پائلر نے الزامات کی تردید کر دی

HYDERABAD, PAKISTAN, JUL 02: Pakistan Institute of Labour Education and Research (PILER) Executive Director, Karamat Ali addresses press conference at Hyderabad press club on Monday, July 02, 2012. (Aftab Ahmed/PPI Images).

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے خلاف گذشتہ کئی دنوں سے میڈیا کے کچھ حلقوں بشمول چینل 92، روز نامہ امت، جہان پاکستان، این این آئی نیوزایجنسی و دیگر اخبارات میں ایف بی آ ر کی ایک مبینہ رپورٹ کی بنیا د پر خبریں شائع ہورہی ہیں، جن میں پائلر کے خلاف بھارتی ایجنٹ ہونے اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را (RAW) سے فنڈنگ لینے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ پائلر ان تمام الزامات کو سختی سے رد کرتا ہے ۔
یہ الزامات ایک نجی ٹی وی چینل 92ایچ ڈی نے بغیر تصدیق کیے اور پائلر کا موقف لیے بغیرگذشتہ ماہ 21نومبر بروز ہفتہ نشر کرنا شروع کیے اور مسلسل ہر ایک گھنٹے کی بلیٹن میں جاری رکھا۔ پائلر نے اس چینل کو اس حوالے سے قانونی نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔ بعد میں یہی خبر ایک اور پرائیویٹ چینل اے آر وائی نے بھی نشر کی جس کو بھی قانونی نوٹس بھیجا جا چکا ہے ۔ ایف بی آر کو بھی اس سلسلے میں ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں ان کی انتظامیہ سے گذارش کی گئی ہے کہ مذکورہ رپورٹ کی کاپی مہیا کی جائے اور اگر ایسی کوئی رپورٹ نہیں تو اس کی تردید کی جائے۔
پائلر کا قیام 1982ء میںعمل میں آیا جس کا مقصد جمہوری اور مو¿ثر محنت کش تحریک کو فروغ دینا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرنا ہے۔پائلر ایک موقر ادارہ ہے ، جو کہ کمپنیز آرڈیننس 1984ء(سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ) کے تحت ایک غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی پائلر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں اور دیگر اراکین میں جسٹس (ریٹائرڈ) ماجدہ رضوی، فیصل صدیقی ایڈوکیٹ، ڈاکٹر صبا گل خٹک، ڈاکٹرسید جعفر احمد، ڈاکٹر ریاض احمد شیخ، محمد تحسین، بی ایم کٹی، ڈاکٹر سونو کھنگھرانی، کرامت علی اور شین فرخ جیسے مشہور و معروف قانونی ،تعلیمی ، ترقیاتی ماہرین اور صحافی شامل ہیں۔
پائلر یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ایف بی آر کی جس مبینہ رپورٹ کو بنیاد بنا کر پائلر کے خلاف خبریں شائع یا نشر کی گئی ہیں اس حوالے سے ایف بی آر سمیت کسی بھی سرکاری ادارے نے پائلر سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ پائلر پر لگائے گئے الزامات کا مختصراً جواب مندرجہ ذیل ہے۔
الزام نمبر ۱: ”بھارتی ہائی کمشنر نے پائلر کے معاملات کی نگرانی کے لیے پائلر کے دفتر کا دورہ کیا۔“
پائلر کا جواب: یہ بات بالکل غلط ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر ’پائلر کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں‘۔ بھارتی ہائی کمشنر غیر ملکی سفارت کار ہیں اور ان کا پائلر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ درست ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر نے پائلر کا دورہ کیا تھا ، مگر صرف ایک خاص موقع یعنی 4 فروری 2014ءکو ۔ اخباری رپورٹ میں جان بوجھ کر دورے کا پسِ منظر بیان نہیں کیا گیا۔
zt-newsiv-redاسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمشنر ، ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان کو پائلر کی جانب سے فروری 2014ءمیںیادگاری تختی کی نقاب کشائی کے لیے مدعو کیا گیا۔ یہ تقریب بھارتی راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) کی رکن، معروف سماجی رہنما اور دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی مخلصحامی دیدی نرملا دیش پانڈے کے نام سے پائلر سینٹر کے ایک بلاک کو موسوم کرنے کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی۔دیدی نرملا دیش پانڈے کو پاکستان میں ان کی محبت اوردونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان رابطوں کی حمایت کی و جہ سے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دیدی نرملا دیش پانڈے کو دونوںملکوں کے درمیان امن کے فروغ کی کوششوں پرپاکستان کی جانب سے 23مارچ2010ءکو بعدِ مرگ، پاکستان کا اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ ،ستارہ¿ امتیاز عطا کیا گیا تھا۔ نرملا دیش پانڈے کو، جن کی وفات یکم مئی2008ءکو ہوئی، پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور دوستی کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔ یہ ایوارڈ پاکستان ہائی کمیشن دہلی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں دیدی نرملادیش پانڈے کی بہن کے حوالے کیا گیا تھا۔
بھارتی ہائی کمشنر کے پائلرسنٹر کے دورے کے وقت میڈیا کے نمائندوں سمیت تقریباً200 افراد موجود تھے اور اس تقریب کی خبریں دوسرے دن ایک درجن سے زائد اخبارات میں شایع ہوئیں اور ان کے دورے کے وقت سیکیورٹی کے انتظامات پولیس و دیگر حکومتی سیکیورٹی اداروں نے سرانجام دیے تھے۔
الزام نمبر ۲: ”پائلر کی ملازم محترمہ فرحت فاطمہ کوجھاڑکھنڈ کے ریاستی ہسپتال سے پیسے ملتے ہیں۔“
پائلر کا جواب: پائلر اس الزام کو بھرپور طور پر رد کرتا ہے ۔ محترمہ فرحت فاطمہ جو پائلر کی ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں، کو جھاڑکھنڈ، بھارت کے کسی ریاستی ہسپتال سے پیسے نہیں ملتے۔ 2013ءمیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری، ایمسٹرڈیم نے پاکستان میں محنت کشوں کے حوالے سے مواد اکٹھا کرنے میں سہولت کاری کے لیے پائلر سے رابطہ کیا۔ اپریل 2013ءمیں پائلر نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری کی جنوبی ایشیا ڈیسک کے ساتھ پاکستان میں محنت کش تاریخ کے حوالے سے مواد اکٹھا کرنے میں سہولت کاری کے سلسلے میں معاہدے پر دستخط کیے۔
01-Karachi-ACHA-Peace-Star-Awards-Ceremonyپائلر نے یہ ذمہ داری محترمہ فرحت فاطمہ کو تفویض کی۔ پائلر کو اس کے عوض انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری، ایمسٹرڈیم کی جانب سے رانچی ، جھاڑکھنڈ میں متعین انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری جنوبی ایشیا ریجن کی نمائندہ ڈاکٹر کتھنکا سنہا ۔کر ک ہوف کی ہدایت پر اپریل 2013ءسے دسمبر 2014ءتک فی ہفتہ دو دن کے کام کے لحاظ سے معاوضے کی ادائیگی کی جاتی رہی۔ یہ علاقائی دفتر بھارت میں سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکٹری ، رانچی، جھاڑکھنڈ کی حدود میں واقع ہے جہاں ڈاکٹر کتھنکا کے خاوند ملازمت کرتے ہیں۔ دستاویز میں یہ واضح طورپرریکارڈ کیا گیا ہے کہ گرانٹ کی رقم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری کی طرف سے بھیجی گئی نہ کہ ڈاکٹر کتھنکا سنہا کی جانب سے جو کہ خود انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ہسٹری ، ایمسٹرڈیم کی ایک ملازمہ ہیں۔
الزام نمبر ۳: پائلر بھارتی غیر سرکاری تنظیموں سے فنڈز وصول کرتا ہے۔
پائلر کا جواب: یہ غلط ہے۔ پائلر بھارتی غیر سرکاری تنظیموں سے فنڈز وصول نہیں کرتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرح بھارتی غیر سرکاری تنظیمیں خود مغربی ممالک کی غیر سرکاری تنظیموں سے فنڈز وصول کرتی ہیں اور وہ اتنی حیثیت کی حامل نہیں ہوتیں کہ غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کو فنڈ کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پائلر نے جنوبی ایشیا ئی ممالک یعنی بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور پاکستان میں گھر سے کام کرنے والے محنت کشوںکے ایک نیٹ ورک، ہوم نیٹ ساو¿تھ ایشیا (ایچ این ایس اے)کے تحت ، پاکستان میںہوم بیسڈ ورکرز پر ریسرچ میں تین بار حصہ لیا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مرکزی دفتر احمدآباد، بھارت میں ہے۔ پائلر ، ہوم نیٹ جنوبی ایشیا اور ہوم نیٹ پاکستان، دونوں کا رکن ہے۔ پائلر نے ہوم نیٹ جنوبی ایشیا سے تحقیق کی مد میں سروس چارجز وصول کیے تھے۔
الزام نمبر ۴: پائلر فوکس آن گلو بل ساو¿تھ سے پیسے وصول وصول کرتا ہے۔ فوکس آن گلوبل ساﺅتھ را (RAW)کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔
فوکس آن گلوبل ساو¿تھ، ایشیائ، افریکا اور لاطینی امریکا کے ترقی پذیر ممالک کی عوامی تحریکوں اور افراد کا ایک باوقار نیٹ ورک ہے ، جو 1995 میں قائم ہوا تھا۔ فوکس آن گلوبل ساو¿تھ کا ہیڈکوارٹرز تھائی لینڈ میں واقع ہے۔ ان کے چیئرمین ڈاکٹر والڈن بیلو عالمی شہرت یافتہ دانشور اور فلپائین کی پارلیمینٹ کے ایک رکن ہیں۔ یہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو نیو لبرلزم، ملٹری ازم اور کارپوریٹ سیکٹر کی سرکردگی میں جاری گلوبلائزیشن کو انصاف پر مبنی اور مساوی متبادلات کے ذریعے چیلنج کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ پائلر اس کے نظریے سے متفق اور اس کے مشن کا حامی ہے۔ فوکس آن گلوبل ساﺅتھ کا جنوبی ایشیا کے لیے دفتر ممبئی بھارت میں ہے۔ فوکس آن گلوبل ساﺅتھ کو را (RAW) کا ایک ذیلی ادارہ قرار دینا کسی شرانگیز ذہن کی اختراع ہے۔ پائلر کے کاموں میں فوکس آن گلوبل ساﺅتھ سے کوئی مالی امداد نہیں لی گئی۔
پائلر پیپلز سارک نیٹ ورک کا ایک فعال رکن ہے جو سرکاری سارک کو فعال بنانے کے لیے جنوبی ایشیا کے ممالک میں عوامی رائے کو متحرک کرنے کا کام کرتا ہے۔ سرکاری سارک کے اجلاس کے موقعے پر عوامی سارک کی کانفرنس منعقد کی جاتی ہے۔ پائلر ان کانفرنسز میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کے لیے سہولت کاری کے فرائض انجام دیتا ہے۔ گلوبل ساو¿تھ کی جانب سے 2012ءمیں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے پیپلز سارک متوازی اجلاس میں پاکستان وفد کے فضائی ٹکٹس کے لیے عطیہ دیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *