مودی، مظفرنگر اور نہرو کا ایک ہیرو

ijaz zakaاعجاز ذکاء سیّد

لارڈمغند ڈیسائی اس طرزِ عمل پربے حد حیران ہیں، جسے اختیار کرتے ہوئے ہندوستانی انتظامیہ اورسپریم کورٹ نے جسٹس اے کے گنگولی کو فریق بنانے والامبینہ جنسی تشدد کا مقدمہ نمٹایا ہے۔لندن سے ایک ٹی وی مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے، لندن سکول آف اکنامکس کے اس سابق محترم استاد اور ہندوستان اور پاکستان پر کئی ضخیم کتابوں کے مصنف نے اصرار کیا کہ ریٹائرڈ جج کوئی خاص حقوق نہیں رکھتا۔ ’’ایک سادہ ایف آئی آر اور پولیس کی تفتیش اس معاملے کونمٹاسکتی تھی۔ ‘‘ استاد نے اس بنیادی اصول کی اہمیت پر زور دیا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
اب یہ لارڈ ڈیسائی کا مخصوص نقطہء نظر ہے جواپنے تیز تجزیاتی ذہن اور ادھر ادھر کی ہانکنے سے بچنے کے متعلق معروف ہیں۔جسٹس گنگولی کی کہانی ترن تیج پال کیس کے بعد سامنے آئی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک معاشرے کے طور پر ہندوستان کتنی پستی میں جاچکا ہے۔حتیٰ کہ جمہوری ریاست کی مقدس ترین ہستیاں بھی اخلاقی پستی میں گرنے سے محفوظ نہیں ہیں۔
لیکن کیا ہمارے پنڈتوں کی ’’اخلاقی عصمت دری‘‘کوہمیشہ کسی خاص ہدف کو نشانہ بنانا چاہئے؟ اگر قانون ہر ایک کے لئے یکساں ہے تو پھر اپنے نئے ہیرو اور بت کے لئے بھی وہی قانون اور گز کیوں استعمال نہیں ہونا چاہئے؟
یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ جب ڈیسائی پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کے وسیع البنیاد، سیکولر، تمام مذاہب کے لوگوں کو گلے لگانے والے ہندوستان کے آئین میں پیش کردہ تصور سے محبت کرتے تھے۔نہرو کے ان توانائی سے بھرپور دنوں کے جذبے کو بیان کرنے کے لئے ڈیسائی نے ایک عمدہ کتاب تحریر کی ، جس کا عنوان ہے: ’’نہرو کا ہیرو: دلیپ کمار، ہندوستان کی زندگی میں‘‘
ایک بے مثال فنکار کی سوانح عمری کہ جس نے گزشتہ چھ عشروں میں ایک بہت بڑے بت کی طرح ہندوستانی سینما کو متعارف کرایا اورغلبہ دلایا۔پشاورسے آئے ہوئے پٹھان کی زندگی اور زمانے، اور کردار جو انہوں نے پیش کئے اورکہانیاں جو ان کی فلموں نے سنائیں، وہ آپس میں بُنی ہوئی تھیں اور قوم کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ پہچانی گئیں۔
1944ء میں اپنی فلمی زندگی شروع کرنے والے دلیپ کمار کی زندگی اور کہانی دراصل ہندوستان کی زندگی اور کہانی ہے۔ پاک افغان سرحد کے قریب بطور یوسف خان پیدا ہونے کے باوجود، وہ یکساں طور پر نہایت شاندار انداز میں ایک صاف اور سادہ بھوج پوری بولنے والے ان پڑھ کسان، ایک مزدور یونین کے سربراہ اور پیار میں ڈوبے ہوئے اس مغلیہ شہزادے کے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ ہندوستان کے بہترین اداکار ہیں، بلکہ وہ ہندوستان کے بہت بڑے بڑے فنکاروں کی کئی نسلوں کے لئے ترغیب کا باعث بھی رہے ہیں۔ ان سے متاثر ہونے والوں میں امیتاب بچن سے لے کر شاہ رخ خان تک سبھی شامل ہیں۔
ایک ایسا شخص جو دلیپ کمار۔۔۔ اور اس کے توسط سے نہروکا اتنا بڑا شیدائی ہے، اور اس کی آزاد خیال اور سیکولر خصلت بنیادی طور پر اس فنکار سے اتنی ملتی جلتی ہے کہ اس نے اسے ایک مثال بنا لیا ہے۔ میں حیران ہو ں کہ کس طرح وہ مزدوروں کا حامی ہونے کے باوجود اب نریندرا مودی کے قصیدے پڑھ رہا ہے؟
جسٹس گنگولی کے معاملے میں تو ڈیسائی تیز رفتار انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور کوئی امتیازی سلوک پسند نہیں کرتے لیکن ان کے نئے بت کے زیر انتظام جن بھیانک جرائم کا گجرات نے سامنا کیا، ان کے متعلق وہ بہت سے دوسرے آزاد خیالوں کی طرح یہ چاہتے ہیں کہ ’’ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھا جائے۔‘‘
ہندوستانی میڈیاگجرات کے وزیر اعلیٰ سے ان کی کاروبار کے لئے مفید پالیسیوں کی وجہ سے، مشکلات کا باعث بننے والے تمام ضوابط کو ختم کرنے کی وجہ سے اور اہم ترین ریاستی زمین اور دوسرے قیمتی اثاثے مفت اور تحفے کے طور پر کچھ خاص لوگوں کو دے دینے کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈیسائی جیسے معقول اور سمجھدار لوگ ’’ترقی اور حکمرانی کے گجرات ماڈل‘‘ کے ہاتھوں بظاہر سچے مگر درحقیقت مشکوک انداز میں آؤٹ ہوگئے ہیں۔
ان کے دفاع کی بنیاد یہ ہے: ’’ٹھیک ہے، کچھ ’غلطیاں‘ شاید مودی کی قیادت میں کی گئی ہوں لیکن ذرا ان اچھی چیزوں کو تو دیکھیں جو ترقی اور حکمرانی کے حوالے سے انہوں نے گجرات میں کی ہیں۔ہندوستان کے لئے وہ اس سے کہیں زیادہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ گجرات میں ہونے والے اس افسوسناک واقعے پر شرمندہ بھی ہیں۔ یہ آگے بڑھنے کا وقت ہے!‘‘
ان سب باتوں سے تو یوں لگتا ہے کہ اگر آپ اچھی حکمرانی کا وعدہ کر لیتے ہیں توآپ کو قتل کرنے پر بھی کسی برے نتیجے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔ یہی نہیں۔۔۔۔ آپ اور بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔شاید ایک ایسے وقت میں صرف ڈیسائی کا تذکرہ کرنا نامناسب ہو گا کہ جب ہر شخص نئے شہنشاہ کو خوش آمدید کہنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے انسانیت کے خلاف جرائم پر ان کا احتساب کرنے کی بجائے، گجرات کے فیاض عوام نے انہیں تین بار منتخب کیا ہے۔
اور اب بی جے پی،مودی کی ذات کو گھیرے ہوئے موجود تمام عدالتی مقدمات اور تنازعات کونظرانداز کرتے ہوئے، انہیں قوم کی قیادت کے لئے منتخب کر چکی ہے۔ اگر پارٹی اگلے سال ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو وزیراعظم نریندرامودی ہوں گے، جو بہرحال حالیہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعدصاف نظر آرہا ہے۔ اس بات کی کون پروا کرتا ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام کردیا گیا تھا اور سینکڑوں خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی؟
ہم ان کے اچھے ریکارڈ اور اس سے زیادہ اچھے مستقبل کے وعدے کے سامنے ان کے ماضی کو تھام نہیں سکتے!
سچ یہ ہے کہ انصاف کے بھی رشتے ہوتے ہیں اور قانون ہر ایک کے لئے یکساں نہیں ہو سکتا۔انصاف فراہم کرنے سے پہلے آپ کوجرم کے حالات اور ملزم اور مظلوم کے پس منظرکو بھی ذہن میں رکھنا پڑتا ہے!
اگر ایک طویل اور تلخ میڈیا ٹرائل کے بعد، تہلکہ کا ایڈیٹرتیج پال، جنسی تشدد کے نتیجے میں گوا کی جیل میں پڑا جل رہا ہے تو اس کی ایک وجہ ہے۔دوبارہ، اگر وہی میڈیااور سول سوسائٹی، مظفر نگر میں ہونے والی سینکڑوں عصمت دریوں سے بیگانہ رہتی ہے تو اس کی ایک بھرپور وضاحت موجود ہے۔اور وہ یہ کہ میڈیا اور سول سوسائٹی ان عصمت دریوں کواپنا اجتماعی مسئلہ نہیں دیکھتی۔
اپنے تازہ ترین شمارے میں نیوز میگزین آؤٹ لُک نے مظفرنگرکے انسانی سانحے پرایک بے چین کردینے والی کور سٹوری شامل کی ہے۔ ’’تھریڈ بارڈ‘‘ نامی یہ کہانی مظفر نگرکے سانحے میں ان بچ جانے والوں کے سنائے ہوئے واقعات پر مبنی ہے جنہیں میگزین نے ’’مظفر نگر کے بہادر دل‘‘ کہا ہے۔
وہ کہانیاں جو میں نے کبھی پڑھیں، یہ ان میں سب سے زیادہ بے چین کر دینے والی کہانی ہے۔پھر سے ابھرتا ہوا نیا ہندوستان جوگزشتہ دسمبر میں دہلی میں ہونے والی بھیانک عصمت دری پراور بالکل حال ہی تیج پال اور گنگولی کے واقعات پراحتجاج کے ایک سونامی میں ابھراہے، وہ مظفر نگرکے بہادردلوں کے ساتھ ہونے والے سانحے پر گونگہ اور بہرہ معلوم ہوتا ہے۔
شاید اس لئے کہ جب میڈیا۔۔۔ کم از کم اس کی باضمیر آوازوں میں سے کچھ نے۔۔۔۔ بیسیوں بچوں اور بالغوں سے بھرے ہوئے مظفر نگر رلیف کیمپوں کے اذیت ناک حالات کو لوگوں تک پہنچایا اور بتایا کہ یہ لوگ سردی اور بیماری سے مر رہے ہیں تو اس وقت اس نے اس کہانی کے دوسرے، اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ رخ کو بہت کم رپورٹ کیا ہے۔
کوئی بھی درست طور پر نہیں جانتا کہ کتنی مسلمان عورتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور کتنے مسلمان مردوں کو زبح کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ چھوٹی لڑکیوں اور لڑکوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ انہیں ان کے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑوں کے سامنے وحشت اور درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ قابلِ شناخت جگہوں۔۔ ۔ گنے کے کھیتوں، تالابوں اور کنوؤں سے تباہ حال لاشیں نکلنا جاری ہے۔
ان کی درندگی سے بچ جانے والے شمالی ہندوستان کی بدتہذیب سردی سے لڑتے ہوئے جانوروں جیسے حالات میں زندہ ہیں، اپنے دیہاتوں اور گھروں یاان کی باقیات کو لوٹ جانے سے خوفزدہ ہیں۔
اور وہ جنہوں نے مظفر نگر کے لوگوں کے ساتھ یہ سب کیا ہے، نہ صرف یہ کہ آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ انہیں ان کی پارٹی کی جانب سے عزت سے بھی نوازا جا رہا ہے اور وہ اب ملک کی حکومت سنبھالنے میں زیادہ دیر نہیں کریں گے۔
یہ زیادہ حیرانی کی با ت نہیں ہے کہ اجتماعی یا فر قہ ورانہ تشدد کو روکنے کے لئے ایک مؤثر قانون لانے کا خیال بی جے پی اور اس کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوارکے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔کانگرس بھی اپنے دس برس قبل کئے ہوئے وعدے کے مطابق، فرقہ ورانہ تشدد کے خلاف آئین سازی کرنے سے متعلق کبھی سنجیدہ یا مخلص نہیں رہی ہے۔
10سال تک اس کی پشت پر بیٹھے رہنے کے بعد ، اب انتخابات سے 6 ماہ سے بھی کم عرصہ قبل حکومت نے فرقہ ورانہ تشدد کی روک تھام کے لئے بل لانے کا خیال پیش کیا ہے۔ لیکن اب کون سی نئی بات ہوئی ہے؟ ہم پہلے بھی یہیں تھے۔ یہ کانگرس کا بددیانتی سے بھرپور حربہ ہے۔لیکن ہمیشہ اہم حیثیت حاصل کرنے والی پارٹی اس طرح کے نیم چالاک ہتھ کنڈوں سے اب اپنا سکہ نہیں منواسکتی۔سماج وادی پارٹی یا بی جے پی نے فرقہ ورانہ آگ کو دوبارہ ہرطرف بھڑکادیاہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے مظفر نگر میں بچ جانے والے روز بروز اپنے مردے دفنا رہے ہیں، ویسے ویسے کانگرس سمیت ہر ایک ان کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔
نہ صرف یہ کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت بار بار خبردار کئے جانے کے باوجودمسلمانوں کے منظم قتلِ عام کو روکنے اور اس کے نتائج سے نبرد آزما ہونے میں ناکام رہی ہے، بلکہ یہ ہنگامے کا شکار ہونے والوں کے ساتھ اپنے سلوک سے ان کے زخموں کی بے عزتی کرنا ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہے۔متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے والوں کو نام نہاد رلیف کیمپوں کے قطعی طور پر غضبناک کر دینے والے حالات سے شدید دھچکہ پہنچتا ہے۔
ہنگاموں کے چار ماہ بعد تک ان کیمپوں میں ہزاروں مسلمان انتہائی بنیادی ضروریات سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر کئی ہزار مسلمان ارد گرد کے قصبوں اور دیہاتوں میں بکھر گئے ہیں ۔ بہت سی خیراتی تنظیمیں ، ان گنت بھوکوں کو کھاناکھلانے کے چیلنج سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہی ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے ان لوگوں کو مکمل طور پران کے حال پر چھوڑ دیاہے۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ سانحے کا شکار ہونے والے تمام متاثرین کو ضروری امداد فراہم کرکے دوبارہ آباد کر دیا گیا ہے اور وہ جوابھی تک رلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں، وہ متاثرین نہیں ہیں! اور اس کے باوجود یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ وہ حکومت اور پارٹی ہے جو مسلمانوں کو اپنی وفادارسپورٹ کی بنیادکے طور پر دیکھتی ہے۔وہ جو دہلی میں برسرِ اقتدار ہیں، مظفر نگر سے صرف دوگھنٹے کی مسافت پر، ابھی انہیں یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ مسلمانوں کی پروا کرتے ہیں۔
وزیراعظم منموہن سنگھ اور سونیا اور راہول گاندھی کے دوروں کے باوجود نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔متاثرین اسی بری طرح سے بے یارومددگاراورغیر محفوظ ہیں جیسے کہ وہ پہلے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ جب مسلمانوں کو ضرورت پڑتی ہے تو کوئی ان کے لئے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیا یہ ’’ووٹ بینک کی سیاست اور مسلمانوں کے زخموں کی تشفی‘‘ ہے جو مودی ہر پلیٹ فارم پر چلاتا رہا ہے؟اس طرح کے دوستوں کی موجودگی میں دشمنوں کی بھلا کسے ضرورت ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *