ہم ذات میں خود اک گاﺅں تھے! (2)

waqar ahmad malikابھی چھٹی میں تھوڑی دیر تھی، میں گم سم اپنی جگہ بیٹھا رہا۔
کبھی کبھی کن انکھیوں سے استاد جی کی طرف دیکھتا جو ابلے ہوئے انڈے کھا رہا تھا۔ استاد جی کی نظر بچا کر کبھی کبھی کوئی طالبعلم مجھ پر فقرہ کس دیتا۔
جب چھٹی کی گھنٹی ہوئی تو میں نے اپنی بوری سمیٹی اور کمرے میں پھینکی ۔
بستہ اٹھایاجو کندھے پر ڈالتا تھا تو وہ میرے ٹخنوں تک آتا تھا۔
تختی کبھی میں بستے میں ڈال لیا کرتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑ لیتا تھا۔ بستے میں تختی ڈالنے سے ایک الجھن کا سامنا گھر پہنچنے تک یوں رہتا کہ بستہ تختی کی وجہ سے میرے گھٹنے سے ٹکراتا رہتا۔ بڑی الجھن کے ہوتے ہوئے چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو منہا کر دینا عقلی فیصلہ ہوتا ہے۔ اس دن میں نے تختی ہاتھ ہی میں پکڑی۔
میں اور میرا تایا زاد بھائی اور دوست آصف اکھٹے گھر جایا کرتے تھے۔ سکول سے کوئی بیس کھیت عبور کرنے کے بعد گھر آتا تھا۔
ہم سیدھے راستے گھر نہیں آتے تھے بلکہ کھیتوں سے شارٹ کٹ مارتے ‘ راستے میں بیر توڑتے‘ آصف شدید گرمیوں میں درخت پر بیٹھے کسی طویل ٹیں ں ں کرتے بینڈے کو پکڑتا‘ کبھی کسی ’تیلو‘ کی شامت آجاتی ۔وہ یہ تیلو ایک ڈبی میں اکٹھے کرتا کہ اس کے تیتر کی خوراک تھی۔
میںہل چلائے کھیتوں میں مٹی کے بڑے ڈھیلوں کو تختی سے توڑتا رہتا، کبھی اچانک بلاوجہ ہم کشتی لڑنا شروع کر دیتے ۔
اس وقت گالیوں کی لغت انتہائی مختصر تھی بلکہ تھی ہی نہیں ۔گالیوں کی پیچھے چھپی معاشرتی حوالے سے دبی ہوئی جنسی خواہشات کا ہمیں کیا علم ہونا تھا۔
ہر بچے کا جملہ حرامی سے شروع ہوتا تھا یا حرامی پہ ختم لیکن اس لفظ کو ہم کوئی گالی نہیں سمجھتے تھے۔بس یوں سمجھئے ایک طرز تخاطب تھا اوربعض اوقات ایک فقرے میں تین سے چاربار بن بلائے در آتا تھا۔ حرامی کی فریکوئنسی بات کی نوعیت طے کرتی تھی ۔
004 (1) اوئے حرامی ذرا بات سننا....
کیا ہے حرامی....
حرامی یہ تسمہ باندھنا....
چل اوئے حرامی تجھ سے یہ حرامی تسمہ بھی نہیں باندھا جاتا....
ٹھہر میں ذرا یہ حرامی بینڈا پکڑ لوں....
اگر بینڈا پکڑا گیا تو بھی۔۔ حرامی پکڑا گیا۔۔ اگر اڑ گیا توبھی .... حرامی اڑ گیا

بینڈا چاہے بگ بینگ سے دوبارہ علت و معلول کا سلسلہ شروع کر کے بھی اپنے طرفین اجداد کی شرافت پر قائل کرلے ۔۔تب بھی حرامی۔
اور اس طرح ،تیلو بینڈے پکڑتے اورحرامی حرامی کرتے ہم اس شارٹ کٹ راستے کو طویل کر دیتے تھے۔
آصف میرا تایا زاد تھا.... میرا بھائی تھا .... لیکن اس سے بڑھ کر آصف میری مجبوری تھا.... میری مدد کرتا تھا
اگر تسمے کھل جاتے تو مجھے تسمے باندھنا نہیں آتا تھا۔ازاربند باندھنا نہیں آتا تھا۔ تختی کے لیے اچھی سیاہی کیسے بنتی ہے اس کا فارمولہ آصف کے پاس تھا ۔ کانے کی قلم کی نب پر قط کہاں لگانا ہے یہ بھی آصف جانتا تھا۔
تساہل پسندی میری اولین محبت تھی۔
سوچنے کی عیاشی ، معمولات دنیا میں کمزور کر دیتی ہے۔
لیکن وہ دن مختلف تھا۔
اس دن آصف میرے ساتھ نہیں چلتا تھا۔مجھ سے آگے چلتا تھا۔تقریبا دوڑتا تھا۔بینڈے کی ٹیں ، یا صحت مند پھدکتا تیلو۔۔ کوئی آصف کی رفتار میں آہستگی نہیں لا سکتا تھا۔
میں نے تھوڑی دیرکے بعد پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔ہر بچے کی طرح آصف کو گھر پہنچ کر یہ بتانے کی جلدی تھی کہ وقار کو استاد جی سے مار پڑی ہے۔
آصف اس دن بغیر تیلو پکڑے مجھ سے پہلے گھر پہنچ گیا۔
گھر پہنچتے ہی سانس لینا اور پانی پینا مستقبل پر اٹھا رکھتے ہوئے، آصف نے ترجیحی بنیادوں پر تھپڑ کی کہانی سنا دی۔
قسمت خراب ہو تو بدترین اتفاقات ہوتے چلے جاتے ہیں یا شایدمسلسل بد ترین اتفاقات ہی خراب قسمت بن جاتے ہیں ۔
آصف کی یہ کہانی میری امی یا آصف کی امی اکیلے میں سنتیں تو آج راوی ان صفحوں پر کیا لکھ پاتا؟
ان صفحات کو کالا کرنے کے لیے فلک کے بندوبست کی داد دیجئے کہ آصف جب ہانپتا کانپتا گھر پہنچا تو امی اور ان کی جیٹھانی ایک ہی چارپائی پر بیٹھی سویٹر بننے میں مصروف تھیں۔
میں نے دور سے دیکھا۔ گھر کی کچی دیوار جو قد آدم نہیں تھی وہاں میری امی اپنی جیٹھانی کے ساتھ کھڑی ان کھیتوں کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے میں آرہا تھا۔
میں نے رفتار مزید سست کر دی۔
زندگی میں رفتار سست کرنے سے آپ آتی قیامتوں کو ٹال نہیں سکتے لیکن قیامت سے پہلے چند گھڑیاں ادھار لے کر اپنے آپ کوذہنی طور پر تیار ضرور کر لیتے ہیں ۔
امی شدید غصے میں تھیں ۔

نہ انہیں اس بات کا رنج تھا کہ مجھے سکول میں نالائقی پر مار کیوں پڑی ہے اور نہ ہی اس بات کا غم کہ تختی کیوں نہیں لکھی تھی۔
انہیں غصہ اس بات پر تھا کہ جیٹھانی کے بیٹے نے آکرکیوں یہ سارا واقعہ خوشی سے بتایا تھا۔
007گھر کی حدود سے آدھا فرلانگ پہلے ہی مجھے امی کی آواز سنائی دی۔۔”پھنے خان ‘ تو ذرا مجھ تک پہنچ، بتاتی ہوں تمھیں!“
پانچ سالہ پھنے خان ٹخنوں تک بستہ لٹکائے ، ایک ہاتھ میں تختی پکڑے ،نیچے قدموں کو دیکھتا آہستہ آہستہ چلا آرہا تھا۔
تختی کی ہتھی اس آدھافرلانگ طے کرنے کے دوران پسینے سے بھیگ گئی تھی لیکن یہ سب اندرونی کشمکش تھی ۔
فلک گواہ ہے کہ پھنے خان کی چال کے اندر جوخاص تمکنت تھی اس میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
گھر پہنچتے ہی امی نے کمال استقبال کیا۔
بظاہر مجھے لیکن درحقیقت جیٹھانی کو خوب پیٹا۔
طوفان تھمتے تھمتے آدھا گھنٹہ لگ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد میں اور آصف سب کچھ بھلا کر، گھر سے تھوڑا دور ایک گھنی بیری کے درخت کے نیچے بیر چن رہے تھے اور ان گیدڑوں کو حرامی حرامی کہہ رہے تھے جو گرے ہوئے اچھے بھلے بیروں کا ستیا ناس کر دیتے تھے۔
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *