اپنے بھی خفا مجھ سے، بیگانے بھی ناخوش

abid mirامریکہ میں ’ہفتہ آزادی اظہار‘ (Free Speech Week) کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ کام کرتا ہے، جو ہر سال اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں اس سلسلے میں ایک سرگرمی منعقد کرتا ہے، جس کا بنیادی مقصد آزادی اظہار کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس ایونٹ میں افراد سے لے کر مختلف ادارے سبھی حصہ لے سکتے ہیں جو اس بنیادی انسانی حق کی ترویج پر یقین رکھتے ہوں۔ یہ تحریر و تقریر کے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی قسم کے خوف اور دباو¿ سے بالاتر ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ حالاں کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں 1791ءمیں یہ قانون منظور کیا جا چکا اور آج لگ بھگ ہر شہری نہ صرف اس سے آگا ہ ہے بلکہ اس کاوقتاًوقتا ًاستعمال بھی کرتا رہتا ہے، لیکن سنوڈن کے واقعہ کے بعد یہ ثابت ہو چکا کہ دنیا کا یہ ترقی یافتہ ملک بھی اپنے شہریوں کے اس بنیادی حق پہ چوری چھپے ڈاکہ ڈالتا رہتا ہے۔ آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اسے ایک مختلف قسم کے دباو¿ اور خوف سے تعبیر کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت مختلف ذرائع سے شہریوں کی نگرانی اور جانچ کے نظام کو وسعت دے رہی ہے، جس سے عقائد، نظریات اور افکار کے آزادانہ اظہار سے متعلق ایک اَن دیکھی خوف کی فضا جنم لیتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل آزادی اظہار کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے اس کی حدود بھی متعین کرتی ہے۔ اس بابت اس کی ویب سائٹ پر موجود متن کی یہ آخری بات کیسی شان دار ہے کہ ”آزادی اظہاروہ اہم ترین حق ہے جس کی سب سے زیادہ غلط تفہیم کی گئی ہے، اپنے آزادی اظہار کے حق کو اُن کے حق میں بولنے کے لیے استعمال کیجیے جن کی کوئی نہیں سنتا،لیکن اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیجیے، یہ طاقت ور ترین شے ہے!“
اس کی طاقت سے متعلق ہی سندھ کے مہان کوی شیخ ایاز نے کہا تھا کہ حرفِ حق ہر آمر کے سینے میں کسی خنجر کی طر ح اترتا ہے۔ اسی لیے آمر ہمیشہ حرف حق کی صدا کو مقید کرتا ہے۔ یہ عمل مگر المیہ تب بن جاتا ہے، جب حرف کی قوت کی علم بردار و پاس دار قوتیں ہی اس پہ قدغن لگانے پہ تل جائیں، اس سے خوف زدہ ہونے لگیں یا منہ موڑنے لگیں۔ امریکہ کی مثال اسی لیے دی گئی کہ امریکہ بہادر دنیا بھر میں آزادی اظہار کا علم بردار بناپھرتا ہے، تحریر و تقریر پہ ایسی قدغن کسی بنیاد پرست حکومت والے ملک میں ہو تو کچھ اچنبھا نہیں ہوتا، مگر یہ سب جب ’مہذب‘ امریکہ میں ہورہا ہو تو تشویش جائز ہے۔ اس تشویش کا اظہار ہمیں امریکی دانش ور نوم چومسکی کی تنقیدی تحریروں میں جا بجا ملتا ہے۔ اسی طرح اگر ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کا اندرونی چہرہ دیکھنا ہو تو افتادگانِ خاک کی کہانیاں بیان کرنے والی اروندھتی رائے کی تحریریں پڑھیے۔ پاکستان میں ماضی میں ایسی مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب ریاست اور حکومت کے عوام دشمن رویوں پہ اہل قلم نے ضمیر کی آواز پہ لبیک کہا۔حبیب جالب کو یاد کیجیے۔ ایوب کے دستور کو ماننے سے انکار کر دیا، یحییٰ خان کو للکارا، آمروں سے تو اس کا نظریاتی اختلاف رہا، بھٹو میں متبادل نظر آیا تو اس کے گن گائے مگر اقتدار میں آکر اس قائد عوام نے جب عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالنا شروع کیا تو اس کے خوب لتے لیے۔ بے نظیر کے لیے ’بندوقوں والوں‘ کے سامنے ’نہتی لڑکی‘ کا استعارہ لائے، مگر جب وہ بھی عوام دشمن اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بنی تو ’پاو¿ں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘ کہہ کر اسے بھی رد کر دیا۔ آزادی اظہار کی یہ صورت جمہوریت پسند کسی حکمران کو نہ بھائی اور جالب اور جالب جیسے سبھی دیوانے اہلِ اقتدار کی نظروں میں سدا معتوب رہے۔یہ جالب ہی کا جگر تھا جو ایک زمانے میں بلوچستان میں آمریت کا استعارہ سمجھے جانے والے نواب اکبر بگٹی کو مخاطب کر کے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کی چتاونی دے سکتا تھا اور یہ ظرف بھی اسی بگٹی کا تھا کہ وہ اس کے آزادی اظہار کی قدر کرتے ہوئے اس سے خفگی کا اظہار تک نہ کرتا تھا۔
ہمارا بلوچستان تو ابھی پچاس برس پہلے تک سرداروں اور خوانین کے زیر اثر تھا، جہاں سردار ہی حرفِ اول و آخر ہوا کرتا تھا( اور آج بھی ہے)، عام آدمی کو زبان دینے والے یوسف عزیز سے غوث بخش بزنجو تک ان کے ہاں معتوب ہی رہے۔ خوانین سے نکلے تو ہماری سیاسی تحریک آغاز ہی سے بندوق برداروں کے ہاتھ آ گئی، اور بندوق بردار مکالمے پر کم ہی یقین رکھتے ہیں۔ بندوق دراصل مکالمے کی موت کا اعلان ہی تو ہے۔ سو‘ ہمارے ہاں دلیل اور مکالمے کی روایت پنپنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ ہمارے ہاں مکالمے کے میدان کے آخری لوگ غوث بخش بزنجواورگل خان نصیر تھے۔ایک کو شدت پسند شاگردوں کے ہاتھوں شکست نے ماردیا، دوسرے کو’گل خاتون‘ جیسے جگر بریدہ القاب نے۔ ’بابائے مذاکرات‘ اور ’گل خاتون‘ جیسے طنزیہ خطاب ، دلیل اور مکالمے سے متعلق ہمارے اجتماعی رویوں کی چغلی کھاتے ہیں۔ بلوچستان میں آزادی ءاظہارکا میدان صرف قصیدہ نگاروں کے لیے کھلا ہے؛ خواہ قصیدہ نگار سرکاری ہو یا ’سرمچاری‘۔ یعنی ہر دوصورتوں میں قلم کو کسی ایک طاقت ور قوت کے ہاں رہن رکھ دیا جائے۔ آزاد رائے کسی صورت ممکن نہیں۔ حالانکہ ہر دو صورتوں میں بھی موت کی تلوار ہمہ وقت آپ کے سر پہ لٹکتی رہتی ہے، اور جب موقع ملے مخالف قوت اسے آپ کی گردن پر گرا بھی دیتی ہے۔ ڈاکٹر چشتی مجاہدسے لے کر پروفیسر صبا دشتیاری تک درجنوں مقتولین کا خون ناحق بندوق کے سامنے دلیل کی بے بسی کا نوحہ ہی تو ہے ۔
اس آگ و خون کے درمیان ایک دہائی سے مسلسل ایک آزاد خیال لکھاری کے بطور دونوں قوتوں سے واسطہ پڑنا فطری تھا۔ کبھی کسی نے دھمکایا، کبھی کسی نے اٹھوایا، کبھی کسی نے گالم گلوچ کی، کبھی کسی نے گریبان پکڑا، کسی نے قبیلے کا طعنہ دیا، کوئی زبان کے دشنام پہ اتر آیا، کسی نے ’غائب‘ کرا دیا، کسی نے حب الوطنی کا درس پڑھا دیا۔ بارہا ایسا ہوا کہ کسی ایک قوت کی حکمت عملی کی ناکامی پر سوال نے اسے برہم کردیا۔ ایک قوت کی کسی عوام دشمن سرگرمی پر تنقید نے اسے برافروختہ کر دیا۔ ریاست اور اُس سے برسرپیکار قوتیں، ہر دو نے کسی قسم کے سوال اور تنقید سے خود کو ماورا قرار دے دیا۔ سوال اٹھانے والوں کو دنیا سے ہی اٹھا دیا.... اس سارے تجربے نے اس نتیجے پر پہنچایا کہ طاقت کے سامنے دلیل بے بس ہے۔ جو سیاست کو طاقت کے تابع کرنا چاہے، اس سے مکالمہ بے کار ہے۔ اسی لیے ایک زمانے میں طاقت کی حمایت کو ’حماقت‘ جانا اور جمہور کی سیاست اپنانے والوں دوست سمجھا۔ سمجھ آیاکہ سیاست ہی جمہوری کی منزل کی َاور جانے والامسلسل دلیل اور مستقل مکالمے کا ا ن تھک رستہ ہے۔ اس میں مختلف رائے رکھنے کا مطلب مخالفت یا غداری نہیں۔ اس میں اختلاف کی سزا موت نہیں۔ اسی بنا پر سیاست کے حق میں لکھا، سیاسی قوتوں کے حق میں لکھا۔آمرمزاج ’شفیق‘سرداروں کے سامنے سخت مزاج کے ’مالک‘ سیاست دانوں کی حمایت میں لکھا۔ مگر جہاں سیاست، جمہور کی بجائے طاقت ور قوتوں کے ہاں سرنگوں ہو گئی، وہاں سے جالب کی روایت کی پاسداری لازم ٹھہری۔ مدعا سیاست کی تردید نہیں، اس طرزِ سیاست پہ حرف اٹھانا ہے جو جمہوری سیاست پر عوام کے اعتبار کو مجروح کرتا ہے۔ ایک آزاد خیال لکھنے والے کو ہمیشہ عوام کے حق میں ہونا چاہیے؛ عوام کے حق میں ہونے والی ہر سرگرمی کی مدح اور ہر عوام دشمن قدم کی تردید میں پیش پیش۔
پاکستان میں حال ہی میں ،ایک زمانے میں بندوق اور اب مکالمے پر یقین رکھنے والے ،بندوق بردارسے اہل قلم کا سفر طے کرنے والے میر محمد علی تالپور کے بلوچستان سے متعلق ایک معاصر انگریزی روزنامہ میںآزادانہ اظہار خیال کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کی تحریروں کی اشاعت سے معذوری کا اظہار کیا گیا اوریہاںجب بغرض اصلاح لکھے گئے آزاد خیال تنقیدی سیاسی تجزیوں کودشمنی پر محمول کیا گیا اور دوستوں کے ہاں تنبیہ نما شکایت بھیجی گئی تو جالب یاد آئے۔ انھیں بھی کچھ دوستوں نے یہی مشورہ دیا تھا کہ، ’ہم سے کہتے ہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو / جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو‘۔ تب خود کو خود حوصلہ دیتے ہوئے اسی دیوانے جالب نے لکھا تھا:”دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ ،سچ ہی لکھتے جانا/مت گھبرانا مت ڈرجانا، سچ ہی لکھتے جانا/پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دبنا کیا جھکنا / آخر سب کو ہے مرجانا، سچ ہی لکھتے جانا“
تحریر و تقریر پہ یہ قدغنیں جب تحریر و تقریر کی آزادی کے علم برداروں کے عہد میں، انھی کے ہاتھوں ہو رہی ہوں توپھر ازالے کی کوئی راہ بھی نہیں رہتی،کس کو وکیل کیا جائے، کس سے منصفی چاہی جائے،خود اپنے ہاتھ سے لگائے زخم کا مرہم کہاں ڈھونڈا جائے: ’زخم دل کہاں لے جاو¿ں، تیر اپنا، جگر اپنا....‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *