کراچی شہر کس کا ہے؟

husnain jamal (2)مہربان پڑھنے والو۔ دنیا کے مختلف معاملات پر روزانہ ان گنت بزرجمہر اس فقیر سمیت دانش بگھارتے ہیں، کیوں نہ اپنے گھر میں ایک نظر جھانک لیا جائے۔ آج شہر کراچی کے زمینی حقائق بلکہ بنیادی مسائل کی بات کر لیتے ہیں۔ کیا پنجاب میں رہنے والے دوستوں کو شہر کراچی کی حرکیات اور نفسیات کے بارے میں کچھ بھی اندازہ ہو سکتا ہے؟ یقین جانیے ہرگز نہیں۔ آپ کتنی بار وہاں گئے۔ کتنا عرصہ وہاں گزارا، بنفس نفیس وہاں کے حالات کس قدر دیکھے اور وہاں آپ کے دوستوں کی تعداد کتنی ہے، فقیر کے خیال میں یہ امور آپ کی رائے کراچی شہر اور اس کے رہنے والوں کے بارے میں بہتر طے کر سکتے ہیں۔
بھائیو، ذرا غور کیجیے، آپ کو پانی کا استعمال کرنے سے پہلے سوچنا پڑے تو کیا ہو گا۔ آپ فراغت پا کر اٹھے اور مژدہ ہوا کہ نل ہوا دے رہا ہے، پانی نہیں آئے گا۔ آپ کا ارادہ نہانے کا ہوا اور پانی اتنا ہے کہ اس میں ڈوب کے مر تو جائیں، نہانا ممکن نہ ہو۔ گرمی لگ رہی ہے، شاور کھولا، آدھے نہا لیے، پانی ختم۔ صابن ملے باہر آئیں۔ کھانا کھایا، ہاتھ دھونے چلے، پانی ندارد۔ وضو کرنے کے واسطے جائیں اور تیمم کر کے واپس آئیں۔ اور اس سب سے بچنے کا حل کیا ہو؟ یہ مجلس اس لیے پڑھی بھئی کہ ذرا بنیادی ترین ضرورت کی فراہمی کا المیہ دیکھ لیں پھر باقی معاملات گنوائے جائیں۔
کالم جذباتی ہو رہا ہے۔ یارو، غضب خدا کا، پانی نہ ملے اور ہم فلسفے بگھارتے جائیں۔ ٹھیک ہے، کچھ خوش قسمت علاقے ایسے ہوں گے جہاں پانی کھلا نصیب ہو گا۔ لیکن باقی اتنے بڑے شہر کا مسیحا کون ہو۔
ٹینکر!!!
جی ہاں، تین ہزار سے لے کر بارہ ہزار روپے تک میں پانی کے ٹینکر دستیاب ہیں۔ آپ جس علاقے میں رہتے ہیں اس کے حساب سے آپ کو نرخ دئیے جائیں گے۔ پانی کا ٹینکر منگوائیے، گھر میں بھروا لیجیے اور اگر چار نفوس کا بھی خاندان ہے تو اندازہ کر لیجیے کتنے دن چل سکتا ہے وہ ٹینکر۔ پھر جن دنوں پٹرول کی قلت ہے یا ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال ہے، تو بھی آپ گئے کام سے۔ گویا شہری ایک ایسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں جس کا ہم لوگ ادھر پنجاب یا سرحد میں بیٹھ کر سوچ بھی نہیں سکتے۔ پھر سال میں کچھ دن ایسے بھی آئیں گے جب ٹینکر عنقا ہو جائیں گے۔ سفارشوں پر آپ کو پانی ملے گا، جتنی تگڑی سفارش اتنی جلدی پانی آپ کے دروازے پر۔ ایسے میں جو سیاسی جماعت صرف آپ کا یہ مسئلہ حل کر دے، کیا آپ اسے ووٹ دینا پسند نہیں کریں گے؟
یہ رونا تو ہو گیا عام استعمال کے پانی کا۔ بات کیجیے پینے کے پانی کی۔ وہ بھی ایسی آزادی نہیں جیسی آپ کو یا ہمیں میسر ہے۔ جب دل کیا ٹونٹی سے پانی بھرا، پیا، منہ صاف کیا، چل میرے بھائی۔ وہاں تو آپ ایسی جرات کر ہی نہیں سکتے۔ شدید کھارا پانی اور نہ معلوم کتنا حصہ اس میں سیوریج کے پانی کا ہو گا۔ تو گویا پینے کا پانی بھی الگ سے خریدیں۔ اب اگر نہانے کا پانی بھی پلے سے خریدنا پڑے اور پینے کا بھی، تو قارئین، آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنا ماہانہ بجٹ باعزت چلا پائیں گے؟
جی جی سب معلوم ہے۔ ارباب نظر کہتے ہوں گے کہ بھئی سیدھے سیدھے ٹینکر مافیا کے خلاف کیوں نہیں لکھتے کہ کون لوگ ہیں اور کیسے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ساتھ ملی بھگت کر رکھی ہے۔ تو بھئی جملہ ارباب نظر سے التماس ہے کہ جب آپ سب جانتے ہیں اور اہل اقتدار بھی جانتے ہیں تو یہ مسئلہ پھر بھی حل نہ ہونا کیا کھلا تضاد نہیں؟
اب آئیے سٹریٹ کرائم کی طرف۔ دنیا کا وہ شہر جو ایک محتاط اندازے کے مطابق پندرہ سے بیس سال بعد سب سے زیادہ آبادی کا حامل ہو گا، اس شہر میں خوف کا یہ عالم کہ آپ سگنل پر گاڑی بھی چوکنے ہو کر روکتے ہیں۔ قیمتی موبائل چھپا کر اور سستے والا ان مہربانوں کے لیے رکھتے ہیں جو کسی بھی وقت دست سوال ایک عدد ہتھیار کے ساتھ دراز کر سکتے ہیں۔ جیب میں زیادہ پیسے لے کر نہیں چل سکتے۔ موٹر سائیکل یا گاڑی نئے ماڈل کی رکھنے سے ڈرتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کے معاملے میں رقم عموماً یہی "شوشا" دیکھ کر طے کی جاتی ہے۔ اپنے گارڈ ساتھ رکھنے کے باوجود مستقل ایک پریشانی کا عالم ہے۔ گھر میں بھی آپ چھتیس دفعہ تالے دیکھتے ہیں کہ ٹھیک سے لگے یا نہیں۔ تو اس سب میں کیا دماغی سکون کی امید کی جا سکتی ہے؟
پھر ٹرانسپورٹ مافیا کی بات کر لیجیے۔ کبھی پنجاب میں آپ نے دیکھا کہ آئے روز ڈبل سواری پر پابندی لگتی ہو اور وہ بھی ایسے اچانک کہ آپ کو معلوم ہی نہ ہو۔ آپ دفتر جاتے ہوئے دھر لیے جائیں، چالان الگ، خواری الگ۔ ایسا بھی شہر کراچی کا آئے دن کا دستور ہے۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ ایک دن ڈبل سواری بند کرنے سے بس والوں کی کیسی چاندی ہوتی ہے۔ فرض کر لیجیے کہ ایک لاکھ موٹر سائیکل سوار اس پابندی سے متاثر ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ جانے والے لوگ سڑک پر آگئے۔ اب یہ ایک لاکھ لوگ جب پبلک ٹرانسپورٹ پر آئیں گے تو آپ اندازہ کر لیجیے کیا کمائی ہو گی۔ ان میں کے چند بدنصیب جگہ نہ ملنے پر چھت کے سوار ہوں گے۔ پیسے پورے دیں گے، سواری کا مزہ چھت کا ہو گا۔ واضح رہے 2009ءکے اعداد و شمار کے مطابق کراچی ایک کروڑ اسی لاکھ نفوس کا شہر ہے۔ یہ ایک لاکھ محض فرض کی گئی تعداد ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی رکھنے والے اس شہر کے اپنے طالب علم سرکاری تعلیمی اداروں میں بیس فی صد کوٹے سے بھی کم کے حق دار سمجھے جاتے ہیں۔ سندھ کے دیگر اطراف و جوانب سے کوئی بھی طالب علم ان سے کم نمبر لے کر کوٹہ سسٹم کے تحت باآسانی داخلہ لے سکتا ہے۔ گویا آنے والی نسلیں تعلیم کے لیے بھی اپنے ہی شہر میں نجی تعلیمی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ کیوں، کیوں کہ آپ کے والدین بڑے شہر میں رہتے ہیں، وہ زیادہ کما سکتے ہیں، زیادہ پیسہ بھر سکتے ہیں۔ یا، ارباب اختیار زیادہ طاقتور ہیں۔ صرف دو مثالیں دیکھ لیجیے؛
این ای ڈی میں کراچی کے طلبا کا کوٹہ 7 فی صد ہے۔ اندرون سندھ والے 60 فی صد کے حق دار ہیں، سیلف فنانس 15 فی صد، میرٹ 10فی صداور باقی 8 فی صد دیگر صوبوں کا ہے۔
سندھ میڈیکل کالج اور داود یونیورسٹی میں کراچی کا کوٹہ 5 فی صد ہے، اندرون سندھ کوٹہ 55 فی صد، میرٹ 20 فی صد، سیلف فنانس 15 فی صد اور دیگر صوبے 5 فی صد کے حق دار ہیں۔
اب آئیے بجلی کے مسئلے پر تو چلیے وہ تو آج کل سب ہی برابر بھگتتے ہیں۔
ٹریفک جام، انفراسٹرکچر کی بحالی، بھتے کی پرچی آنا، اشیائے خورونوش میں شدید ملاوٹ، فضائی آلودگی دیگر بڑے مسائل میں سے ہیں، جن پر کالم کی تنگ دامانی فی الحال بحث کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہاں، کراچی کے شہریوں پر آپ اس ہر وقت کے خوف اور پریشانیوں سے طاری ہونے والے اثرات بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ خود کراچی والے ہیں تو صاحب آپ کی ہمت کو سلام۔
صاحبان فہم و ذکا، ایک تصویر کراچی شہر کی آپ کے سامنے پیش کر دی۔ اب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آپ کیسے یہ پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ کون سیاسی جماعت کس کے ساتھ مخلص ہے۔ دیکھیے، جو سیاسی جماعت کراچی والوں کے درج بالا مسائل حل کرے گی وہی ان کے ووٹ کی حق دار ہو گی۔ بار بار ہو گی اور ہونا بھی اسے چاہیے۔
تو اہلیان پنجاب و خیبر پختون خواہ، اب کوئی کراچی کے بے ضرر علاقوں میں جلسے کرتا پھرے یا کسی مذہبی نظام کی برکات گنواتا رہے، کراچی ہمارے خیال سے اسی کا ہو گا جو کراچی کے مسائل حل کرے گا۔

کراچی شہر کس کا ہے؟” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 5, 2015 at 4:06 PM
    Permalink

    بہت درست تصویر کشی فرمائی جناب نے.
    ایک پہلو یہ بھی ہے
    ایک جماعت پچھلے تیس سال سے اس شہر کے لوگوں کی نمائندہ رہی ہے. مرکز اور صوبے میں متعدد بار براجمان رہی ہے. اس کے نامزد کردہ گورنر نے شاید گورنری کی مسلسل مدت کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے.
    ایک عرصے تک اس پارٹی کی مرضی کے بغیر یہں پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا.
    اس سب کے باوجود مسائل کی یہ سنگینی؟؟؟ آخر کیوں.
    شاید اس لیے کہ اس کے بھگوڑے سربراہ اور دوسرے لیڈروں کو اپنے ووٹروں کی تکلیفوں کا احساس ہے نہ پرواہ.
    سبھی بھتہ خوری کے ذریعے اپنی تجوریاں بھر رہے اور بابر غوری وغیرھم کی طرح اپنی کلاس چینج کرنے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنوارنے کے مق مقدس مشن کی تکمیل میں مشغول ہیں.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *