غیر قانونی سفارتی پاسپورٹس کا اجراء: رحمان ملک کے خلاف نیب کی کارروائی متوقع

Rahman malikپاکستان کے سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کو پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں غیر قانونی سفارتی پاسپورٹس جاری کرنے پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے ایک نئی تفتیشی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس آج متوقع ہے جس میں باضابطہ تفتیش کے سلسلے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اور ان کی وزارت میں شامل افراد پر قواعد کی خلاف وزری کرتے ہوئے تقریباً دو ہزار سے بھی زائد سفارتی پاسپورٹس غیر قانونی طریقے سے جاری کرنے اور ان پاسپورٹس کے اجراء کی مدت میں منصوعی تاخیر پیدا کرکے اربوں روپے کمانے کا الزام عائد ہے۔

جب نیب کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر کے خلاف انکوائری کے آغاز سے متعلق نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی ترید۔

اس سلسلہ میں خود سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سے متعدد بار کوششوں کے باجود رابطہ قائم نہ ہوسکا۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ جولائی 2010ء سے رواں سال فروری کے درمیان تقریباً دو ہزار سفارتی پاسپورٹ یا تو بااثر افراد یا پھر نااہل حکام کو ہر پاسپورٹ پندرہ سے بیس لاکھ کی بھاری قیمت میں فروخت کیے گئے۔

ان شکایاتوں میں سابق وفاقی وزیر اور وزارتِ داخلہ کے سینیئر حکام کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن پر سفارتی پاسپورٹس کی فروخت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

راوں سال 21 مئی کو محکمہ امیگریشن کے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار چیمہ نے رحمان ملک پر پاسپورٹس کی تیاری میں مصنوعی تاخیر پیدا کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 اپریل کو جب انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا تو تقریباً سات لاکھ پاسپورٹس زیرالتوا تھے اور پاسپورٹ آفس میں کرپٹ حکام اور مافیا کی ملی بھگت سے مقررہ تاریخ کے اندار اندر اس کی تیاری کے لیے دس سے پندرہ جبکہ فوری بنیادوں پر 20 سے 25 ہزار روپے وصول کیے جارہے تھے۔

نیب کو بتایا گیا تھا کہ امریکی پاسپورٹ کی فروخت کا سلسلہ 2010ء میں شروع ہوا تھا جو فروری 2013ء تک جاری رہا جب سیالکوٹ میں تین افراد کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ ظاہر نہ کرنے پر امیگرییشن کے عملے نے ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *