دہشت گردی اور ارباب اقتدار کا مبہم موقف

منشا فرید ی

mansha afridiیہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار کی وفاداری کس کے لیے ہے اور ان کا جھکاﺅ کس طرف ہے ؟ روز اوّل سے حکمران کہتے چلے آرہے ہیںکہ پاکستان میں دہشت گردوں کاکوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ اور باربار یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردموجو د ہیں اورپاکستان خطرناک ترین دہشت گردی کا شکار ہے جس کے خلاف آرمی اور دیگر سلامتی کے ادارے برسرپیکار او رنبر د آزما ہیں ۔اس میں تو شک نہیں کہ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے وہ یقینا دشوار ترین حالات ہیں۔ ریکارڈ قربانیا ں دینے کے باوجود بھی ہم اس عفریت سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ الٹا اس دلدل میں دھنستے ہی چلے جارہے ہیں ۔ میر ے خیال میں ان سنجیدہ حالات سے نکلنا موجود ہ حکمت عملیوں کے ذریعے ممکن ہی نہیں۔ اگر اس مرض ِ لا علاج سے قدرے افاقہ ہو بھی تودوبارہ اس مرض کے پنپنے کے مواقع پید ا ہو جائیں گے جب تک کہ دہشت گردی کو جڑسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کریں گے ۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اب تک ہماری کسی بھی حکومت نے’ دہشت گردی ‘کو ڈیفائن ہی نہیں کیا ۔ یہی دیکھ لیجئے کہ مذہبی و فرقہ وارانہ نفرت اور تعصب کو عین اسلام اور عین جہاد قرار دیا جاتا ہے۔ مخالف فرقے کے قتل عام کو جائز قرار دیا جاتا ہے ۔ جو اپنے تئیں ایک سفاک دہشت گردی اور معاشرتی بگاڑ کااہم سبب ہے ۔ اس عمل کو میں نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ ناپسندیدہ فعل قرار دیا اور تادم تحریر اسی فلسفے پر ڈٹا ہواہوں ۔ جہاں تک تعلق ہے اس سوال کا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کون سے اصول وضع کیے جائیں۔ جواب بالکل آسان ۔ محض نظام تعلیم میں تبدیلی ۔ یہ فارمولا سو فیصد حد تک وطن عزیز پاکستان کو امن کی راہ پر گامزن کر سکتاہے۔ جس سے پاکستان میں موجود زرخیز اور تخلیق اذہان بھی حملہ آوروں اور توسیع پسند قوتوں سے محفوظ رہ سیکں گے۔ کسی بھی معاشرے کی ذہن سازی کے لیے نصابِ تعلیم میں تبدیلی سے کچھ شک نہیں کہ معاشرہ مثبت اقدار اپنا کرترقی کی راہ پر چل پڑے۔
تھوڑی سی بحث اس موضوع پر بھی ہوجائے کہ نصاب ِ تعلیم میں انتہا و شدت پسندانہ نظریات در کیسے آئے؟ یہ سوال بحث کے لیے کئی در وا کر دیتا ہے ۔عموما ً جو ممالک مذہب کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں، وہ مذہب کو ہی اپنی بقا کا ضامن قرار دیتے ہیں ۔ وہاں کے لوگ اور ایک طرح سے نظر یاتی اساس کے محافظ اور ارباب بست و کشاد مذہب ،مسلک یا فرقے کوبنیادبناتے ہوئے آئین و دستور ِریاست ترتیب دیتے ہیں جس میں عوام کے حقوق سے بڑھ کر وہاں کے سرکار ی مذہب کے تحفظ کی بات ہوتی ہے ۔ ستم در ستم یہ کہ ریاست کی بھی ثانوی حقیقت رہ جاتی ہے جیسا کہ داعش اور طالبان کسی بھی ملک کی سرحد کو ماننے پر ہر گز تیار نہیں ہیں۔ ایسے ممالک یا ریاستوں میںمذہب سے انحراف کرنے والوں کو جینے کاکوئی حق نہیں ہوتا ۔ اس طرح توہین مذہب کے محض الزام میں آئے روز مشتعل اور فسادی لوگ جنھیں فسادی کی اصطلا ح سے نوازناشاید سو فیصد درست ہے شہریوں کو جلا بھی دیتے ہیں۔ بسا اوقات یہ قانون انتقامی بنیادوں پر مخالفین پر پریکٹس کیاجاتا ہے ۔ مذہب کے زیر اثر بنایا جانے والا یہ قانون اقلیتوں کے تحفظ کی ہرگز بات نہیں کرتا۔ ان قوانین کی نظر میں اقلیتیں قابل گردن زدنی قرار پاتی ہیں ۔ یہی وہ حقائق ہیں جوکہ پاکستان میں بھی بکثرت دیکھنے میں آتے ہیں ۔ یہاں توہین اسلام کے الزامات کے تحت بے شمار مبینہ واقعات کے تحت مقدمات درج ہو چکے ہیں جبکہ ایسے الزامات پر کئی شہریوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے ۔ اس بحث سے ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ان قوانین کو ختم کر دیا جائے ۔ مذہبی ٹولے کے لیے یہ قوانین اطمینان کن ہیں ۔ جب شہریوں کی ذہن سازی محض مذہبی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جاتی ہے تو انتہا پسندی اور شدت پسندی کا رحجان بڑھ جاتا ہے ۔ نتیجے میں معاشرہ خو نزیز ی کا شکار ہو جاتاہے ۔ اس لیے نصاب تعلیم میں تبدیلی کا عمل اور مرحلہ ضروری قرار پاتا ہے ۔ مجرمانہ اذہان کے حامل ہونے کی ایک بڑ ی وجہ بھی ہے جو یہاں ایک طر ح سے اذہان میں شورش پسندی کے عنصر کو مہمیز کا کام کرتی ہے ۔ وہ ہے مثبت سمت کی جانب ذہن سازی کے عمل اور تربیتی مراکز کا نہ ہونا ۔ جب ایک شخص مخصوص لا بیز کی برین واشنگ پر دہشت گردی کا عمل اپناتا ہے تو اس کی اصلاح کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جاتے ۔ کہ جن کی بنیاد پر بھٹکا ہوا فرد معاشرے کا کار آمد اور مفید شہری اور جزو بن سکے ۔جب کسی ملزم کو تھانے کی سطح پر ناقص تفشیش کے عمل سے گزار کر جیل بھیجا جاتاہے تو ایک طرح سے ایک ایسے شخص کو جو نہیں جانتا کہ جرائم کی دنیا کیا بھیانک روپ رکھتی ہے۔ایک طرح سے جرائم کرنے کے لیے تربیتی مراکز مہیا کیے جاتے ہیں ۔ پاکستان کا جیل نظام ایک ایسا نظام ہے کہ جہاں ہر طرح کے کریمنل سورسز فراہم ہوتے ہیں جیلوں میں ناصرف بدنام زمانہ ڈکیت یا اغوا برائے تاوان میں ملوث مجرموں کے مضبوط نیٹ ورکس سے روابط استوار ہوتے ہیں بلکہ مذہبی انتہا پسندوں کی ذہن ساز ی کا شکار ہونے سے مذہبی انتہا پسندی کا عنصر بھی اذہان و فطرت میں درا ٓتا ہے جیسا کہ سنٹرل جیل ڈیر ہ غازی خان میں اس وقت انتہا پسندی عروج پر ہے کہ یہاں مذہب کے نام پر قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق صریحا ً قتل کیے جاتے ہیں ۔ جیل نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ یہاں مذہبی و فرقہ وارانہ بحث میں الجھا کر تشدد کے لیے جواز پیدا کیے جاتے ہیں ۔ اس سلگتے مسئلہ کے بارے میں راقم نے متعد بار سوشل میڈیا ، ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹیں کی ہیں لیکن پھربھی جیل حکام اور دیگر مجاز حکام نے نوٹس تک نہیں لیا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جوڈیشل ہونے والے ہر ملزم کی جیل حکام اور جیل میں قید خطرناک مجرموں کے ہاتھوں ذلت آمیز اور بدنام زمانہ چھترول (غیر انسانی و غیر قانونی تشد د) صاحبان اقتدار کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ اگر ہمار ا معاشرہ اسی طرح یہ ظلم و ستم اور منافقت برداشت کرتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب اس معاشرے (سما ج) کا ہر فرد قاتل کہلائے گا ۔ ایسے میں اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہے گی ۔ یہی وہ آثار ہوتے ہیں جب کسی تہذیب پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہو کر اپنے قبضہ کنفر م کر لیتی ہیں۔ ایک بار پھر ارباب بست و کشاد سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا ایک تو اپنی سمت کا تعین کریں جو مثبت بھی ہو ۔ تعمیراتی انداز ہی میں نصاب میں تبدیلی کی جائے ۔ شہریوں کی ذہن سازی کے لیے بھی مناسب انتظام کیا جائے تاکہ معاشرہ مستقل بنیادوں پر امن کا داعی بن سکے ۔ شہریوں کو پو لیس مقابلوں میں پار کرنے جیسی بدنام زمانہ بدعت بند کی جائے ۔ سب سے اہم بات یہ کہ بجائے اس کے کہ جیل جرائم کی درس گاہ کے طورپر پہچا نی جاتی ہو ، اعلی اخلاقی و تربیتی مرکز ہو ۔ اور ساتھ ہی جیل مذہبی و فرقہ وارانہ آب و ہوا کا مرکز ہونے کی بجائے ایک اصلا حی مر کز کے طور پر مشہور ہو....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *