خبر یہ ہے کہ....

ammar masoodخبر یہ ہے کہ نریندر مودی نے دنیا کو امن کا پیغام دے دیا ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے ذات ، برادری ، رنگ ، نسل ، اور ذات پات سے ماورا ہو کر تمام انسانوں کو مساوی قرار دے دیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو سب سے بڑی اقلیت کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد انہوں نے مسلمانوں کو انکے مذہبی فرائض آزادی سے ادا کرنے کا حوصلہ دیا۔تشدد اور دہشت کی سیاست کی حوصلہ شکنی کی۔ اس اعلان کے بعد اداکارعامر خان وطن واپس آگئے ۔اس کے ساتھ ہی نریندر مودی کو امن کے عالمی نوبل انعام کے لیئے نامزد کر دیا گیا۔ بھارتی اقلیتوں اور تخلیق کاروںنے نامزدگی کے اس فیصلے کی بھر پور حمایت کر دی۔
خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ میٹرو کے علاوہ بھی ملکی ترقی کے راستے ہیں۔ایک اعلانیے میں بتایا گیا کہ سڑک کی اہمیت اپنی جگہ مگر صحت ، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اعلان میں مزید بتایا گیا کہ وزیر اعظم آئندہ تقاریر میں عوامی ضروریات پر زیادہ بات کریں گے اور عوام پر سرکاری پیسے کیے ذریعے کئے گئے احسانات نہیں جتائیں گے۔
خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے دھاندلی کے الزامات کبھی نہ دہرانے کا عزم صمیم کیا ہے۔ ایک اعلی سطح کے پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ماضی کی غلطیوں کو بھول کر ایک بہتر مستقبل کے لیئے کام کیا جائے گا۔ جو بھی کارکن یا رہنما اب دھاندلی کا نام لے گا اسکی پارٹی سے بنیادی رکنیت معطل کر دی جائے گی اور اس سے سرعام معافی منگوائی جائے گی۔
خبر یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے قوم سے اپنے خطاب کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ دس منٹ مختص کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ خطاب پر رابطہ کمیٹی نے بھی احتجاج کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھائی نے گلوکاری اور تقریر میں تقسیم کا بنیادی فیصلہ بھی کر لیاہے۔ سیاسی امور میں نہاری کی موجودگی پر بھی اعتراضات کو تسلیم کر لیا گیاہے۔
خبر یہ ہے کہ وزیر اعلی پنجاب نے تقاریر میں جگہ جگہ انگلی اٹھانے سے پر ہیز کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیٹیوں کی تشکیل اور افسران کی معطلی سے اجتناب کا بھی اعلان کیا گیا۔ کلام حبیب جالب پر بھی رحم کی درخواست مان لی گئی۔بارشوں میں ڈوبے لاہور میں لانگ شوز کے ساتھ فوٹو سیشن پر بھی قوم سے معافی مانگ لی گئی۔
خبر یہ ہے کہ پنجاب پولیس نے اخوت ، مساوات اور بھائی چارے کو اپنا نصب العین قرار دے دیا ہے۔عوام سے عزت و احترام سے پیش آنے کا وعدہ کیا گیا۔تھانوں میں چھترول اور ڈرائنگ روم جیسی قبیح روایات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ پولیس مقابلوں میں ملزموں کو پھڑکانے کی روایت بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ اعلانات عادی مجرموں کے ایک خیر سگالی وفد کی موجودگی میں کئے گئے۔
خبر یہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے ترقیاتی کام کا آغاز کر دیا۔ اندرون سندھ جگہ جگہ سکول ، کالج اور یونیورسٹیوں کھل گئیں۔ عوام کو طبی سہولیات بروقت پہنچانے کے لیئے ہر قصبے اور گاوں میں اعلی معیار کے ہسپتالوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ تھر کے ریگستان میں ہزاروں ٹیوب ویل لگا دئیے گئے۔غریب اور مستحق افراد کے لیئے سرکاری سطح پر وظائف کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
خبر یہ ہے کہ صدر ممنون حسین نے چپ کا روزہ توڑ دیا۔ایک اہم مراسلے میںبتایا گیا کہ اب وہ اہم قومی دنوں پر جلوہ افروز ہونے کے علاوہ بھی عوام کو رونمائی کی سعادت بخشیں گے۔ صدر اب اپنے عہدے کے اختیارات استعمال بھی کریں گے ۔حکومت وقت کی خامیوں پر سرزنش کر نے کے علاوہ اہم قومی معاملات پر مداخلت کریں گے۔ اپوزیشن کی رہنمائی کرنے کے علاوہ جمہوریت کی بقا کے لیئے صدق دل سے کام کریں گے۔
خبر یہ ہے کہ اداکارہ میرا کے ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔لاکھوں لوگوں کا مفت علاج شروع ہو گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں بل کلنٹن بوجوہ شامل تھے۔ دیگر معزیزین میں بل گیٹس، شاہ رخ خان اور شیخ رشید نے بھی شرکت کی۔تقریب میں مقررین نے میرا کی اداکاری اور سماجی خدمات کو سرایا۔ ہسپتال کا افتتاح کیپٹن نوید نے اپنے دست مبارک سے کیا۔
خبر یہ کہ مولانا فضل الرحمن نے ڈائیٹنگ شروع کر دی ۔ حلوے سے اجتناب اختیار کر لیا۔روزانہ ورزش شروع کر دی۔ باڈی بلڈنگ کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا عندیہ بھی دیا ہے۔ مزید براں آئندہ ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کے لیئے سو میٹر ریس میں میڈل جیتنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔
خبر یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کے چئیر مین شہریار خان نے بالاخر فیصلہ کر لیا ہے کہ بھارتی ٹیم کے ساتھ سیریز کھیلنے سے اہم قومی غیرت اور حمیت ہے۔ اب وہ بار بار قوم کو بھارتی ٹیم کے دورے کی نوید سنانے کے بجائے برابری کے تعلقات کے اصول کو اہمیت دیں گے۔ ملک کے لئے بدنامی نہیں، نیک نامی کمائیں گے۔ ایک کرکٹ سیریز کی خاطر ملکی وقار کو زک نہیں پہنچائیں گے۔
خبر یہ ہے کہ معرف ماڈل ایان علی کو گرفتار کر لیاگیا ہے اور جیل میں ان کے ساتھ عام قیدیوں والا برتاﺅ کیا گیا۔زنانہ پولیس کے تعاون سے ڈرائنگ روم کی ایک ہی سیر نے ان کے اگلے پچھلے تمام جرائم اگلوا لئے۔ ملک سے لوٹی گئی دولت برآمد کروا لی گئی۔ خفیہ رہ جانے والے بڑے بڑے نام منظر عام پر آگئے۔ مجرمان کو قرار واقعی سزا سنا دی گئی۔پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے بھی اس موقع پر شکرانے کے طور پر ایک گائے کی قربانی کی۔
خبر یہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور فوج کو الزام دینے کے بجائے خود اپنی حالت زار پر غور کریں گے۔ اپنی غلطیوں اور خامیوں کی خود نشاندہی کریں گے۔ ایک عزم صمیم کے ساتھ محنت، دیانت ، امانت، صداقت اور شرافت کو شعار بنائیں گے۔ اپنے حالات خود درست کریں گے۔ اپنی خامیوں سے سبق سیکھیں گےاور آئندہ سے اپنے زور بازو پر بھروسہ کریں گے۔
مندرجہ بالا سب خبریں خیال ہیں ، گمان ہیں، خواب ہیں ،خوش گمانیاں اورجھوٹ ہیں ۔ ان سے بھی زیادہ حیران کن اور سچی خبر یہ کہ
سابق صدر آصف علی زرداری اربوں کی کرپشن کے مقدمات سے بری ہو گئے۔ نہ کوئی گواہ پیش ہوا نہ کوئی دستاویزی ثبوت مل سکا ،نہ جرم کا نشان ملا نہ لوٹی ہوئی رقم برآمد ہوئی، نہ فرد جرم عائد ہوئی اور نہ ہی سزا مل سکی۔
اس سچی خبر سے میرے اور آپ جیسے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو روز صبح ناشتے کی میز پر اخبار پڑھتے ہیں۔ الماری سے پسند کا لباس منتخب کرتے ہیں۔ گاڑی پر بیٹھ کر دفتر جاتے اور تین وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں۔ اس خبر کے اصل متاثرین وہ ہیں جن کی نسلیں انصاف کی تلاش میں دربدر ہو گئیں۔ جن کے خاندان کے خاندان عدالتوں میں رل گئے ۔ جن کی چھوٹے جرائم میں برسوں ضمانت نہ ہو سکی۔جن سے جیلوں میں تمام کردہ نا کردہ جرائم قبولوائے گئے۔ جن کے بچے تھانوں میں تھرڈ ڈگری کے استعمال سے جان سے گذر گئے۔ یہ سب بدقسمت، بے کس، مجبور، بدحال اور مفلس لوگ ہم سے انصاف کی آنکھوں پر بندھی پٹی کا سوال کرتے ہیں۔ اس خبر کے سچ ہونے کا ملال کرتے ہیں۔

خبر یہ ہے کہ....” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 4, 2015 at 6:47 PM
    Permalink

    خبر یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت نے ہندوستان میںبڑھتی ہوئی عدم رواداری اور عدم برداشت کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اپنی اصلاح احوال کا اعلان کر دیا ہے ۔ریاست نے اپنے اس عزم کا اظہار کر دیا ہے کہ وہ پاکستانی احمدیوں کو برابر کا شہری سمجھے گی۔پاکستان میں کسی تفریق کے بغیر ایک ہی ووٹر لسٹ ہو گی۔ملازمتوں میں کسی کا مذہب دیکھ کر فیصلہ نہی کیا جائے گا۔خبر یہ ہے کہ پاکستانی مسیحیوں کو مسلمان اپنے برابر بٹھا کر ایک ہی برتن میں کھا پی رہے ہیں۔خبر یہ ہے کہ پاکستان میں ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔خبر یہ ہے کہ ہمارے ہاں تنقیدی شعور بڑھ رہا ہے۔کاش کسی دن یہ سب خبریں کسی اخبار میںبھی شائع ہو جائیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *