کٹاس راج مندر

عثمان انور

usman anwarکٹاس راج مندر ضلع چکوال کے قریب چو آ سیدن شریف گاوں کے پاس موجود ہے۔ کلر کہار سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہمیں وہ تاریخی ورثہ دیکھنے کو ملتا ہے جو ہندو بادشاہوں کے دور کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کٹاس سطح سمندر سے 2200فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کا اصل نام ’کٹکشا‘ ہے اور سنسکرت میں اس کا مطلب ’آنسوو¿ں کی لڑی‘ ہے۔ ’مہابھارت‘ (سنسکرت مثنوی) میں اسے ’کائنات کا تالاب‘ کہا گیا ہے۔ کٹاس ہندووں کے سنہا سلطنت کا دارالحکومت بھی رہا۔کٹاس راج کو ہندوو¿ں کے خدا شیوا کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ جگہ آج بھی ہندوو¿ں کے لیے بہت مقدس ہے اور وہ اکثر اوقات یہاں نہ صرف پاکستان سے بلکہ دوسرے ممالک سے سفر کر کے آتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ البیرونی نے بھی کچھ وقت کٹاس میں سنسکرت سیکھنے میں گزاری اور یہاں ’زبانوں کی یونیورسٹی‘ بھی موجود ہوا کرتی تھی۔ البیرونی کے یہاں ٹھہرنے کے ثبوت ہمیں ’کتاب الہند‘ میں ملتے ہیں۔ اس دوران البیرونی نے مختلف تجربات بھی کیے اور زمین کے رداس کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کٹاس دوسرے عقیدہ کے لوگوں کے لیے بھی مقدس ہے۔ ’پارس ناتھ جوگی‘ نے بھی اسی جگہ پر اپنی آخری سانسیں کاٹیں اور اس کی یادگار آج بھی کٹاس کے ساتھ موجود سرکاری سکول کے احاطے میں ہے۔ جگت گرو نانک نے بھی اس جگہ ’ویساکھ‘ کے دن قدم رکھا اور یہ جگہ’نانک نواس‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف صوفیوں اور جوگیوں کی بھی آماج گاہ رہی۔
کٹاس راج کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ”مہابھاترا“ کے کردار پانڈوو¿ں کے یہاں آنے کے بعد انہوں نے ست گڑھ کے مندر تعمیر کروائے۔ پانڈوو¿ں نے جلاوطنی کے ۲۱ سال یہاں گزارے۔ ست گڑھ اور سات مندروں کو وہ جگہ کہا گیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے بارہ سال گزارے۔
katas2کٹاس کو ہندو خدا ’شیوا‘ کی پیدائش کی جگہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ برہمنوں کی کہانیوں سے ہمیں یہ جگہ ’شیوا‘ کے نام سے منسوب نظر آتی ہے اور شیوا اپنی بیوی ’ستی‘ کی موت کے غم میں اتنا رویا کہ آنسوو¿ں کی بارش کی صورت میں تالاب بن گیا جو کہ آج بھی کٹاس میں موجود ہے اور لوگ اسے ’مقدس تالاب ‘کہتے ہیں چونکہ یہ شیوا کے آنسوو¿ں سے بنا تھا۔ شیوا کی دائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو پشکار (راجستھان )میں گرا اور بڑا تالاب بن گیا اور بائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو کٹاس میں گر کر تالاب میں تبدیل ہو گیا۔
ہندوو¿ں کی سب سے پرانی کتاب ’رگ وید‘ کٹاس میں لکھی گئی اور یہ اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ہے جو دنیا کی بڑی نظموں میں سے ایک ہے جسے ’مہابھارت ‘ کہتے ہیں۔ یہ کتاب تقریباً 300 قبل مسیح میں لکھی گئی لیکن کچھ ہندو سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ 1300 قبل مسیح لکھی گئی۔ اس کتاب میں کٹاس کے متعلق بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ’رگ وید‘ کی پہلی کتاب میں کہا گیا ہے کہ کٹاس کے تالاب کے نیچے ایک چھوٹا دریا بہتا تھا۔ جبکہ برطانوی آرکیالوجسٹ کا ماننا ہے کہ یہ تالاب قدرتی چشموں کی وجہ سے بنا۔ ’تذکرہ جہلم‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تالاب انسان کا بنایا ہوا ہے جو کہ پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کی لمبائی 122فٹ ہے اس کے ارد گرد 19فٹ کی لمبی اور مضبوط دیوار ہے۔ جنرل الیگزینڈر کن نگھم کے مطابق، جو کہ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل (1872-73) تھے، اس تالاب کی گہرائی 23 فٹ ہے۔ جب کہ ہندوو¿ں کے مطابق گہرائی لامحدود ہے۔ گرجاکھ کی تاریخ میں بتایا گیا کہ اس تالاب کے نیچے پانی کی بہت سی ندیاں ہیں۔
katas_templeیہاں پندرہ دن کا تہوار اماوس کے دنوں میں ہر سال منایا جاتا ہے اور ہندو برادری یہاں آ کر اپنے خدا شیوا کو نذرانہ پیش کرتی ہے یہ جگہ چونکہ ہندو برادری کے لیے برصغیر میں مقدس مانی جاتی ہے تو ہندو یاتری تہوار کے دنوں میں پوجا کرنے کے ساتھ مختلف ناچ اور بھجن گاتے ہیں جو ایک طرح سے شیوا کی شادی کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے علاوہ یاتری ’مقدس تالاب‘ میں نہا کر اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔
بدھ مت کے زوال کے بعد کٹاس میں ہندو شاہی دور عروج پر پہنچا۔ کٹاس راج اور بہت سارے دوسرے مندر اور قلعے تعمیر کیے گئے۔ ست گڑھ سے مشرق کی جانب تقریباً 40 کلو میٹر کے فاصلے پر بدھ سٹوپا نظر آتا ہے۔ الیگزنڈر کن نگھم کے مطابق یہ سٹوپا 200 فٹ بلند ہے اور اس کے گرد پانی کے چشمے تھے موجودہ سٹوپا کی کھدائی سے زمین سے تقریباً دو میٹر نیچے پتھر کے تراشے ہوئے چوکور ٹکڑوں کا خوبصورت فرش ملا اور اس سٹوپہ کی بلندی 4 میٹر ہے جبکہ لمبائی اور چوڑائی 12x10 میٹر ہے۔ اس سٹوپا سے 16پتھر کی تہیں بھی ملی ہیں اور اس کے جنوب کی سمت پہاڑی پر بدھ مت کی خانقاہ کے آثار بھی ہیں۔
ست گڑھ کا لفظی مطلب ’سات گھر‘ ہے۔ کٹاس راج کے یہ مندر پہاڑی چوٹی پر واقع ہیں ان تک رسائی کے لیے طویل سیڑھیاں بنائی گئی ہیں جب کہ اکثر جگہ پر پرانی سیڑھیوں کے آثار بھی ہیں۔ اس وقت یہاں 5 مندرموجود ہیں جبکہ دو کے آثار موجود ہیں۔ ان مندروں میں سب سے بڑا مندر درمیان میں ہے جو ان تمام میں قدیم ترین ہے۔ جس کے نیچے والے حصے کی لمبائی 68.5فٹ اور چوڑائی 56.5 فٹ ہے۔ یہ تمام مندرکشمیری طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان مندروں کی تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مندر ساتویں صدی عیسوی سے لے کر دسویں صدی عیسوی کے درمیان تعمیر کیے گئے۔
Pool_at_Katasکٹاس میں سب سے بڑا مندر ’شیوا‘ کا مندر ہے۔ اس جگہ سے تین سروں اور چار ہاتھوں والی مورتی بھی ملی۔ سروں کے درمیان ایک انسانی چہرہ اور بائیں طرف شیر اور دائیں طرف خنزیر کا چہرہ موجود ہے۔ ہندووں کے مطابق انسانی چہرہ ’وشنو ناراین‘، خنزیر کا چہرہ ’وشنو ورہا‘ اور شیر کا چہرہ ’وشنو نارسنگا‘ کا ہے۔ جبکہ تین ہاتھوں میں کنول کے 44 پھول اور چوتھے میں ایک مورتی پکڑی ہوئی ہے۔ دوسرا مندر ’گنیش جی مہاراج‘ (سچائی کا خدا) ، تیسرا مندر ’شیولنگم مہاراج‘، چوتھا مندر ’کالی ماتا‘ (تباہی کی دیوی )، پانچواں مندر ’پاروتی‘ (شیو جی مہاراج کی بیوی)، چھٹا مندر ’لکشمی دیوی‘ (دولت کی دیوی ) کے ہیں۔ یہ مندر ’ہندو شاہی بادشاہوں‘ کے دور میں بنائے گئے۔
’رام چندرا کا مندر ‘ ہری سنگھ حویلی کی مشرقی جانب موجود ہے۔ دو منزلہ عمارت میں آٹھ کمرے ، زمینی منزل کے جنوب کی جانب سیڑھیاں موجود ہیں جو کہ پہلی منزل کی جانب جاتی ہیں اس مندر کی دو بالکونیاں ہیں۔ ’ہنومان ‘ کا مندر مغربی جانب واقع ہے۔اس مندر کے گنبد پر ناگ کی اشکال نظر آتی ہیں جو خاص ترتیب سے بنائی گئی اور یہ ہندوو¿ں کی تہذیب کی عکاسی کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *