد ہوتے ہیں لیکن آنے والے گروہ کو ناقابلِ تردید ماورائی سند حاصل ہوتی ہے کہ وہ مقامی آبادیوں کو تہ تیغ کرکے ان کی زمین پر قبضہ کرلیں۔ اس سند کے ماورائی ہونے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نہ اسے ثابت کیا جاسکتا ہے اور نہ رد۔ ایک فریق اسے مطلق سچ اور د±وسرا مطلق جھوٹ مان کر طویل عرصے تک گردن زدنی کا کھیل کھیل سکتا ہے۔
پروفیسر صاحب اسی طرز کی سند کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ مختلف قوموں کے لئے ارض ِ موعودہ کرہ ارض کا کوئی ایک ٹکڑا ہوسکتا ہے لیکن ہمارے لئے پورے کا پورا کرہ ارض ہی موعودہ ہے۔لہٰذا ہم جہاں چاہیں جس پر چاہیں چڑھ دوڑیں۔
ارض موعودہ کے علاوہ تشدد اور نسل کشی کی وجہ بننے والا ایک اور مرکزی بیانیہ یہ ہے کہ حملہ آور دراصل ثقافت متعارف کرانے والے ہوتے ہیں۔ اس بیانیے کے مطابق بیرونی حملہ آور برتر علم کا تحفہ لاتے ہیں کیونکہ مقامی آبادیوں کے پاس نہ کوئی ثقافت ہوتی ہے اور نہ ہی علم۔ مقامی وحشی اور درندے ہوتے ہیں اور کچھ دوراندیش لوگ حملہ آوروں کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ طویل انتظار کے بعد حملہ آورالوہی اقدار کا تحفہ لئے آگ کے دریا عبور کرتا ہوا آن پہنچتا ہے۔
یہ بیانیہ عام ہوجائے تو مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بیرونی حملہ آوروں کی ہمدرد بلکہ رشتہ دار بن جاتی ہے۔ اس تیر بہدف نسخے کی مدد سے حملہ آور مقامی لوگوں کے دل میں شرمندگی پیدا کرتا ہے اور مقامی لوگ شرمندگی کے ناقابل برداشت درد سے نجات پانے کے لئے اپنے آپ کو حملہ آور کی نسل سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ، جو بقول مشتاق احمد یوسفی ، مضبوط قوت ارادی کے بل بوتے پر اپنا مستقبل تو نہیں تراش سکتے لیکن (نادم تخیل کی مدد سے ) اپنا ماضی ضرور گھڑلیتے ہیں۔ ایسا ماضی جو، یوسفی کے نزدیک، ہمارے ڈرامے کا سب سے بڑا ‘ولن’ ہے۔
ہمارے ہاں ایسے کئی مقامی لوگ ملیں گے جو اپنے آپ کو عرب حملہ آوروں کا رشتہ دار قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے نام، رسوم و رواج اور تاریخ پر شرمندہ ہیں ۔ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ ان کا تفاخر ایک اجتماعی نفسیاتی بیماری ہے جسے’جبر کا تسلیم‘ کہا جاتا ہے۔ اس نفسیاتی خلل کا شکار معاشرے اپنے آپ کو اپنی نہیں بلکہ بیرونی حملہ آور کی آنکھ سے دیکھ کر اپنی حقیقی شناخت سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ واسوہ کی کتاب
The founding legend of Western Civilization
اس بیانیے اور اس کے تباہ کن نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
حملہ آور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ زمین یا وسائل چرانے آئے تھے بلکہ اپنی آمد کو خدائی مشیت قرار دیتے ہیں۔ اس لئے مخصوص تاریخ نویسی کی مدد سے وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے خدا یا تو جھوٹے تھے یا پھر حقیقی خدا ان سے روٹھ چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خدا یا خداﺅں نے قابضین کی مدد کی۔ طاقت کے نشے میں چور قابضین یہ نہیں سمجھتے کہ مذاہب اور ثقافتیںاس لئے مختلف ہیں کیونکہ یہ مختلف لوگوں کے لئے ہیں۔
قابض ہونے والے بیرونی حملہ آور اس بات سے واقف ہوتے ہیں کہ ان کے اخلاقی مقام اور مرتبے کو خطرہ لاحق ہے۔ اس لئے انہیں مقبوضہ جات سے ایسے خائن مورخین لینے پڑتے ہیں جو اپنی مقامی شناختوں پر شرمندہ ہوں اور جو قبضے کو فتح کہنے کی قلمی خیانت کر سکیں۔ چونکہ حملہ آوروں کو باطنی بے چینی ختم کرنے کے لئے قصیدوں کا مقوی اور سریع الاثر ٹانک درکار ہوتا ہے اس لئے کرائے کے مورخین ذاتی مفاد کے عوض واقعات کے بطن میں ان بیانیوں کی بارودی سرنگیں نصب کردیتے ہیں۔
تاریخ سے انسان احساس تعلق اور احساس تسلسلontinuity) c sense of) حاصل کرنے آتے ہیں لیکن انہیں صدیوں کی دشمنیاں تحفے میں ملتی ہیں۔ تاریخ کے نام پر ان کا واسطہ شکاریات، چنیدہ نسلیں، ارض موعودہ کا تصور ، ثقافت متعارف کرانے والے اور قابلِ احترام قابض جیسے خون آشام بیانیوں اور ان کے محافظوں سے پڑتا ہے۔بالکل ایسے لوگوں سے جو آج الشمس اور البدر اور کل اجمل قصاب بچا کر ان مہلک بیانیوں کا دفاع کررہے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیتھولک پوپ نے تشدد ، قتل عام اور نسل کشی کے ان تمام واقعات پر معافی مانگ لی ہے جن کا مرتکب کلیسا رہا ہے۔ کیا ہم یہ معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں؟ شاید نہیں۔ کیونکہ اگر ہم یہ معافی مانگ لیں تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اس لئے نہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہم نے معاندانہ تاریخ کی لنگوٹی کے سوا کچھ نہیں بچایا۔
پروفیسر صاحب بھی یہی لنگوٹی بچانے کا مشور ہ دے رہے تھے۔

تاریخ بڑے کام کی چیز ہے” پر بصرے

  • نومبر 30, 2015 at 7:04 PM
    Permalink

    یہ ان ان پروفیسروں کے افکار کا ہی اثر ہے کہ ان کے تربیت یافتہ شاگرد ان کے خودساختہ تاریخی اصولوں سے ہٹ کر کوئی روایت سنتے ہیں تو فورآ ہی گالیوں پر اتر آتے ہیں. جبکہ ان کے استادوں کی عقل ان کے ٹخنوں میں پہلے ہی اترچکی ہے.

    Reply
  • دسمبر 2, 2015 at 8:16 PM
    Permalink

    باقی باتیں تو ٹھیک ھیں مگر چنیدہ نسلوں اور ارض موعودہ کا تصور الہامی ادیان میں بہت معروف ھے اور اس کا تذکرہ بائیبل اور قرآن میں بھی آیا ھے . مگر یاد رھے اس کا مصداق رسول سے متصل ابتدائی نسل ھی ھوتی ھے .

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *