’اسلحے کی اسمگلنگ کا گڑھ‘

arme1بیلجیم میں کلاشنکوف خریدنا ہے؟ بقول نیماک یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس سرب باشندے کا کہنا ہے کہ چند سو یورو میں وہ اس طرح کی ایک گن کا فوری انتظام کر سکتا ہے، جو خریدار کے بتائے ہوتے پتے پر پہنچا دی جائے گی۔ یوگوسلاویہ کے خطے میں متعدد جنگوں میں شرکت کرنے والے سابق سپاہی نیماک نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ وہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ خود نہیں کرتا لیکن یورپ میں کلاشنکوف یا دیگر ہتھیاروں کی اسمگلنگ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایسے لوگوں کو جانتا ہے، جو آتشیں ہتھیاروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔نیماک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تیرہ نومبر کے دن پیرس کے حملوں میں جو خود کار جدید گنیں استعمال کی گئی تھیں، اُس طرح کی گنیں یورپ میں آسانی سے غیر قانونی طور پر کارگو کی جا سکتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ ایسے ہتھیار بلقان کی ریاستوں سے یورپ لائے جاتے ہیں۔

یورپ میں ایک طویل عرصے تک بم حملوں کو سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جاتا رہا ہے تاہم گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ’شامی جہادیوں‘ کی یورپ واپسی کے بعد صورتحال کچھ بدل گئی ہے۔ اب یہ جنگجو کلاشنکوفوں اور دیگر جدید خودکار گنوں سے بھی حملے کر رہے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ایک طویل عرصے تک بلقان کی ریاستوں سے یورپ اسمگل کیا جانے والا اسلحہ مغربی یورپ میں سرگرم مجرمانہ گروہوں کو فروخت کیا جاتا تھا۔ تاہم اب یہی اسلحہ جہادیوں کے ہاتھوں بھی پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔ پیرس حملوں میں استعمال کیے گیے ہتھیار یورپ کیسے پہنچے، یہ ایک سوال ہے لیکن ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ گنیں اسّی کی دہائی کے اواخر میں بلغراد میں بنائی گئی تھیں۔

نیماک نے روئٹرز کو بتایا کہ بہت سے طریقے ہیں، جن کی مدد سے ہتھیار کاروں یا ٹرکوں میں چھپا کر مغربی یورپ اسمگل کیے جا سکتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ سات سو یورو تک یوگوسلاو مینوفیکچرڈ AK-47 بغیر کسی مشکل کے خریدی کا سکتی ہے جبکہ البانیا یا چین کی بنی ہوئی یہی گن ذرا سستی مل جاتی ہے۔ نیماک کے مطابق پستول تو انتہائی سستی ہے، ’’ایک پستول ڈیڑھ سو یورو میں مل جائے گی۔‘‘ اس کے بقول زیادہ جدید اور خودکار ہتھیار بھی اسمگل کیے جاتے ہیں لیکن وہ ذرا مہنگے ہوتے ہیں۔ یورپی پولیس ایجنسی یوروپول کے سربراہ روب وینرائٹ نے دہشت گردی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلقان کی ریاستوں سے مغربی یورپ اسمگل کیا جانے والا اسلحہ جہادیوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ اسے ایک نیا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

armeبیلجیم کی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق اس یورپی ملک میں پولیس ہر سال چھ ہزار فائر آرمز ضبط کرتی ہے۔ پیرس حملوں کے بعد اس حوالے سے خدشات دوگنا ہو چکے ہیں۔ اسی لیے یورپی پولیس نے اسلحے کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں 80 ملین فائر آرمز رجسٹرڈ ہیں۔ اگرچہ یہ خطرناک ہتھیار باقاعدہ لائسنس کے بعد جاری کیے گئے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت یہ ہتھیار کہاں ہیں اور وہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ متعدد اعلانات کے باوجود ایسا امکان کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ یورپی ممالک اسلحے کی اسمگلنگ پر قابو پا لیں گے۔ اس تناظر میں اہم اور تشویشناک امر یہ ہے کہ یورپی یونین کا دارالحکومت برسلز، جہاں مغربی دفاع اتحاد نیٹو کا صدر دفتر بھی ہے، اس غیر قانونی بزنس کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

اسلام پسندانہ انتہا پسندی کے امور کے ماہر بلال بن یعیش کہتے ہیں، ’’اگر آپ کے پاس پانچ سو تا ایک ہزار یورو ہیں تو آپ نصف گھنٹے میں ہی فوجی ہتھیار خرید سکتے ہیں۔‘‘ برسلز میں واقع Itinera انسٹی ٹیوٹ نامی تھنک ٹینک سے وابستہ بلال نے کہا کہ اسلحے کی غیرقانونی بزنس کے تناظر میں برسلز کا آسانی سے کسی بڑے امریکی شہر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم پیرس حملوں کے بعد نیماک اور دوسرے سابق یوگوسلاو فوجی جہادیوں کو اسلحہ فروخت نہیں کرنا چاہتے۔ نیماک کے مطابق، ’’یہ ایک گندا کاروبار ہے۔ سربیا سے کوئی بھی شخص، کوئی بھی مسیحی دانستہ طور پر جہادیوں کو اسلحہ فروخت نہیں کرے گا۔‘‘ پیرس حملوں کے بعد یورپی رہنماؤں کو بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ کچھ گنوں کی وجہ سے کس قدر تباہی پھیل سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *