خولہ کے نام خط

پیاری خولہ بی بی
سلام،
waqar ahmad malikاو پٹھانی، تمھارے جسم کے اندر جب پہلی گولی گھسی اور اس نے جو تمھارے رگ و پے میں درد اور شراروں کی کیفیت چھوڑی اور جو ٹھیک اس لمحے تمھاری آنکھوں میں حیرت تھی۔ میں اس سے واقف ہوں۔ وہ حیرت اور میں ایک ہی جگہ.... تمھاری آنکھوں میں دفن ہیں۔
عمر کے اس حصے میں انا کے علاوہ ہوتا کیا ہے پٹھانی؟
یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا کا مرکز آپ خود ہوں ۔ پھوپھی ، چچا، ماموں کے گھر وں کی تقسیم مصنوعی لگتی ہے....
ایسے جیسے بس ایویں شاید جگہ کی کمی کی وجہ سے سارے لوگ علیحدہ رہتے ہیں۔اور یہ سب لوگ ، ساری دنیا کا بندو بست آپ کے لیے ہے ۔
اور ایسے میں کوئی آنکھوں میں وحشت لیے گولی مار دے.... تو آنکھوں میں حیرت اور تمھارے اس چاچے کے سوا کیا ہو گا؟
تم عمر کے اس حصے میں تھی جب تمھارے ذہن میں الفاظ کا ذخیرہ 1500 تک جا پہنچا تھا۔
قدرت نے تمھیں یہاں تک پہنچانے میں بے حد جتن کیے ۔
پوری کائنات اس کام پر لگی تھی ۔

اربوں خلیے اور ان کے مابین کھربوں تانے بانے اپنا رنگ دکھا رہے تھے ۔ تم اس قابل ہو رہی تھیں کہ ان پندرہ سو الفاظ کو آگے پیچھے کر کے فقرہ بول سکو۔
تمھارے اندر تم سے چھوٹے بچوں کے لیے جو انسیت تھی میں اس سے بھی واقف ہوں اور قدرت کی ان تمام کوششوں کا مداح بھی ہوں ۔
khaula 1پوری انسانی زندگی میںپیار اور محبت کے خالص ترین جس تجربے سے تم گزر رہی تھیں، ان کا میں آج تصور بھی نہیں کر سکتا۔
بھلا کسی چھوٹے سے بے وقعت سے جانور کے زخمی ہونے پر کوئی ایسے دل جان سے روتا ہے....
جیسے میری پٹھانی روتی تھی۔ ہچکیوں کے ساتھ، آنسو اور ناک کا پانی گڈ مڈ ہو جاتا تھا۔
اب تم گھڑی سے وقت بتانے کے قابل ہو گئی تھی۔ تم چار رنگوں اور ان چار رنگوں کے بارہ امتزاج سے واقف ہو چکی تھی ۔ تم ان میں فرق کر سکتی تھی۔
تم اب دس تک چیزوں کو گن سکتی تھی ۔ رات دن کی تقسیم سے آگاہ ہو چکی تھی۔ تمھیں بخوبی علم ہو گیا تھا کہ ناشتے کا تعلق صبح سے ہے۔
اب تم معلومات کے باہم تعلق (knowlede association ) کی جانب بڑھ رہی تھی۔
تم بڑی ہو رہی تھی ۔ معجزات کا ظہور ہو رہا تھا ۔
تم انسان کے سر ، پاﺅں، ناک وغیرہ کی ڈرائنگ کر سکتی تھیں۔ کھڑکیا ں دروازے بنا سکتی تھیں۔
ظالمو ں کو کیا معلوم کہ ڈرائنگ بناتے وقت تمھارے ہاتھوں میں جو استحکام آ رہا تھے اس کے لیے Primary Motor Cortex کے اندر کیا فیکٹریاں لگی ہوئی تھیں۔
کہانیاں تمھیں کیوں اچھی لگتیں تھیں.... دیومالائی کردار وں سے تمھارا تخیل کیوں جگمگاتا تھا.... تم کوئی نہ کوئی کھلونا ہاتھ میں لے کر ہی کیوں سوتی تھیں....
پٹھانی میں واقف ہوں، ظالم واقف نہیں تھے۔
.... اور تمھیں تعریف کروانا اچھا لگتا تھا، اب شوخ اور رنگ برنگے کپڑے تمھیں بھاتے تھے ، چوڑیوں میں تمھاری جان اٹکنا شروع ہوئی ہی تھی۔

تجسس کہ جو علم کا ماخذ ہے قدرت نے اسی عمر سے تنھارے لیے سیکھنے کابندوبست کر رکھا تھا۔ قدرت علمی غفلت پر کسی طور سمجھوتہ کرتی نظر نہیں آتی تھی۔
اگر تمھیں ٹوکا نہ جائے تو ایک دن میں تمھارے سوال پوچھنے کی تعداد 476تک جا پہنچی تھی ۔
بارش کہاں سے آتی ہے؟ بادلوں سے ۔۔ بادل کہاں سے آتے ہیں ؟ سمندر سے ۔۔۔بادل کیسے آتے ہیں؟ ہوا لاتی ہے ۔۔۔ ہوا کو کون چلاتا ہے ؟ اللہ میاں ۔۔ اللہ میاں
کہاں ہوتے ہیں؟ آسمان پر ۔۔۔اللہ میاں زمین پر کیوں نہیں ہوتے؟ زمین پر بھی ہوتے ہیں۔۔ تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟
ہائے ہائے اب ہماری بھی کچھ حدود ہیں تو ایسے میں تمھارے سوالوں کا سلسلہ ڈانٹ سے روکنا پڑتا ۔۔۔
خولہ ، خدا کے لیے چپ کر جاﺅ ۔۔جاﺅ جا کر باہر کھیلو!
ویسے پٹھانی ، تم نے کچھ کمینی چیزیں بھی سیکھ لیں تھیں۔ آپس کی بات ہے کونسا کوئی سن رہا ہے۔۔
khaula 2تم نے حسد کرنا سیکھ لیا تھااور چھوٹے بھائی کے ساتھ جب کوئی پیار کرتا تھا تو تمھیں آگ لگ جاتی تھی ۔
لیکن یہ حسد یاداشت کا حصہ نہیں بن پا رہا تھا اس لیے بے ضرر تھا۔۔
اور تم نے ماں باپ کو بلیک میل کرنا بھی سیکھ لیا تھا کہ کس طرح رونے سے وہ فرمائش پوری کر دیں گے ۔۔۔
لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔ اخلاقیات سیکھنے اور دوسرے انسانوں کا درد محسوس کرنے کے لیے قدرت نے تمھارے لیے گیارہ سال کی عمر مختص کر رکھی ہے ۔
اور جیسا کہ تم ایک ذہین پٹھانی تھی۔۔ تم اس عمر میں جا کر ضرور سیکھ جاتی۔
اب تم تین حکمی فقرہ بخوبی سمجھتی تھی۔” خولہ کتاب ادھر رکھو، دانت برش کرو، اور کھانا کھاﺅ“
اور تم اسی ترتیب سے تمام کام کرنے کے قابل ہو چکی تھی۔
اسی لیے تو جب وہ آئے ، چیخے اور کہا ۔۔کہ وہ بچے ادھر ہو جائیں اور استانیاں وہاں چلی جائیں اور استاد ادھر کھڑے ہوں۔۔

تو تمھارا ننھا دماغ اس ترتیب کو سمجھ رہا تھا۔ان کی گھٹیا ترکیب تمھاری سمجھ سے باہر تھی۔
پھرجب وہ آئے تھے اور انہوں نے گولیاں چلائیں اور تم بابا کے ساتھ چپکی تھی اور پھر۔۔۔؟ پتہ نہیں پھر کیا۔۔
مرنے سے چند ساعت قبل جب تمھاری آنکھیں حیرت سے کھلیں تھیں ۔۔
جب بتدریج بڑھتے اندھیرے سے تمھاری آنکھیں بند ہوئیں تو اس میں حیرت کے ساتھ معلوم ہے اور کون دفن ہوا تھا۔۔
میں دفن ہوا تھا خولہ۔۔
وہ گولی مارنے والے سنا ہے کچھ تعلیمات کی بھی بات کرتے ہیں ۔ کچھ قصے ہیں ان کے پاس بتانے کو ۔
لیکن میں کیا جانوں؟
khaula 3جس دن خولہ مر ی.... اس دن سب تعلیمات ، بھاشن، اخلاقیات کے درس ، زندگی کی مقصدیت....
سب مر گئے تھے۔
خولہ کے ساتھ .... میری پٹھانی کے ساتھ.... سب مر گئے تھے۔
والسلام
تمھاری آنکھوں میں مدفون
فقط تمہارا.... چا چا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *