نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا

abdul Majeedبردار بزرگ ایک نابغہ روزگار شخصیت اور مقبول کالم نگار ہیں۔ گفتار کے ایسے غازی کہ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دیں، تحریر کا طور بھی ایسا کہ گویا روم کے دربار میں خطابت کر رہے ہوں۔ رعونت کا یہ عالم کہ دیو جانس کلبی بلبلا اٹھے۔ معاشیات میں ایڈم سمتھ اور کارل مارکس کے کان کترتے ہیں۔ نفسیات کی بات ہو تو فرائڈ اور ایڈلر سے کم حوالہ نہیں دیتے۔ اردو ادب میں راشد اور منٹو سے جا الجھتے ہیں۔ ریاضی میں فیثا غورث، عمر خیام اور خوارزم کے جلال الدین کو بالشتیا گردانتے ہیں۔تاریخ کی بحث میں ابن خلدون ، فلپ ہٹی اور ایڈورڈ گبن کو شرمندہ کرتے ہیں۔ ایسا غضب کا ڈرامہ لکھتے ہیں کہ آغا حشر قبر میں بے چین ہو
جاتے ہیں۔ علم کلام میں ابن رشد کے ہم پلہ تصور کئے جاتے ہیں۔ منطق ان کے گھر کی باندی ہے۔ان کے قلم کی ضرب سے مائیکل انجیلو کا ’ڈیوڈ‘ لرز اٹھے۔ الفاظ سے نقشہ کھینچنے کے ایسے ماہر کہ خالی کمرے پر قیصر وکسریٰ کے دربار کا گمان ہونے لگے۔ عربی اور فارسی مےں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کی علمیت کے ڈنکے نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر بجتے ہیں۔ اگلے وقتوں میں ہوتے تو مملکت خداداد میسور میں ٹیپو سلطان کے اتالیق مقرر کئے جاتے یا صلاح الدین ایوبی کی فوج میں چوب دار۔ اورنگ زیب کے خاص الخاص مشیر ہوتے یا احمد شاہ ابدالی سے خلعت یافتہ۔ سراج الدولہ کے ہم رکاب ہوتے یا فرغانہ کے بابر کے ہم مشرب۔ان کی ایک للکار غنیم کی صفوں کو تہہ وبالا کر دیتی ہے۔ وضع قطع قرون اولیٰ کے بزرگوں جیسا، باریش چہرہ، خضر صورت، شجرہ کھولیں تونجیب الطرفین۔
پیش گوئیوں میں ملکہ حاصل ہے اور نعمت اللہ شاہ ولی کے بعد وہ اس زمانے کے قطب ہیں۔سینہ مسلم امہ کے درد سے بھرپور ہے (حکیم لقمان نے اس درد کو درد زہ سے زیادہ موذی لکھا تھا)۔ صبح خیز ہیں اور نہار منہ یونانی فلسفے کی کتب سے ناشتہ فرماتے ہیں۔ مسلم تشخص کے علم بردار ہیں، دو قومی نظریے میں گندھے ہوئے اور اسلامی نظام کے مدح سرا۔ مغربی جمہوریت سے خاص طور پر کد رکھتے ہیں۔ بقول مرشد ، ’کیسا مبارک زمانہ ہے جس میں ایسے منتخب روزگار انسان موجود ہیں۔ ‘امریکی استعمار، یہودی سازش اور مغربی نظام معیشت کا نام سنتے ہی لال بھبوکا ہو جاتے ہیں اور بے ساختہ ایران توران کی ہانکنے لگتے ہیں۔تحریر میں جذبات کے بے جا استعمال پر ہمارے دوست جارج گھسیٹے خاں پھبتی کستے ہیں کہ برادر بزرگ ’شہنشاہ جذبات‘ بننے کے چکر میں ’ملکہ جذبات‘ بن جاتے ہیں۔ کچھ ناقدین کو اعتراض ہے کہ موصوف کے چونچلے سرکاری افسر ہونے کے باوجود کسی قصباتی علاقے کے پیش امام جیسے ہیں۔ سیکولر ازم اور لبرل حضرات سے اتنے نالاں کہ ان سے کم ازکم دس کوس کا فاصلہ رکھتے ہیں (ناقدین کا کہنا ہے کہ برادرم عقل سے بھی اتنے ہی کوس کے فاصلے پر ہےں) اور اگر خدانخواستہ کوئی ایسا فرد مل جائے تو ان پر تشنج کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
برادر بزرگ نے اگلے روز ایک مضمون بعنوان ’آبلے پڑ گئے زبان میں کیا‘ تحریر کیا۔ کالم کیا لکھتے ہےں، طبل جنگ پر چوٹ لگاتے ہیں۔ قلم کے ایک وار سے کشتوں کے پشتے لگا دیتے ہےں۔ ’جرا¿ت اظہار اور آزادی¿ افکار ‘کے علم برداروں کی ملک دشمنی پر خوب جرح کی ہے۔ دو قومی نظریے کے دفاع میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ ملکی سلامتی اور خود داری کی مثال اپنے پسندیدہ ملک افغانستان سے مستعار لی۔ احمد شاہ ابدالی سے بات شروع کی اور طالبان کی مدح سرائی پر ختم ہوئی۔ طالب علم کا سوال ہے کہ موجودہ افغانستان کی تاریخ میں نادر شاہ کی فتوحات(قندہار انہی دنوں اس سلطنت کا حصہ بنا)، سکھ فاتحین کی پیش قدمی (جس کے باعث موجودہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ سکھوں کے قبضے میں آئے)، انگریز سے لڑی جانی والی جنگیں، ڈیورنڈ لائین کا قیام، تحریک ہجرت کے دوران امیر امان اللہ خان کا کردار پس پشت ڈال دیا جائے تو برادر بزرگ کا موقف کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ نکتہ معترضہ سہی لیکن اگر قومیت کے لئے مثال بھی آپ کو افغانستان ہی ملتی ہے تو پھر جنگ عظیم کے دنوں کا وہ پنجابی لطیفہ یاد آتا ہے کہ ’اگرگل سرگودھے کے ملکوں تک آگئی اے تے صلح کر لوﺅ‘۔
دو قومی نظریے کی حقانیت سے انحراف کرنے والے پاکستان کو بھارت میں ضم کرنے سے زیادہ سیاست اور مذہب کے امتزاج پر معترض تھے اور ہیں۔ فاضل دوست کے بیان کے مطابق اگر بھارت کے مسلمان اب پچھتا رہے ہیں تو کیا دہلی کے پاکستانی سفارت خانے کے باہر ویزہ کے لئے درخواست دینے والوں کی قطار لگی ہے؟ کیا مشرقی پنجاب اور راجھستان کے پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں مسلمان خط تقسیم کے اس پار آنے کو بے قرار ہیں؟ اگر ایسی صورت حال نہیں تو حضور والا ڈان کے خوٹے کا روپ دھارنا بند کیجئے، سانچو پانزا سے عبرت پکڑیں۔ آپ جناب ابھی تک بنگالیوں کے استحصال کو ’پروپیگنڈہ‘ قرار دیتے ہےں۔ حکومت پاکستان ہر سال ایک معاشی رپورٹ جاری کرتی ہے۔ تقسیم کے بعد والے چوبیس برس کے اعداد وشمار کا مطالعہ کریں، گر طبع نازک پر گراں گزرے تو حسن ظہیر کی اس موضوع پر لکھی کتاب کی ورق گردانی بھی تشفی بخش ہو سکتی ہے۔ تاریخ سے کھلواڑ کا ایک رخ آپ کی تحریر میں بنگالی حقوق کی تحریک کے دوران ’پنجابی، سندھی، بلوچی ، پشتون اور سرائیکی‘ حقوق کی عدم موجودگی سے متعلق ہے۔ سرکاری تاریخ کے علاوہ کوئی بھی کتاب اٹھا لیجئے، نیشل عوامی پارٹی نامی ایک جماعت کا نام ملے گا، جو آپ کے بیان کردہ علاقوں کے حقوق کی بات کرتی تھی اور انہی دنوں کرتی تھی جب بنگال کی دھرتی آپ کے مرغوب دو قومی نظریے کی بھینٹ چڑھائی جا رہی تھی۔مشرقی پاکستان پر بھارت کا حملہ آپ کو تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے لیکن اس سے کئی برس قبل شروع ہونے والا آپریشن جبرالٹر آپ کے لئے شاید نئی چیز ہو۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر تکیہ نہیں کرنا چاہتے تو کرنل نادر علی بقید حیات ہےں اور دو قومی نظریے کے محافظوں کی کارستانیوں کے عینی شاہد۔
بھارت اور پاکستان کو تقسیم کرنے والی لکیر کے ذکر پرآب دیدہ ضرور ہوں لیکن یاد رکھئے کہ تقسیم کے فسادات میں صرف ’دس لاکھ مسلمان‘ ہی نہیں مارے گئے بلکہ اتنی ہی تعداد غیر مسلموں کی بھی تھی۔ مارچ 1947ءمیں ہزارہ ڈویژن اور پوٹھوہار کی سرزمین پر کس کے لہو سے لکیر کھینچی گئی؟ پاکستان میں امن و آشتی کا پیغام سنانے والے، قانون کی بالادستی اور انسانی امکان کی پرورش کے داعی کب نریندر مودی کی بلائیں لینے کو مرے جا رہے ہیں۔ آپ مودی کے ہندوستان کی بات کرتے ہیں، بقول شاعر ’قائد اعظم کا پاکستان دیکھ‘۔ شانتی نگر، گوجرہ ، جوزف کالونی ، یوحنا آباد، کوٹ رادھا کشن، جہلم اور ماڈل ٹاﺅن لاہور ، بھارت کی حدود میں نہیں آتے۔ اگلے وقتوں میں بزرگ کہا کرتے تھے کہ دوسروں کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک لینا ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔ جان ایلیا کی جس غزل سے مقبول کالم نگار نے شعر مستعار لیا، اسی غزل کا ایک شعر پیش خدمت ہے:
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ میرے بیان میں کیا

نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا” پر بصرے

  • دسمبر 5, 2015 at 10:32 PM
    Permalink

    خوارزم کے جلال الدین کی جگہ آپ کہیں ابو موسیٰ تو نہیں لکھنا چاہتے تھے؟ ریاضی دان ابو موسیٰ الخوارزمی

    Reply
  • دسمبر 6, 2015 at 9:46 AM
    Permalink

    .. it seems being critic is very easy than producing some original thoughts.. one more personal critic column here on dunya Pakistan... where is original content??

    Reply
  • دسمبر 7, 2015 at 1:20 PM
    Permalink

    اگر ھو سکے تو کرنل نادر علی کا رابطہ نمبر یا انکی تحریر کا حوالہ دے دیں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *