سولہ دسمبر.... یوم ستمگر

farnood alamمشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ۔ اس کے ماتھے پہ کھنچی ہوئی خون کی لکیر بھی ذرا دیکھ۔ وہ لکیر جو پون صدی کو محیط ہمارے المیوں کا ایک خلاصہ ہے۔
خیر۔!!
ابھی سانحہ ہوا نہیں ہے۔ ابھی تو بچے اسکول پہنچے ہیں۔ ابھی تو اسمبلی ختم ہوئی ہے۔ قطار اندر قطار بہت سلیقے سے اپنی درس گاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ابھی بدلے ہیں کپڑے .... ابھی نہائے ہیں۔ گالوں کو تھپتھپا کر دیکھیئے ذرا جیسے شبنم کسی پھول پہ تازگی کا احساس چھوڑ گئی ہو۔ لنچ بکس کی تپش ابھی ماند نہیں پڑی۔ اساتذہ کے گلے ابھی کھنکارنا چاہتے ہیں۔ جن کا ہوم ورک پورا ہے، وہ بریک ٹائم کے لئے منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں۔ جن کا کام ادھورا رہ گیا وہ جوا ب دہی کے احساس سے سہمے ہوئے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو چھٹی کے بعد مما کے ساتھ کسی تقریب میں جانے والے ہیں۔ سج سنور کے۔ چہک مہک کے۔ مگر ابھی کہاں۔؟ ابھی تو افتاد کے ٹوٹ پڑنے میں کچھ گھنٹے باقی ہیں۔
کیونکہ۔!!
مما ابھی بچے کو رخصت کرنے کے بعد ابتدائی احساس میں گھری ہوئی ہے۔ ہم ماو¿ں کو کچھ کام پتھر کی کس قدر بھاری سِل اپنے دل پہ رکھ کر انجام دینے پڑتے ہیں۔ بچہ جن دلگیر اداو¿ں کے ساتھ اسکول کے لئے نکلتا ہے یوں لگتا ہے سینہ چیر کے دل نکلا جارہا ہے۔ عجب قیامت ہے، بچے نے اسکول کیلئے گھر کی دہلیز پار کرتا ہے اور یہاں ویرانیاں پھیل جاتی ہیں۔ بچے کی واپسی کا خوشگوار احساس اگر نہ ہو تو جدائی کے یہ یومیہ پانچ گھنٹے جیتے جی مار دینے کو بہت ہیں۔ مگر ابھی رکیئے۔
ابھی تو۔۔!!
بس مما نے سر جھٹکا ہے، ابتدائی احساس سے ابھی باہر آئی ہیں۔ ابھی تو گھڑی دیکھی ہے کہ ماسی آج بھی بروقت نہیں آئی ہے۔ وہ آئے تو نشیمن کا کاروبار چلے۔ کچھ کام سمٹیں ، کچھ کاج نمٹیں۔ یہ نمٹیں گے تو وہ وعدے وفا ہوں گے جو دل بہلانے کو بچے سے کئے گئے ہیں۔ مگر ابھی کہاں۔ ابھی تو گھر گرہستی شروع بھی کہاں ہوئی۔ آسمان کی طنابیں ٹوٹنے میں ابھی کچھ گھنٹے رہتے ہیں۔
کیونکہ۔!!
موت کا سب سے بزدلانہ منظر ابھی اسکول سے کچھ فاصلے پہ بھٹک رہا ہے۔ ابھی تو اشراق کی نماز پڑھی گئی ہے اور ابھی چاشت کے کچھ سجدے بھی باقی ہیں۔ کچھ اوراد ہیں اور کچھ وظائف ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ کا رن پڑنے سے پہلے امر ہوا چاہتے ہیں۔ کچھ پیمان ہیں جو انہیں خدا سے لینے ہیں۔ کچھ عہد ہیں جو ابھی انہیں خدا سے کرنے ہیں۔ ابھی تو بس مسکراہٹوں کا تبادلہ ہے، کہ آخر خداواندانِ غیرت نے دستیاب انسانی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج پہ حملہ آور ہونا ہے۔ معصوموں کی وہ فوج جسے ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ جب ابو کو ایک گھر بنانے میں چھ مہینے لگ گئے تھے تو قائد اعظم نے یہ اتنا بڑا پاکستان ایک دن میں کیسے بنالیا تھا۔؟ جنہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ظالم اور مظلوم دونوں کے دانت بتیس ہی ہوتے ہیں۔ آپ کو کچھ سنائی دیا۔؟ خدائی فوجدار کلمے کا ورد کر رہے ہیں۔ پیہم ورد دم بدم اللہ ہو۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، وہی دیکھنے کو یہ بے تاب ہیں۔ وہ دن جو انہی کو دکھائی دے گا۔ وہی وعدہ جو ستر سے زائد حوروں کی بلائیں لے رہا ہے۔ مگر ابھی کہاں؟ ابھی تو حق وباطل کا آخری معرکہ سر ہونے میں کچھ گھنٹے باقی ہیں۔
کیونکہ۔۔!!
نصرت کے فرشتے اب بھی کم از کم پچاس ہزار فٹ کی بلندی پہ محو پرواز ہیں۔ وہ پرستان کے بادشاہ کا حکم سننے کے منتظر ہیں۔ عاشقی صبر طلب ہے اور تمنا بالکل بے تاب کھڑی ہے۔ وہ لپک کے آنا چاہتے ہیں۔ فضائے بدر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ قطار اندر قطار آنا ہے۔ پلٹنا ہے جھپٹنا ہے اور جھپٹ کر پلٹنا ہے۔ ایک نعرہ مستانہ تو بلند ہو۔ مگر ابھی کہاں؟ ابھی تو چاشت کے وہ سجدے جو جبینِ نیاز میں تڑپ رہے ہیں، ادا کہاں ہوئے۔ خلوص کے دوش پہ ابھی کچھ مناجات نے سات آسمانوں کو چیر کر عرش بریں کو جگانا ہے۔ تب کہیں جاکر حجاب اٹھیں گے۔ نالوں کے جواب آئیں گے۔ آئے تو سہی، مگر ابھی کہاں؟ ابھی تو عرش و فرش کے فاصلے سمٹنے میں کچھ گھنٹے رہتے ہیں۔
توجہ طلب ہوں۔!!
یہی جو کچھ گھنٹے ہیں انہی کچھ گھنٹوں میں ایک الجھن میری سلجھادیجیئے۔ یہ جو بچے ہیں یہ تو بچے ہیں۔ انہیں پھول کی طرح مسل دیا جائے کہ یا اپنے آپ ہی مرجھا جائیں، ان کا ٹھکانہ تو بہشتِ بریں ہے۔ وہ جو قدسیوں کا ایک لشکر جو آسمان سے اترنے کو ہے، وہ بھی بہشتِ بریں کے دربان ہیں۔ اور یہ جو سیاہ عماموں والا لشکر قیامت کی نشانی بن کر خراسان کے پردوں سے ظہور پذیر ہونے والا ہے، ان کی مقدس روحوں کا استقبال کر نے کو حورانِ بہشت جنت کی شاہراہوں پہ نغمہ سرا کھڑی ہیں۔ بات یہ ہے کہ میں وہ جنت دیکھنا چاہتا ہوں جہاں خدا کے یہ بچے اور خدا کے یہ بندے ایک ہی نہر کے کنا رے بیٹھ کر دودھ اور شہد کے کٹورے بھریں گے۔ ہے کوئی صاحب نظر جو مجھ ایسے کم نظر پہ پل بھر کو یہ منظر منکشف کردے؟ یہ ہوجائے تو میرا ماتھا زندگی بھر آپ کے چرنوں سے نہ اٹھنے پائے صاحب۔ جے سِر اٹھاواں تے کافر آکھیں۔ اب نہ سہی، تب سہی۔ ہم دیکھیں گے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ وہ ایک منظر، جہاں محمود و ایاز دوش بدوش کھڑے ہیں۔ ایک گھاٹ پر۔ ایک نہر پر۔
ہم جانتے ہیں۔!!
خدائی فوجدار کی خاموش حمایت رکھنے والی خدائی بیو روکریسی ہم پہ چڑھ چڑھ کے آوے گی۔ ہم سے پوچھا کریں گے کہ بتلایئے کب ہم نے ان درندوں کیلئے کوئی بشارت گوارا کی ہے۔ جی نہیں کی۔ کب کی؟ ہم افتادگانِ خاک سہی، مگر ایسا تو پھر بھی نہیں کہ رویوں کو بھانپ نہ سکیں۔ ہم تہی دست، تہی دامن ہی سہی مگر سچ یہ بھی ہے کہ زاہد نے میرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا۔ ویسے بھی صوفی وملا کو خاک کوئی خبر ہے میرے جنوں کی؟ آپ کا تو صاحب ابھی سرِ دامن بھی ٹھیک سے تر نہیں ہوا۔ جانتے ہیں، جی ہاں ہم بھی جانتے ہیں کہ خدائی بیورو کریسی خدائی اسٹبلشمنٹ اور خدائی ڈپلومیسی کس بولی میں گفتگو فرماتی ہے۔ کیا میں غلط ہوں۔؟ اگر ہاں، تو پھر اٹھایئے گزشتہ سولہ دسمبر کے اپنے وہ خطاب، بیانیئے اور اظہاریئے کہ جس میں آپ کے دکھوں پہ اگر مگر، اگر چہ مگر چہ، چونکہ چنانچہ کے مکروہ غازے چمٹے ہوئے تھے۔ تب تو پہلو میں پڑے دل سے خون کے فوا رے چھوٹ رہے تھے، تب بھی آپ کے نامے ”مگر“ جیسے مکر اور چنانچہ جیسے ”طمانچے” سے باز نہ رہ سکے۔ یہ اگر چہ مگرچہ کی دھنیں کرب کی کون سی تاروں سے اٹھ رہی ہیں کیا یہ بھی ہم نہ جانیں گے؟
سنیں۔!!
آج بھی المیہ یہ نہیں کہ ایک سو چالیس ماو¿ں کی گودیں اجاڑ دی گئیں۔ کرب بھی یہ نہیں کہ معصوم سی کلیوں کو اپنے خون میں تڑپایا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ اب بھی وہ در ندے میرے گرد وپیش میں موجود ہیں جو خون کی اِس ندی کنارے کھڑے ہوکر فقط رسمیں ادا کر رہے ہیں۔ آج سولہ دسمبر ہے مگر وہ ہمیں جنوری کے راگ سنانا چاہتے ہیں۔
مگر ٹھہریئے۔!!
ابھی تو کچھ گھنٹے باقی ہے۔ چمکتی ہوئی تلوار سوا نیزے پہ آنے کو ہے۔ جو اجلے احساس کے ساتھ اس درد کو نہ سہہ پائیں، ان کے چہرے یاد رکھیئے گا۔ یہی چہرے ہیں جو رات کی جلوت میں دردندوں کی نصرت پہ خدا کو مجبور کرتے ہیں اور دن کی جلوت میں جنازے کو بایاں کندھا دینے چلے آتے ہیں۔
بچوں کا کیا۔؟
وہ اپنا کام کرچکے۔ ایک دردِ مسلسل دے چکے جو برسوں ہماری بحر کی موجوں میں اضطراب اٹھائے رکھے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *