فیض بیروت میں: دو کتابیں، ایک تبصرہ

saima irumڈاکٹر صائمہ ارم

نومبر 2015ءمیں فیض انٹر نیشنل فیسٹول کے موقع پر جہاں اور کئی تقریبات کا اہتمام ہوا، وہیں فیض احمد فیض پر لکھی جانے والی نئی کتابوں کی نمائش بھی کی گئی۔ڈاکٹر عمران ظفر کی مرتبہ کتاب ’فیض کے نایاب خطوط‘ کے علاوہ اشفاق حسین کی ’فیض بیروت میں: حقیقت یا افسانہ ‘ بھی اس موقع پر سامنے آئی۔ دونوں کتابیں اپنے موضوع کے اعتبار سے فیض فہمی کے کچھ نئے در وا کرتی ہیں۔اشفاق حسین اس سے پہلے بھی فیض احمد فیض پہ خاصا کام کر چکے ہیں بلکہ ان کی کتاب ’فیض ایک جائزہ( 1977ئ)‘ فیض پر پہلی باقاعدہ تنقیدی اردو کتاب کا اعزازرکھتی ہے۔
بنیادی طورپر اشفاق حسین کی کتاب ’فیض بیروت میں: حقیقت یا افسانہ‘ تسلیم الہٰی زلفی کی نوشتہ ’فیض بیروت میں:جلا وطنی کا دوسرا پڑاﺅ‘ کے جواب یا یوں کہیے کہ رد میں لکھی گئی ہے۔ زلفی کی کتاب کا سرسری جائزہ ہی یہ بتا دیتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو فیض کو جانتا ہے یا ان کے مزاج سے واقف ہے، اس کتاب پر اعتراض کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خود نمائی کی خواہش میں فیض سے متعلق حقائق کو جس حد تک توڑ موڑ کے پیش کیا جا سکتا ہے،زلفی کی کتاب اس کی نمایاں مثال ہے۔ 2011ءمیں اکادمی ادبیات کی جانب سے پہلی مرتبہ یہ کتاب چھپی اور منظر عام پر آئی۔ حیرت کی بات ہے کہ اکادمی کے باوقار اور باعلم ارکان نے اس کتاب کا مسودہ پڑھنے کے باوجود اس کی اشاعت کی منظوری کیسے دے دی۔کیونکہ اس میں بعض غلطیاں تو بالکل سامنے کی ہیں۔ اس پہ مستزاد یہ کہ زلفی صاحب نے نا جانے کہاں سے اس کتاب کا ایک اور ایڈیشن بھی چھپوا لیا۔اس دوسرے ایڈیشن پر بھی ناشر کے طور پر اکادمی ہی کا نام ہے اور اس پر اشاعت دوم کی بجائے طبع اول تحریر کیا گیا ہے۔مزید یہ کہ کتاب کی پشت پر زلفی،یاسر عرفات اور فیض کی ایک تصویر ہے جو نا صرف فوٹو شاپ کا کمال ہے بلکہ دیکھنے والوں کے چودہ طبق بھی روشن کرتی ہے۔اور کوئی زلفی کے تبحر علمی کا قائل ہو یا نہ ہو،ان کی دیدہ دلیری کا قتیل ضرور ہو جاتا ہے۔ جس کتاب کی بیرونی پیشکش میں ایسے کمالات ہوں اس کے اندرونی معاملات کیسے پر تاثیر ہو سکتے ہیں،اس کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں۔
استاد محترم ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے دو کالموں میں ان دونوں کتابوں پہ خاصی گفتگو کی ہے۔ ادھر جناب فخر زمان کا موقف بھی سامنے آگیا ہے اگرچہ یہ موقف کوئی سرکاری حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ جو انھوں نے کہا، وہ ایک دوست کا دوسرے دوست کو جواب ہے،جبکہ کتاب کی طباعت باقاعدہ ایک سرکاری ادارے کی اشاعتی منصوبے کے تحت کی گئی ہے تو جواب بھی باقاعدہ اور سرکاری ہونا چاہئے۔لیکن ہونا تو بہت کچھ چاہیے جس کی طرف جناب آصف جاوید بھی اپنے کالم میں اشارہ کر چکے ہیں۔
زلفی نے فیض سے اٹھکیلیوں کے علاوہ اپنے بارے میں جو مفصل معلومات فراہم کی ہیں،اشفاق صاحب نے ان کی قلعی بھی پورے طور پر کھول کے رکھ دی ہے،جن میں ان کی تعلیمی اسناد،اعزازات یہاں تک کہ حکومتی انعامات کا جھوٹ بھی شامل ہے۔خیر ان باتوں کو تو یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ ’ہن بندا اپنے گھر وچ بہہ کے گل وی نئی کر سکدا؟‘ یا یوں کہ لیجیے کہ ’ہن بندا اپنے خرچے تے کتاب چھاپ کے اپنی تعریف وی نئیں کر سکدا‘ مگر کسی کو اپنے گھر یا اپنے خرچے پر بھی حقائق کو مسخ کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ اشفاق حسین نے درست قدم اٹھایا کہ اس کتا ب کے رد میں خامہ فرسائی کی۔ البتہ ایک آدھ نکتہ ایسا ہے کہ جس پر اشفاق حسین سے بھی کچھ سوالات ہو سکتے ہیں۔مثلاً پہلی بات تو یہ کہ اشفاق حسین فیض کے مداح ہیں،زلفی کی کتاب 2011ءمیں چھپی اور کم از کم اپنے موضوع کے لحاظ سے یہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ فیض کے قیام بیروت کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ یہاں تک کہ فیض کے بیروت منتقل ہونے کے سنہ میں بھی اختلاف ہے۔ (جس پر ایک تفصیلی نوٹ اشفاق حسین کی کتاب میں شامل بھی ہے اور یہ نوٹ میرے خیال میں اس کتاب کا بہترین حصہ ہے۔) تو چار برس تک یہ کتاب اشفاق صاحب کی توجہ سے محروم یوں رہی، انہوں نے اپنے ممدوح فیض صاحب کے ساتھ ایسی ناانصافی پر آواز اٹھانے میں اس قدر تاخیر کیوں کی۔ دوسرا یہ کہ اس کتاب میں زلفی نے فیض کے علاوہ محمود درویش سے بھی اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے،یہ امربھی لائق توجہ ہے کہ خود فیض اور محمود درویش کی کتنی ملاقاتیں رہیں اور ان کی نوعیت کیا تھی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بیروت کے زمانے میں جن اہم ادبی اور علمی شخصیات سے فیض کا ربط رہا ان میں معروف مستشرق ایڈورڈ سعید کا نام بہت اہم ہے بلکہ ایڈورڈ سعید کی کتاب Reflections on Exile کے کلیدی مضمون کی بنیاد ایڈورڈ سعید اور فیض کی بیروت میں ہونے والی ملاقاتوں پر رکھی گئی ہے اور ایڈورڈ سعید فیض کو اہم ترین ہم عصر اردو شاعر کے طور پر جانتے ہیں۔ فیض کے بیروت میں قیام کے دوران میں ہونے والی ان اہم ملاقاتوں کی طرف زلفی یا اشفاق حسین نے کوئی توجہ نہیں دی۔اگر ایسا ہو جاتا تو یہ کتاب مزید وقیع ثابت ہوتی۔بہرحال یہ کتاب فیض فہمی کے نئے در وا کرنے اور چند غلط فہمیوں یا خوش فہمیوں کا ازالہ کرنے میں بہر حال مددگار ہو گی۔

فیض بیروت میں: دو کتابیں، ایک تبصرہ” پر بصرے

  • دسمبر 12, 2015 at 4:22 PM
    Permalink

    بعض لوگوں کا خیال ھے کہ چونکہ دونوں قلمکار ( اشفاق حسین + تسلیم الہی زلفی) کینیڈا میں رھائش پذیر ھیں، دونوں شاعر بھی ھیں - دونوں نے فیض پر کتابیں بھی لکھی ھیں - لہذا یہ سارا چائے کی پیالی میں اٹھایا جانیوالا" سونامی" ــــــ فقط روایتی شاعرانہ چشمک و رقابت کا شاخسانہ ھے.....!
    ویسے زلفی صاحب کی طرف سے اس سارے ادبی بھونچال پر کوئی جوابی وضاحت سامنے آنے کی بجائے بزبانِ ذوق .........ع
    یاں لب پہ لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں
    واں اک خامشـی تری سب کے جواب میں!
    والی کیفیت، شکوک و شبہات کو مزید جنم دے رھی ھے -
    اس میں کوئی شک نہیں کہ زلفی صاحب ایک منجھے ھوئے شاعر، کالم نگار، ٹی وی ھوسٹ، براڈ کاسٹر سمیت بیک وقت ادب کے بہت سے گھوڑوں کے شہسوار ھیں - جبکہ کچھ ایسی ھی صورت حال دوسری جانب بھی دیکھی جاسکتی ھے - عجیب اتفاق ھے کہ اشفاق صاحب بھی ٹورانٹو میں انہی گھوڑوں کی شہہ سواری کرتے نظر آتے ھیں -
    اس لئے ادبی و شاعرانہ رقابت و مقابلے کی دوڑ کی طرف بھی اذھان کا جانا فطری امر ھے - بہر حال زلفی صاحب پر اتنے بڑے الزامات کے بعد ان کا فرض بنتا ھے کہ وہ اب آگے آئیں اور خود پر لگنے والے الزامات کا تسلی آمیز جواب دیں -
    ورنہ خدشہ ھے کہ فیض صاحب جیسے نابغہ روزگار شاعر سے ''بیروتی'' تعلق، متعلقہ تصویر اور انکی شاعری سے عشق ــــــ 'اعزاز ' کی بجائے کہیں مصرعہ ھذا کی عملی تصویر ھی نہ بن جائے ...ع
    اِس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی!

    Reply
  • دسمبر 13, 2015 at 12:25 PM
    Permalink

    آپ نے ماشا اللہ کافی اچھی تحریرکی ہے، لیکن
    تعجب ہے کہ موصوف پر جنھوں نے اتنی بے باکی سے پورا ایک کتاب لکھ ڈالا ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *