پڑھائی،سولہ دسمبر اور دشمن کے بچے

saima irumڈاکٹر صائمہ ارم

ایک سال بیت گیا۔ایک نیا نغمہ ایک نئی امید اور ایک نئے جوش کے ساتھ فضا میں گونج رہا ہے۔سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔نت نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔بحث کا موجب بن رہا ہے۔ اعتراضات ہو رہے ہیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی خواہش درست ہے۔ اس نغمے کے خالق نے شاید اس سوچ کے ساتھ یہ مصرع تحریر کیا ہو گا کہ دشمن کی سوچ کو بدلنے کے لیے اس کی نسلوں کی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ درست ہے، ابتدائی سطح کی تعلیم اسی قدر اہم ہوتی ہے۔ دور کیوں جائیے۔ لارڈ میکالے ہی کی تعلیمی پالیسی اٹھا کر دیکھ لیجیے۔بلکہ اس کو بھی کیوں ، ذرا 1947ءکے بعد پاکستانی نصاب کی تبدیلیوں کو ہی سامنے رکھ لیجیے،یا اگر اتنا وقت نہیں ہے تو عامر ریاض کی بنائی ہوئی رپورٹ (جو انٹر نیٹ پر محض ایک کلک سے سامنے آ سکتی ہے) ’ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں‘ ہی کا مطالعہ کر لیجیے تو صورتحال سامنے آجائے گی۔شریف کمیشن رپورٹ دیکھ لیجیے۔احمد سلیم کی بنائی ہوئی رپورٹ ملاحظہ کر لیجیے۔بچوں کے لیے نصاب سازی میں کیا کیا گھپلے ہو رہے ہیں اور کب سے ہو رہے ہیں،یہ جاننے کے لیے کسی خاص کاہش کی ضرورت نہیں ہے۔بےکار تعصب اور بے سمت نفرت کو پروان چڑھاتی تحریریں نا محسوس انداز میں معصوم ذہنوں کو آلودہ کیے جا رہی ہیں۔اس پہ مستزاد کم علم اور نا فہم مولوی حضرات کی مساجد کے خطبوں اور قرآن پڑھنے کے مشتاق طالب علموں سے ان کا رویہ ہماری نسلوں کو ذہنی طور پر اپاہج بنائے جا رہا ہے۔گھر کے نالائق بچے کے لیے پرائمری سکول کا ٹیچر بننے کا رستہ کھولا جاتا ہے اور نالائق ترین کو مولوی بننے کے لیے محلے کے مولوی کے پاس بھیج دیا جاتا ہے جو عام طور پر خود بھی اپنی کم ذہنی استعداد کی وجہ سے محلے میں مسجد سنبھالے بیٹھا ہوتا ہے۔یوں یہ جادوئی چکر چلتا رہتا ہے۔ ایک غیر تربیت یافتہ اور بے علم پرائمری استاد ،معمولی مشاہرے پر بچوں کو غیر معیاری نصاب ،غیر دلچسپ انداز میں رٹا دیتا ہے اور معاشرے کے خلاف اپنی نفرت کو بھی ان معصوم ذہنوں میں انڈیلتا چلا جاتا ہے۔ تعصب اور بے جا تفاخر سے لبریز یہ بچے جب بڑے ہو کے اصل حقائق کا سامنا کرتے ہیں تو بری طرح کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ان کے لاشعور میں موجود نظریات پر زد پڑتی ہے اور تیرہ ،چودہ برس تک وہ جو کچھ پڑھتے آئے ہیں وہ سب یکایک بےکار اور جھوٹ ثابت ہونے لگتا ہے۔ آج کی دنیا میں جب ہزار ہا طرح کے نظریات اور دلائل ہمہ وقت سامنے آتے رہتے ہیں،وہ چند بنیادی سوالات ہی کا جواب نہیں دے پاتے۔یوں یا تو سرے ہی سے مذہب اور معاشرے کے باغی ہو جاتے ہیں یا مزید بنیاد پرست،اور دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں ایک خلش سی ان کے ساتھ رہتی ہے۔ایک نا محسوس شرمندگی ان پہ چھائی رہتی ہے اور وہ کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر پاتے۔ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کی وجوہات میں سے یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔
قیام پاکستان کے ابتدائی زمانے میں اگر نصاب سازی کرتے ہوئے مذہبی تفاخر کو اہمیت دی گئی تو شاید اس وقت ایسا کرنا ٹھیک تھا۔نوزائیدہ مملکت بہت سے مسائل کا شکار تھی۔ سرحد پار سے آنے والے اپنی جڑیں کاٹ کر اور مال و متاع و احباب لٹا کر آرہے تھے۔ نظریہ پاکستان کو نوخیز ذہنوں میں راسخ کرنا ضروری ہو گا، لیکن جب یہ ابتدائی مرحلہ گزر گیا تب مذہبی منافرت کو پھیلاتے چلے جانے کی کیا ضرورت رہ گئی تھی؟کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ بدلتے ہو ئے منظر نامے کو سامنے رکھ کر ایسی نصاب سازی کی جاتی کہ ہمارے بچے عالمی سطح پر سر اٹھا کر جینے کے قابل بنتے۔سہولیات یا مواقع کے فقدان کو اگر پوری طرح درست نہیں کیا جا سکتا تھا تو کم از کم ایک مثبت اور تعمیری سوچ کو تو پروان چڑھایا جا سکتا تھا۔جو وسائل اس وقت بروئے کار لائے جاتے ہیں،انھی کو بہتر طور پر نتیجہ خیز بنایا جا سکتا تھا۔اور اگر تب نہیں کیا گیا تو یہ کام اب سے شروع کیا جاسکتا ہے۔پرائمری سکول کے اساتذہ کا انتخاب کڑا کر دیا جائے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ دیہاتوں میں موجود اسکولوں کا معیار بلند کیا جائے۔ خاص طور پر نصاب میں تبدیلی کی جائے اور غیر مسلموں سے نفرت سکھانے پر ارتکاز کرنے کی بجائے اپنی شناخت اور عالمی معاشرے میں اپنی حیثیت بننانے کو اولیت دی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت یہ سب دیوانے کا خواب محسوس ہو لیکن اگر لیبیا میں خواندگی کی شرح 100 فی صد ہو سکتی ہے،اگر سری لنکا سے دہشت پسند گروہوں کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے،اگر چین میں بنیادی سہولتیں سب کو یکساں طور پر حاصل ہو سکتی ہیں تو ہم بھی اپنے لیے بہتر مستقبل کی امید رکھ سکتے ہیں۔مگر معاملہ یہ ہے کہ سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو ،پہلا قدم تو اٹھانا ہی پڑتا ہے۔یہ پہلا قدم جب اٹھے گا تو منزل مل ہی جائے گی۔ آتش نے کیا خوب کہا تھا۔
سفر ہے شرط،مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

پڑھائی،سولہ دسمبر اور دشمن کے بچے” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 17, 2015 at 11:41 PM
    Permalink

    Well consolidated and well articulated.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *