پشتون جرگہ برائے خواتین

tabasumسنہ 2015 میں بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنے والی تبسم عدنان سوات میں ’خویندو جرگہ‘ یا بہنوں کا جرگہ کی سربراہ ہیں۔ وہ سوات جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں لیکن انھیں حال ہی میں نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملی ہیں جس کے بعد سے انھوں نے اپنی سرگرمیاں گھر کی چار دیواری تک محدود کر دی ہیں۔ پشتون معاشرے میں جرگہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں باہمی تنازعات کو حل کیا جاتا ہے۔ تاہم جرگوں میں بیشتر فیصلے مرد کرتے ہیں لیکن خویندو جرگہ اپنی نوعیت کا واحد ایسا فورم ہے جہاں خواتین ہی خواتین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تبسم عدنان کا کہنا ہے کہ خویندو جرگہ کے فورم سے خواتین کی طلاق، گھریلو تشدد اور دیگر مسائل کے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور انھیں قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل انھیں موبائل فون کے ذریعے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئیں جس کا مطلب انھیں کام کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے بقول ’مجھے کوئی خواتین کے لیے کام کرنے سے نہیں روک سکتا اور نہ میں دھمکیوں سے ڈرنے والی ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ انھیں پہلے بھی کئی مرتبہ دھمکیاں مل چکی ہیں لیکن وہ ہر صورت خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی رہیں گی۔

zahid khanخیبر پختونخوا کی وادیِ سوات میں گذشتہ کچھ عرصہ سے طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں پر شدت پسند حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومتی حامی امن کمیٹیوں کے کئی اہلکار دن دہاڑے نشانہ بنائے گئے ہیں جبکہ خواتین کے حقوق اور امن کی بحالی کے لیے سرگرم بعض تنظیمیں بھی شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ سوات میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں شدت پسندوں کی جانب سے جس منظم طریقے سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے اس سے وادی میں ایک مرتبہ پھر خوف کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ سوات میں سنہ 2009 میں ہونے والے فیصلہ کن آپریشن کے بعد علاقے سے شدت پسندوں کو نکال دیا گیا تھا۔ وادی میں امن کی بحالی کے لیے سرگرم تنظیموں کے کارکن شدت پسندوں کے حملوں کے خوف کے باعث گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ سوات قومی جرگہ کے اراکین پہلے کھلے میدانوں میں جرگوں کا انعقاد کیا کرتے تھے لیکن شدت پسندوں کے حملوں کے خوف کے باعث آج کل وہ حجروں کی چار دیواری تک محدود ہوگئے ہیں۔

Saleemسوات قومی جرگہ کے رہنما زاہد خان کا کہنا ہے کہ سوات میں اتنی بڑی فوجی کارروائی کے باوجود مکمل امن بحال نہ ہونا ناکامی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وادی میں وہ افراد نشانے پر ہیں جنھوں نے امن کی بحالی میں حکومت کا ساتھ دیا اور جان کی قربانیاں پیش کیں۔ زاہد خان کا کہنا تھا ’تشویش ناک بات یہ ہے کہ لوگ دن دہاڑے نشانہ بن رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا اور نہ انھیں یہ بتایا گیا کہ ان واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں۔‘ واضح رہے کہ زاہد خان کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد کی جانب سے ہونے والے ایک حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ سوات قومی جرگہ کے رہنما نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے زیادہ تر واقعات سکیورٹی فورسز یا پولیس کی چیک پوسٹوں کے قریب ہوتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک سرحد پار طالبان قیادت کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک ان واقعات کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہے۔

سوات کے ضلعی پولیس سربراہ سلیم مروت کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کو کنٹرول کرنے میں اکثر اوقات وقت لگتا ہے اور اسی وجہ سے کچھ عرصہ تک تشدد کے یہ چھوٹے موٹے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ سلیم مروت کے مطابق طالبان کی اہم قیادت سرحد پار بیٹھی ہے اور جب تک ان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا روکنا مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں پہلے کے مقابلے میں حالات کافی حد تک بہتر ہوگئے ہیں جس کا ثبوت وادی میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا ختم ہونا ہے۔

بی بی سی سوات

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *