ایک ماں سے یک جہتی .... اور ہمارے ترقی پسند

zeeshan hashimپاکستان میں جب بھی میری ترقی پسند دوستوں سے بات چیت ہوئی ہے ، زیادہ تر تان دو چیزوں پر جا ٹوٹی ہے ..ایک یہ کہ ان پیچیدہ فلسفیانہ مباحث اور ان میں اٹھائے گئے باریک نکات کا پاکستان میں کوئی فائدہ نہیں .... دوم ، پاکستان میں کوئی ترقی پسند فورم یا پلیٹ فارم ہی نہیں جہاں وہ منظم جدوجہد کر سکیں یا کم ازکم اپنی آواز بلند کر سکیں -
گزشتہ سال سولہ دسمبر ہماری تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا- جب تک پاکستان میں انسان دوست لوگ موجود ہیں ان کے دل معصوم بچوں پر اٹھائے گئے مظالم کو یاد کر کے خون کے آنسو روتے رہیں گے اور اس درندگی پر لعنت بھیجنے کا سلسلہ نہیں تھمے گا جس نے ایک مخصوص نظریہ انسانوں پر مسلط کرنے کی کوشش میں معصوم فرشتوں کو لہولہان کر دیا - اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس المناک واقعہ کے عذر خواہ ’اگر مگر چونکہ چنانچہ‘ کرتے رہیں گے کیونکہ بعض نفسیاتی عارضے بعض اوقات ناقابل علاج ہوتے ہیں -
اس سانحہ کے بعد اکثریت نے فیس بک و ٹیوٹر پر ڈی پی بدلی، نوحے لکھے، حملہ آوروں سے بے زاری اور نفرت کا اظہار کیا ، کالم و مضامین لکھے گئے ، اسباب و علاج کے مباحثے ہوئے ، مقتدر طبقات نے پالیسی پر نظر ثانی اور دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کا عزم کیا- دھرنے ختم ہوئے اور سیاست و سماج نے یک زبان ہو کر دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کی راہ چنی -
جوں ہی وقت گزرا ، جذبات ٹھنڈے پڑتے گئے - جن ہونٹوں کو انسانی خون لگ چکا تھا انہوں نے اپنی پیاس بجھانے کے لئے دوبارہ سے گھات لگانا شروع کر دیا- ترقی پسند بے سمتی کے سبب بکھرتے چلے گئے- مقتدر طبقہ پھر سے تزویراتی اور تکوینی بحث tamina3میں دلچسپی لینے لگا۔ دھرنے کی روح پھرپھرانے لگی ۔ دہشت گردی کے خلاف محاذ بدل کر اسے سیاستدانوں کی کرپشن اور کردار کشی کی جانب مبذول کر دیا گیا- پاکستانی طالبان کے دودھ شریک بھائی افغانی طالبان پاکستان میں بیٹھ کر جنگی منصوبہ بندیاں اور بین الاقوامی طاقتوں سے ’کچھ لے اور کچھ دے‘ کے سودے کرنے لگے اور ہمارا مقتدر طبقہ پھر سے مہم جو رومانس میں ڈوبتا چلا گیا- مگر ایک خاتون ایسی ہے جس نے اپنے بیٹے بلال سے انسپائریشن لی
کیونکہ ایک ماں ان ایک سو بتیس سے زائد معصوم شہدا کی ماو¿ں کا دکھ سمجھ سکتی تھی جن کے لخت جگر گولیوں سے بھون دیئے گئے محض اس لئے کہ ان کے قاتل اپنا ایک مخصوص نظریہ بیس کروڑ عوام پر مسلط کرنا چاہتے تھے ، وہ عوام پر حکومت کرنا چاہتے تھے عوام کو دہشت زدہ کر کے۔ وہ اس قوم سے اس کی آزادی و خودمختاری چھین لینا چاہتے تھے -
اس خاتون کا نام تامینہ مرزا ہے جو ایک سکول میں معلم ہے اسی لئے وہ سکول کی ان معصوم جانوں کی مظلومیت سمجھ سکتی ہے- تامینہ لاہور میں لبرٹی مارکیٹ کے سامنے اپنے دوستوں اور بیٹے بلال کے ساتھ ہر ماہ کی سولہ تاریخ کو صرف اس لیے موجود ہوتی ہے کہ کہیں ان معصوم بچوں کی قربانی کو بھلا نہ دیا جائے اور وہ نام لے لے کر دہشت گردوں کے یاروں اور قلعہ بند قوتوں کو بے نقاب کرتی ہے جن کے ناپاک وجود سے معصوم شہریوں کے قتل کے بھبھوکے اٹھ رہے ہیں - وہ ان پر پابندی کا مطالبہ کرتی ہے اور ہمارے اجتماعی شعور اور قومی وجود کو ان دہشت گردوں کے خلاف بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہے بغیر اس کی فکر کئے کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے یا نہیں، اس کا اثر ہو رہا ہے یا نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنی ذمہ tamina2داری نبھانی ہے جو بطور ایک انسان دوست شہری ، ایک ماں اور ایک معلم کے اس پر عائد ہوتی ہے-
میں نے اس سے پوچھا ،کہ تمہیں پاکستانی ترقی پسند (لبرل و سوشلسٹ ) قوتوں سے مدد ملی ، کسی نے سراہا ، شاباش دی ہو ، اور کہا ہو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ، عاصمہ جہانگیر ،رضا رومی ، وجاہت مسعود ، فرزانہ باری، ڈاکٹر لال خان اور بہت سارے لوگ ہیں ان کی طرف سے کبھی کوئی حوصلہ افزا پیغام ملا ؟ جواب ملا ہر گز نہیں ، ایک بار دو این جی اوز نے ساتھ شامل ہونے کی پیشکش کی ، مگر ان کا طریقہ کار دیکھ کر میں نے انہیں یہ جواب دیا کہ میں معصوم بچوں کے خون کو بیچنا نہیں چاہتی -
کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ لاہور شہر جو علمی و ثقافتی اعتبار سے پاکستان میں سب سے آگے ہے ، اس شہر میں صرف بیس سے تیس افراد ہاتھوں میں کتبے اٹھائے اور شمعیں روشن کئے مصروف ترین سڑک کے ایک جانب لاو¿ڈ سپیکر میں بلند آہنگ پوری قوم کو ان معصوم بچوں کا یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ ہمیں بھلا نہ دینا ، طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ، یہ کافر فیکٹریاں بند کرو ، مگر پورا شہر خاموش و بے حس ہے ۔ اسی لبرٹی مارکیٹ کے عقب ، حفیظ سنٹر میں ایک شخص اپنی دکان کے دروازے پر احمدیوں کو کتا لکھتا ہے ،اس کے دفاع میں گلبرک کے لوگ ہجوم کی صورت میں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے پھولوں کے ہار پہناتے ہیں - مگر مجھے گلہ تو پاکستانی ترقی پسندوں سے ہے جو فیس بک اور دوستوں کی بیٹھک میں یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ بھئی یہاں کوئی پلیٹ فارم نہیں جس پر منظم ہو کر ان دہشت گردوں اور ان کے ہمجولیوں کو للکارا جائے - تامینہ مرزا نے ثابت کیا ہے کہ اگر پلیٹ فارم نہیں تو پیدا کرو ، کوئی سنے یا نہ سنے کسی پر اثر ہو یا نہیں مگر اپنے حصہ کا کام کرتے جانا ہے - تامینہ مرزا ہمارے لئے ایک رول ماڈل ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *