نئے سال کا عہد

بابر ستار babar sattar

نئے سال میں اگر ہم کسی چیز میں تبدیلی لا سکتے ہیں تو وہ ہے اپنی سوچ میں تبدیلی۔ ہم وسوسے کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ہم نے پوری دنیا کی دشمنی مول لی ہے۔کیا ہم اپنے اعمال کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کریں گے یا پھراسی ڈگر پر چلتے رہیں گے؟کیا پاکستان کو عدم برداشت کے ماحول سے باہر نکال پائیں گے جو ہمیں عالمی معاشرے میں ہماری رسوائی کا باعث ہے؟ وسوسہ ایک ایسا مرض ہے جس میں بندہ حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اگر کوئی پاکستان کو کسی سائکاٹریسٹ کے پاس لے جائے گا تو وہ صرف ایک دوا تجویز کرے گا، کہ لوگ اپنے اندر انفرادی خود اعتمادی پیدا کریں قوم خود بخود ٹھیک ہو جائے گی خود اعتمادی پیدا کرنے پیچھے یا تو تعمیری خواہش کارفرما ہوتا ہے یا پھر حسد کی وجہ سے انسان کے اندر آگے نکلنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔لیکن کسی ملک کی ترقی میں یہ دونوں محرکات ناقابل عمل ہیں۔جب بھی ہمارے لیڈر کسی قومی ایشو پر اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ اپنی ناکامیوں کے ذمہ دار دوسروں کو گردانتے ہیں ۔
پاکستانی قوم عجیب مخمصے کا شکار ہے۔ اگر ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں تو اس کے لیے مغرب، امریکہ اور بھارت سے نفرت کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دشمن کاایجنٹ ہے اور پیسوں کی خاطر خود کو بھیج دیا ہے۔ عوام کے سامنے ہمارے لیڈر مغرب کے دشمن بن جاتے ہیں لیکن اپنی نجی زندگی میں وہ معقول حد تک مغرب زدہ ہیں۔وہ اپنے بچوں کو پڑھنے اور رہنے کے لیے مغرب بھیجتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ امریکی سفیر سے ہاتھ ملانے کے لیے سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن عوام کے سامنے آکر منہ سے جھاگ نکالتے رہتے ہیں۔
یہاں مسئلہ منافقت کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے بجائے دنیا سے الگ تھلگ ہوتی جا رہی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ دنیا سے نفرت کرنے کی پالیسی کو اپنا کرہمارے قائدین شمالی کوریا اور طالبان کے افغانستان کی راہ پر چلنے پر بضد ہیں۔ اس کے بجائے کیوں نہ چین کے نقش قدم پر چلیں جو کچھ دہائی پہلے تک تو پوری دنیا کے سامنے جھک کر خود کومعاشی اور عسکری بنیادورں پر طاقتور کرنے میں لگے رہے اور اب صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اسی طرح بھارت نے بھی پچھلے دو دہائیوں سے اپنی مثبت پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف اندرونی معاملات ٹھیک کرنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ بیرونی ملکوں پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور بھارت کے درمیان بھارتی سفارتکارکی گرفتاری کے معاملے پر جو ایشو کھڑا ہو گیا تھا وہ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ امریکہ نے بھارت کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے جبکہ وہ ایک مثال ہے کہ بھارت میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپنی عزت اور خود مختاری کے لیے کسی کو بھی آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ بیس سال پہلے اگر کسی بھارتی سفارتکار کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ررونما ہو جاتا تب بھی بھارت کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی لیکن اپنی معاشی صورتحال اور امریکہ کی ناراضگی نہ مول لینے کی پالیسی کے پیش نظر شاید وہ چھپ رہتے لیکن آج بھارت کو ناراض کرنا امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔
کامیابی حاصل کرنے کے لیے خود اعتمادی کا ہونا ایک مثبت عمل ہے۔ بحیثیت قوم پاکستانی ذہین، محنتی اور با صلاحیت لوگ ہیں لیکن ہم میں خود اعتمادی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم دوسرے سے نفرت کرنا شروع کرتے ہیں ۔آج کل ہمارے لیڈر حب الوطنی کا مظاہرہ غیروں سے نفرت کر کے کرتے ہیں جو کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ہمیں سنگین مسائل کاسامنا ہے اور ان کا کو ئی سادہ حل نظر نہیں آرہا ۔ مثال کے طور پر ڈرون حملوں کو کوئی بھی قانونی ثابت نہیں کر سکتا ۔ لیکن جب تک ہمارے ملکی حدود میں دہشت گردوں کا قبضہ رہے گا جو کہ نہ صرف ہماری ریاست کے لیے ایک خطرہ ہیں بلکہ دوسرے ممالک کو بھی دھمکی دیتے ہیں ، تب تک ہم امریکہ کو ڈرون حملوں سے نہیں روک سکتے ۔
اگر ہم دہشت گردوں کو اپنے ملک سے نکالنے کو کوئی مثبت پلان بنائیں اور پھر ڈرون کے خلاف مظاہرہ کریں گے تو دنیا کو اپنی حمایت میں کھڑے ہونے پر مجبور کریں گے۔ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے وہ افغانستان سے امریکی انخلا یا ڈروں حملو ں کی بندش سے حل نہیں ہو سکتے۔اس کا واحد حل دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ہمیں ان اداروں اور مدارس کو بند کرنا پڑے گا جو نفرت پیدا کرتے ہیں ۔ ہمیں فاٹا کو قومی دائرے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنی عدالتی سسٹم کو ٹھیک کرنے کی بھی ضرورت ہے اور یہ سب بیک وقت کرنا پڑے گا ۔جس طریقے سے ہم بحیثیت قوم دوسرے اقوام سے اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہمیں نفرت اور تشدد کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ میں وہ قابلیت پیدا کریں جس سے ہم پوری دنیا میں اپنی عزت نفس اور وقارکی حفاظت کر سکیں۔جب تک ہم امن وامان کو یقینی نہیں بنائیں گے تب تک معاشی بہتری نا ممکن ہے اور ایک بہتر معیشت کے بغیر نہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ہم معدنی ذرائع سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *