ترکی اور پاکستان کے روابط

Ayaz Amirایاز امیر

ترکی ، جو ہمارے بہترین دوستوں میں سے ایک ہے، پاکستانیوں کے دل میں خاص مقام رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہمار ے تعلقات محض رسمی اور تاریخی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ یہ دوستی کے تمام تر تصورات پر پورا اترتے ہیں۔ شاید ترکی دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے جہاں لفظ ’’پاکستان ‘‘ تضحیک کا نشانہ نہیں بنتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کی زیادتی اُس کی اہمیت کو کم کردیتی ہے یا اس کا ذائقہ خراب کردیتی ہے ، لیکن ہم ترکی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ بات نہیں کہہ سکتے ہیں۔ صحیح پوچھیں تو ہمیں بطور قوم ترکی سے زیادہ قر بت کی ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم ترک قوم کی بہت حد تک پیروی نہیں کر سکے ہیں، حکومتوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات کی بات اور ہے۔ حکومتی تعلقات کو قوموں کے درمیان پایا جانے والا اشتراک نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم کسی قوم کو پسند کریں لیکن اُس ملک کی حکومت ہمیں ناپسند ہو۔ مجھے ذاتی طور پر امریکہ اچھا لگتا ہے لیکن جارج بش کا ذکر آتے ہی منہ کا ذائقہ خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بھارت کو اس کے سیاسی پس ِ منظر کے ساتھ پسند کرتا ہوں لیکن یہ خیال دہلا دیتا ہے کہ نریندر مودی اس کے رہنما ہیں۔
ترک وزیر ِ اعظم طیب اردگان ، جو مسلسل تیسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں، اپنے ملک کے عظیم رہنما ہیں۔ ان کی قیادت میں ترکی نے معاشی میدان میں قابل ِ ذکر ترقی کی ہے۔ جب یوسف رضا گیلانی وزیر ِ اعظم تھے تو اُنھوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اُنہیں ایک بڑے ہوٹل میں لنچ دیا گیا لیکن وہاں کے انتظامات، جو کسی سربراہ ِ حکومت کے شایان ِ شان نہ تھے، دیکھ کر مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔ کبھی ہم پروٹوکول اور اس طرح کے دیگر معاملات میں بہت منجھے ہوئے تھے لیکن دیگر بہت سی چیزوں کی طرح یہاں بھی بگاڑ ہویدا ہے۔ تاہم مسٹر اردگان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے بعد اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر میرے دوست چوہدری نثار نے خطاب کرنا تھا۔ روایت کے مطابق ان سے توقع تھی کہ وہ معززمہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے مختصر الفاظ، جو عام طور پر کاغذ پر تحریر ہوتے ہیں، میں اپنی بات ختم کر یں گے لیکن صاحبو، جب چوہدری صاحب کو قدرت کی طرف سے بات مختصر کرنے کی صلاحیت ودیعت ہی نہیں کی گئی تو پھر وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ وہ ایک خیر سگالی کا دورہ تھا اور کچھ معاہدوں پر دستخط بھی کیے جانے تھے لیکن چوہدری صاحب کی خطابت...’’میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا‘‘ ...کی عملی تصویر ہوتی ہے۔
اس ہفتے ترک وزیر ِ اعظم پھر پاکستان کے دورے پر تھے اور کچھ ایم او یوز پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس سے پہلے نواز شریف نے بھی وزیر ِ اعظم بننے کے فوراً بعد ترکی کا دورہ کیا تھا جبکہ شہباز شریف کو تو کوئی بہانہ چاہیے ترکی جانے کا... ان کا جانا آنا لگا رہتا ہے۔ ایک تو لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ ترکی کی مدد سے پایہ تکمیل تک پہنچا ہے تو دوسری طرف پی پی پی دور میں کرائے پر لیا گیا بجلی گھر ، جو ایک جہاز پر کراچی کے نزدیک لنگر انداز ہے، بھی ترکی سے ہی آیا تھا۔ نیب اس معاہدے میں ہونے والی گڑبڑ کی تحقیقات کررہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور کے حکام نے شہر کی صفائی و نکاسی ِ آب کی تمام تفصیل استنبول کے میئر کے دفتر کو بھیج کر شہر کا سالڈ ویسٹ اور سیوریج کو ٹھکانے لگانے میں ان کی مہارت سے استفادہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
شریف برداران اور ان کی جماعت نے گزشتہ تیس سال سے پنجاب پر حکومت کی ہے... تیس سال کم عرصہ نہیں ہوتا ہے۔ چھوٹے میاں صاحب تیسری مدت کیلئے پنجاب کی وزارت ِ اعلیٰ کے منصب پر فائزہیں۔ وہ اب ترکی سے ویسٹ مینجمنٹ کا مشورہ کررہے ہیں؟اپنی حالیہ دہلی یاترہ کے دوران وہ سر پر سخت ہیٹ پہنے اور اپنی مخصوص جیکٹ زیب تن کیے دہلی میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے اور نکاسی ِ آب کے انتظامات کا جائزہ لیتے پائے گئے تھے۔ کیا کوئی تاریخ دان ، کوئی غیب دان ، کوئی نجومی جانتا ہے کہ مسٹر شریف کی تحقیقات کا دائرہ کب مکمل ہو گا اور ان حاصل کردہ علوم کی مدد سے لاہورصفائی کے مراحل سے کب گزرے گا ؟کیا صفائی کا کلچر سے بھی کوئی تعلق بنتا ہے؟ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب گائوں دیہاتوں، حتیٰ کہ قصبوں میں بھی گھروں میں ٹوائلٹ نہیں ہوتے تھے۔... گائوں میں فطرت کی وسعت پردہ رکھ لیتی تھی۔ اسی تجاہل ِ عارفانہ کا مظاہرہ اسلام آباد کی تعمیر میں بھی دکھائی دیا جہاں، شاید آپ کو یقین نہ آئے، آج پچاس سال بعد بھی بے کارمادوں کو کھلی جگہوں پر پھینکا جاتا ہے کیونکہ ان کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ چونکہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں، اس لئے ہماری آفاقی ترجیحات میں ان کم تردرجے کے معاملات کی سمائی نہیں ہے... اور ہو بھی نہیں سکتی ہے۔
موضوع سے ہٹ کر میں پتہ نہیں کہاں سے کہاں جا نکلا! اب واپس اصل موضوع پر آتاہوں ۔ ترکی کے ساتھ ہمیں اپنے روابط مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل ہمیں ترقی کرنے کے لئے ترکی کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ، جیسا کہ دیکھنے میں آرہا ہے، دونوں ممالک کے حکمرانوں کے پے درپے دورے تکلیف دہ معمول بنتے جارہے ہیں۔ شریف برادران نے تو یہ طرز ِ عمل اپنارکھا ہے کہ جب بھی ملک میں کوئی سنگین معاملہ درپیش ہوتو فوراً ترکی کے دورے پر چلے جاتے ہیں۔ ان دوروں سے ایک اور نمونہ واضح ہورہا ہے: ترکی میں طیب اردگان کی ’’جسٹس اینڈ ڈولپمنٹ پارٹی‘‘ 2002 سے حکومت میں ہے۔ تعمیراتی کام کرنے والوں سے اس کے بہت مضبوط روابط ہیں۔ استنبول میں گزشتہ موسم ِ گرما میں ہونے والے ہنگامے، جو مسٹر اردگان کی حکومت کے لئے سنگین چیلنج بن گئے تھے، کی وجہ شہر کے غازی پارک میں ایک متنازعہ عمارت کی تعمیر کا منصوبہ تھا۔ اب اردگان حکومت بدعنوانی کے ایک ا سکینڈل کی زد میں ہے۔ گزشتہ دنوں پولیس نے کچھ افراد ، جن کا ترکی کی حکمران جماعت سے قریبی تعلق تھا ، کو گرفتار کیا ہے۔ کرسمس کے دن تین وزراء نے استعفے دے دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے وزیر ِ اعظم سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیا بظاہردکھائی دینے والے واقعات سے کچھ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے؟ جب نواز شریف نے گزشتہ ستمبر کو ترکی کادورہ کیا توا ن کے خاندان کے کچھ نوعمر افراد ، جن کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے، بھی ان کے ساتھ تھے۔ جب ترک وزیر ِ اعظم پاکستان کے حالیہ دورے پر آئے تو یہی نوجوان لاہور کی بادشاہی مسجد میں ان کے ساتھ دیکھے گئے۔ ان میں کچھ افراد لندن میں خاندان کے کاروبار کی نگرانی بھی کررہے ہیں۔
ایک اور حکومت، جس کے ساتھ پاکستان کے موجودہ حکمران تعاون بڑھا رہے ہیں، وہ تھائی لینڈ کی شناوترا(Shinawatra) کی حکومت ہے۔ ترکی کی حکمران جماعت کا تعمیراتی منصوبوں سے تعلق ہے لیکن تھائی لینڈ کا حکمران خاندان... بالکل اپنے پاکستانی ہم منصبوں کی طرح... بہت دولت مند ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر...؟ایک بات یقینی ہے کہ آزاد معیشت کے پیمانے ،جنھوں نے تیسری دنیا کے ممالک میں عوام سے سکون چھین لیا ہے، کے خدوخال پاکستان میں آئی ایم ایف کے ’’تعاون‘‘ سے واضح ہورہے ہیں۔ جو مالیاتی ادارے کہہ رہے ہیں، ہمارے حکمران کر رہے ہیں۔ اگر عوام کوفراہم کی جانے والی اشیائے ضروریات کی امدادی قیمت میں کمی پر سب کو یکساں اذیت ہوتو پھر کوئی بات نہیں لیکن اس معیشت میں تمام تربوجھ معاشرے کے غریب افراد پر پڑتا ہے جبکہ دولت مند افراد مزید امیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اداروں کی نج کاری سے بھی یہی طبقہ مستفید ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے شروع کیے گئے عوامی منصوبے ، چاہے وہ پیلی ٹیکسیاں ہوں یا طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ اور قرضہ جات، یہ سب وہ میٹھی گولیاں ہیں جن کے ذریعے عوام کو ترقی کا بہلاوہ دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کی وجہ سے ہونے والے افراط ِ زر کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔
چنانچہ اس ماحول میں جب دوست ممالک، جیسا کہ ترکی اور تھائی لینڈ، کے سربراہان پاکستان تشریف لاتے ہیں تو یہاں کے حکمران خاندان کے غیرسرکاری افراد ، جن کے اپنے کاروباری مفاد ہوتے ہیں ، بھی ان سے ملتے ہیں تو ہمیں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان ایم او یوز کے پس ِ پردہ کیا کچھ ہورہا ہے۔ صرف ایک تاثر ملتا ہے کہ حکمران کچھ کررہے ہیں اور یہ ملک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے ہی والا ہے... بس ایک آنچ کی کسر باقی ہے۔ اس دوران حکومت قوم کے ٹیلنٹ کی تلاش کا کام زور شور سے جاری کرتی ہے۔ اس سے یاد آتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے ایک کزن کو ’’ٹیلنٹڈ کزن‘‘ قرار دیا تھا... اب ایک باصلاحیت صاحبزادی قرضہ اسکیم کی نگرانی کررہی ہے۔ چونکہ پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ نے وزیر ِ اعظم کے دست ِ راست کا کردار ادا کرتے ہوئے خارجہ امور بھی نمٹانے ہوتے ہیں، اس لئے ہمیں پنجاب کا کوئی کل وقتی وزیر ِ اعلیٰ درکار ہے جو ا س صوبے پر توجہ دے سکے۔ پھر خیال آتاہے کہ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے... وزیر ِ اعلیٰ کے صاحبزادے ہیں ناں۔ اس وقت وہ پنجاب کمیٹی کے ہیڈ ہیں۔یہ ہے وہ جمہوریت جس کا پاکستانیوں کو دیر سے انتظار تھا!مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کی تاریخ کا پہلا حکمران تھا۔ آج کے پاکستان میں ایک پیش رفت ہوئی ہے... پہلی منتخب شدہ بادشاہت وجود میں آئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *