گول گپے والا آیا....

raazia syedٹھیلے کی چیزیں کھانے کی میں کبھی شوقین نہیں رہی ، لیکن بعض ریڑھی بانوں کی تیارکردہ چیزیں اتنی مزےدار ہوتی ہیں اس کا اندازہ مجھے کل ہی اپنی کولیگ کے محلے میں گول گپے کھا کر ہوا ۔ کھٹا میٹھا پانی جس میں پودینے ، املی ، چینی ، مرچوں سمیت دھنیا بھی شامل تھا ، ساتھ ہی بڑے سائز کے گول گپے جن کو تھوڑا سا توڑ کر ان میں دہی بھلوں کا مصالحہ اور اجزا شامل کئے گئے تھے ۔،قصہ مختصر کہ وہاں ہم نے گول گپے کھائے اور ریڑھی بانوں اور ٹھیلے والوں کے بارے میں میری رائے تبدیل ہوئی ۔ اس لئے کہ بیشتر ریڑھی والے بہت کم اجرت پاتے ہیں لیکن قناعت کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔
امریکا میں ٹھیلے کو push carts کہا جاتا ہے ، یہاں پر ٹھیلوں اور ریڑھیوں پر چیزیں بیچنے والوں میں سے اکثر عربی اور ترکی ہیں جبکہ مصریوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے ۔جن کے کھانوں میں مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ کچھ دیسی کھانوں کی جھلک بھی ہے ۔ ٹھیلوں پر مختلف اشیائے خوردو نوش کا ایک جہاں دکھائی دیتا ہے ، خواہ وہ کراچی کے علاقے انچولی میں دل پسند نامی چاٹ ہو جس کی قیمت تو محض پچاس روپے ہے لیکن کم و بیش سو افراد اسے خریدتے ہیں اور اس کے ذائقے کو دنوں یاد رکھتے ہیں ۔ راولپنڈی میں کشمیر روڈ صدر کے گول گپے ، بابو بازار کے دہی بھلے اور ویسٹریج میں مرغی کی دمچیاں بہت مشہور ہیں ۔ ان ریڑھیوں پر آپ کو ہر وقت ایک سا رش دکھائی دے گا ۔
ریڑھیوں اور ٹھیلوں پر نمکین اور میٹھے گول گپے اور دہی بھلے ، چنا چاٹ ، پٹھورے ، مونگ پھلی ، ریوڑی ، کئی اقسام کے کباب ، مشروبات اور کئی دیگر اشیا شامل ہیں ۔وہاں موجود کئی افراد نے مجھے بتایا کہ کئی بڑے ہوٹلوں میں اتنا لذیذ کھانا نہیں بنتا جتنا عمدہ اور لذیذ یہاں دستیاب ہے
اور میڈم جی دیکھیں کہ ہر بندہ تو بڑے ہوٹلوں کا کھانا افورڈ نہیں کر سکتا ۔ایک ریڑھی والا جو اتنی دیر سے ہمیں نوٹس کئے ہوئے تھا ،نے کہا کہ آپ ہمیں پوچھیں کہ ہم کس طرح گزارا کرتے ہیں ۔ روز روز ہماری بکری نہیں ہوتی اور اگر ہونے بھی لگتی ہے تو تجاوزات کا بہانہ بنا کر بھتہ وصول کیا جاتا ہے ۔ کمیٹی والے ہمیں تنگ کرتے ہیں اور کمائی سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے ۔جہاں تک لوگ ان ٹھیلوں پر گندگی کی بات کرتے ہیں ، ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ ہمارے پاس سرمایہ ہو اور ہم صاف ستھری جگہ پر ہوٹل کھول لیں ۔ آخر کب تک کھلے آسمان تلے ہم گندگی سے ان چیزوں کو محفوظ رکھیں ؟ اگر ہمارے ٹھیلے الٹ دئیے جاتے ہیں تو بڑے بڑے ہوٹلوں پر چھاپے کیوں نہیں مارے جاتے ؟
اب اگر ایک نظر ٹھیلے والوں سے ہٹا کر خود پر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ضرورت مند طبقہ ہوتا ہے جو عید اور دیگر تہواروں پر بھی اپنے لئے روزگار کا بندوبست کرتا ہے اور موسمی حالات بھی ان کے کارروبار کو متاثر کرتے ہیں ۔ لیکن یہ کہاں کا اصول ہے کہ شروع میں اچھی اور معیاری اشیا بنا کر لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیا جائے اور بعد میں چنوں کے سالن کی ایک پلیٹ تیس روپے سے دو ہفتے گزرنے کے بعد پچاس روپے تک کر دی جائے اور چیزوں کا معیار بھی گرا دیا جائے ۔ کئی دفعہ کا بچا ہوا کھانا بھی نہایت ہوشیاری سے نئے گاہکوں کو دے دیا جاتا ہے۔ مختلف مواقع پر ان کی چاندی ہو جاتی ہے جیسا کہ گذشتہ دھرنوں کے دوران دیکھا گیا ہے کہ پانی کاایک گلاس چالیس روپے ، سالن کی ایک پلیٹ ایک سو پچاس روپے اور روٹی بیس روپے تک انقلابیوں کو فراہم کی جاتی رہی ۔ یہی حال میں نے وکلا تحریک کے دوران میڈیا کوریج کرتے ہوئے دیکھا کہ وہاں ہمیں بھی منرل واٹر کی ایک بوتل چالیس سے پچاس روپے تک ملتی رہی ۔ جبکہ بیکری آئٹمز کا حال سب سے سوا تھا۔ جب ہم نے احتجاج کیا تو وہاں پیٹیز فروخت کرنے والے ایک خوانچہ فروش نے کہا کہ جناب قیمت توزیادہ ہی ہو گی ناں کیوں کہ یہ شپریم کوٹ ( سپریم کورٹ ) ہے ۔بات یہ ہے کہ نہ مکمل طور پر ہم درست ہیں نہ ہی خوانچہ فروش ، دونوں طرف تھوڑی تھوڑی غلطیاں ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے ....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *