آئیے، علم کے سفر میں شریک ہوں

zeeshan hashimجب گلیلیو نے زمین کی تمام کائنات میں مرکزیت کے نظریہ کا رد کیا اور اجرام فلکی کی سات سے زائد تعداد کا راز افشا کیا تو کلیسا کو اپنے مذہبی اسطور کی شکست و ریخت کا خطرہ محسوس ہوا کیونکہ سات کا ہندسہ مسیحی مذہبی فکر میں بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور ان کے نزدیک کائنات کے اجرام کی تعداد بھی سات تھی ۔ گلیلیو نے مشتری کے چار چاند دریافت کر لئے جس کا اہل کلیسا نے انکار کر دیا اور لگے منطق و مذہبی دلیل کا سہارا لینے ۔ گلیلیو نے نہ منطق کی کسی نئی دلیل کو اپنے جواز میں پیش کیا اور نہ مقدس متن کے کسی حصہ کو علم لغت کے نئے ترجمہ کے طور پر پیش کیا بلکہ دوربین کا ایک سرا روشن کیا اور کہا کہ آئیں دیکھ لیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ اب روایت پسندوں نے دوربین کو بھی جادوئی آلہ قرار دے دیا اور اسے دیکھنے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ ہر دیکھنے والے کو مسیحی مذہب سے خارج کر دیا- کیا کوئی جاننا چاہتا ہے کہ گلیلیو سے مقابلہ کے لئے اہل کلیسا کسے سامنے لائے ؟ فلسفہ کے پروفیسروں کے ہجوم کو، جنہوں نے مشتری کے چار چاندوں کو اپنے منطقی دلائل سے جادوگری قرار دیا - اس پر گلیلیو نے اپنے دوست سائنس دان کپلر کو لکھا کہ” اگر آپ یہاں ہوتے تو ہم اس ہجوم کی احمقانہ دلیلوں پر ایک ساتھ ہنس سکتے تھے “ (ہسٹری آف ویسٹرن فلاسفی - رسل )
گلیلیو نے منطق کے جواز میں منطق کی دلیل نہیں پیش کی تھی (مطلب بحث و مباحثہ اور مناظرہ میں علم لسانیات کے جوہر دکھانے کی کوشش نہیں کی تھی ) بلکہ تجربہ کے نتائج سامنے رکھ دیئے ، اور دلچسپ یہ کہ نتائج کو نظری ( abstract) شکل میں بھی نہیں بلکہ مادی شکل میں پیش کیا۔ جو مشاہدہ کیا اور جو نتیجہ نکالا فرمایا آو¿ تم بھی وہی مشاہدہ کر لو اور نتیجہ کی دریافت میں میرے ساتھی بن جاو¿ -
یہ ایک ایسے دور کا آغاز تھا جہاں علمی قضیے زبان و بیاں کے شکنجوں سے نکل کر تجربہ، مشاہدہ اور نتیجہ کی بامعنی بحث میں داخل ہو گئے ۔ آپ اپنی دلیل میں سچے ہیں تو اسے ”نتیجہ کی عملی شکل“ میں ثابت کر کے دکھائیے۔ گلیلیو ،ڈیکارٹ اور فرانسس بیکن کے بعد اب ہم سوشل و فزیکل سائنس کے تجزیاتی عہد میں ہیں ، جس میں زبان و منطق کے بجائے تجربہ اور نتیجہ کی شمع ہمارے جہاں کو روشن کئے جا رہی ہے - اب ایسے کسی بھی انکشاف کی حیثیت مشکوک ہے جو مشاہدہ و تجربہ میں نہ آ سکے اور ایسا نتیجہ بھی قابل عمل نہیں جسے دہرایا (Repeatable ) نہ جا سکے - اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کا تجویز کردہ فارمولا اپنے نتائج میں خیر و خوبی کا حامل ہے تو اسے پہلے اپنے تجربہ کا مادی نتیجہ یعنی ثبوت سب کے سامنے رکھنا ہو گا -
لغت و منطق سے علمی و فکری قضیے کبھی حل نہیں ہوئے بلکہ یہ مزید الجھتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ لفظ کا کوئی ایک متعین اور اٹل معنی نہیں ، بلکہ اسلوب ، وقت ، اور پس منظر اس کا تعین کرتا ہے کہ کسی بھی لفظ کے حقیقی معانی کون کون سے ممکن ہیں ، اس کے باوجود بھی معنی کا شک موجود رہتا ہے - یہ حقیقت عہد حاضر کے تمام مقدس متن کے ترجمہ تشریح اور ان میں باہم معانی کے مباحث میں دیکھی جا سکتی ہے - اسی طرح منطق کسی بھی شے یا حقیقت (واقعی یا مفروضہ ) کو جواز دینے کے معاملہ میں بھی محدود نہیں ، اس کے مباحث کا کوئی آخری سرا نہیں ، اور نتیجہ کی منزل سے یہ ہمیشہ کوسوں دور رہتی ہے کیونکہ منطقی بحث کے فریقین کی جھولی منطقی دلیل کے معاملہ میں کبھی خالی نہیں ہوتی - مگر تجربہ و نتیجہ ایسے علمی اسلوب ہیں جن میں الجھاو¿ بہت کم اور قابل حل ہے - اس اسلوب کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وہ چیز جو تجربہ اور نتیجہ میں نہیں آ سکتی اس کا کوئی وجود نہیں ، بلکہ اس اسلوب کا یہ کہنا ہے کہ ہر وہ چیز جو تجربہ و نتیجہ سے ماورا ہے اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی - یوں مطالعہ کا یہ جدید اسلوب کسی بھی غیر دریافت شدہ حقیقت کے داعیان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ آئیں اور تجربہ و نتیجہ سے وہ ثابت کریں جس کا وہ دعوی کرتے ہیں -
ہمارے بعض دوستوں میں سائنسی اسلوب سے متعلق یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ سائنس مذہب کے بنیادی مقدمہ پر اول اتفاق قائم کرے اور اس کے دائرے میں رہ کر کام کرے ، تب جا کر اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو نئی اور توانا جہت ملے گی- ان لوگوں کے نزدیک سائنس کا اسلوب ملحدانہ ہے جسے کچھ کے نزدیک توحید پسند تو کچھ کے نزدیک تثلیث پسند ہونا چاہئے- ہندو و بدھ مذہب کے پیروکار اسے اپنے مذہبی عقائد میں محدود کرنا چاہتے ہیں تو رجعت پسند یہودیوں کی یہ خواہش ہے کہ سائنس سمیت تمام جدید علوم انہیں دنیا میں تمام نسلوں سے برتر تسلیم کریں کیونکہ وہ خدا کا قبیلہ (اور اس کی نسل ) ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس نے ان میں سے کسی بھی مکتب فکر سے درخواست نہیں کی کہ آپ مجھے بھی اپنے اسلوب کا ناگزیر حصہ بنائیں ۔ یہ ساری بے چینی جو رجعت پسند مذہبی خواہشات میں پائی جاتی ہے دراصل اس احساس کمتری کا نتیجہ ہے جو مذہبی مفکرین سائنس کے تقابل میں اپنی فکر میں محسوس کرتے ہیں - یوں اپنی فکر پر نظرثانی کے بجائے ان کی خواہش ہے کہ متوازی فکر کو ہی بدل دیا جائے- یہ دراصل رات میں سورج دیکھنے کی معصوم خواہش کا اظہار ہے۔
دوسری بات یہ کہ اہل مغرب میں جدید سائنسی طریقہ تحقیق و تنقید کا رواج صنعتی انقلاب کے بعد کا واقعہ ہے تو اہل پاکستان (متحدہ ہندوستان) میں اس کو فروغ یہاں برطانوی حکومت کے قیام کے بعد ملا- جبکہ اس سے پہلے فلسفہ سمیت تمام علوم مذہب کے تابع تھے - سوال یہ ہے کہ وہ علمی بلندیاں پہلے کیوں نہ حاصل ہوئیں جن کا اب دعویٰ کیا جاتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بعد از صنعتی انقلاب کی سائنسی ترقی کا سب سے بڑا سبب اس کا لبرل (آزاد ) اسلوب تحقیق ہے جو کسی بھی حدود سے بالاتر ہو کر تجربہ اور نتیجہ کی مدد سے نت نئے انکشافات اور ایجادات کا چشمہ رواں رکھے ہوئے ہے-
تیسری بات یہ کہ سائنسی اسلوب پر کسی ایک طبقہ کی بھی اجارہ داری نہیں - محض علم الکلام کے مباحثوں میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے بجائے سائنسی فکر کے معترضین اپنی اپنی عملی تخلیقی قابلیت سے یہ ثابت کریں کہ وہ رائج سائنسی فکر سے بہتر کوئی علمی و فکری بیانیہ رکھتے ہیں جس میں سائنسی انکشافات کے جاری عمل میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے- حقیقت یہ ہے کہ ہمارا پس ماندہ معاشرہ جو سائنسی تخلیق و اختراعات کے ثمرات سے کسی طرح بھی محروم نہیں مگر سائنسی فکر اور دریافت و ایجادات کے باب میں اس کا حصہ تقریباً صفر ہے، یوں یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص جو کسی میڈیکل کالج کا سرے سے طالب علم ہے ہی نہیں مگر اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ میڈیکل کالج کا نصاب اس کی خواہشات کی بنیاد پر بدل دیا جائے ۔ قابل احترام معترضین کو فکری موشگافیوں کے بجائے نتیجہ خیز اعمال کی دوڑ میں اول دوم یا سوم آنا ہو گا تب جا کر وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کے پاس بھی کہنے کو کچھ بہتر ہے وگرنہ محض الفاظ سے دھول اڑانا کوئی بڑا کارنامہ نہیں -
گلیلیو ، ڈیکارٹ ،اور بیکن نے نتائج کے میدان میں کامیابی حاصل کی تب جا کر ان کی فکر کو پذیرائی ملی اور یہ سفر رکا نہیں، جاری ہے ۔ میدان آپ کے سامنے بھی کھلا ہے ۔ آئیے ! اپنا حصہ ڈالیے ۔

آئیے، علم کے سفر میں شریک ہوں” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *