نرگس فخری.... جو رہی سو بے خبری رہی

husnain jamal (2)ہاں بھئی نسیان
کہیے بھائی ہذیان
کیا خبر لائے ہو؟
ارے خبریں ہی خبریں ہیں آپ کیا سنیے گا؟
نسیان میاں کوئی شعر ہو جائے۔
حق ہے، ہو گا، ضرور ہو گا، لیجیے، پھر سنیے؛
خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ وہ تو رہا،نہ وہ میں رہا،جو رہی سو بے خبری رہی
اس شعر کا محل کیا ہے نسیان؟
ہذیان بھائی، کیا ضروری ہے کہ ہر سنائے گئے شعر کا کوئی جائز موقع بھی ہو، بس دل میں آیا پیش کر دیا۔ اس چکر میں رہیں تو سارا دن بغیر کچھ کہے سنے گزار دیں۔ جب ہم کوئی بات کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کا آغاز کہیں نہ کہیں سے تو ہوتا ہے نا؟ اب وہ جو "کہیں" ہے، اس سے پہلے کا کھوج کون لگائے؟ تو کوئی بھی بات بے محل کیسے ہو گئی؟ اور جب کچھ بھی بے موقع نہیں تو ایک یہ میرا شعر بھی سہی۔
نسیان میاں، چلو مان لی تمہاری بات۔ یہ بحث لایعنی ہے، نپِٹ ہے، کہاں تک جائے، کچھ کہہ نہیں سکتے۔ تم خبریں سناو، کیا ہے تازہ خبر؟
نوازش، خبر یہ ہے قبلہ کہ الطاف بھائی مفرور قرار دے دئیے گئے ہیں، زرداری عمرہ کر کے دبئی پہنچ چکے ہیں، سندھ میں ترپ کا پتہ گورنر راج باقی رہ گیا ہے، گیس ۳۸ فیصد مہنگی کر دی گئی ہے، تنویر زمانی دوبارہ منظرنامے میں داخل کی جا رہی ہیں، عمران خان میانوالی کے لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ سیدھی انگلیوں گھی نکالنے دو ورنہ ہمارا دور حکومت آ گیا تو زمین بھی جائے گی اور ملے گا بھی کچھ نہیں، اور مولانا سراج الحق کا ایک اور کھمبا نوچ بیان سامنے آیا ہے کہ کراچی آپریشن جیسا ہونا چاہیے تھا ویسا نہیں ہوا۔
میاں کوئی بین الاقوامی خبر سناو۔
بھائی ہذیان، وہ بھی سن لیجیے، سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں، یمن میں پچھتر افراد ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے، بھارت میں ایک اور غیر ملکی خاتون کا ریپ ہوا، روسی صدر فرماتے ہیں کہ ہم شام میں بہت کم طاقت استعمال کر رہے ہیں اور مائیکروسوفٹ نے ایسا موبائل بنا دیا ہے جسے آپ بطور پرسنل کمپیوٹر استعمال کر سکتے ہیں۔
نسیانمیاں، اسلامیان پاکستان کیا رائے رکھتے ہیں ان خبروں کے بارے میں؟ آج کی ایسی خبر کون سی ہے جس پر لوگ تبصرے کر رہے ہوں، جو بہت اہم ہو، کچھ بتاو؟
nargisآج ایک عجیب معاملہ ہوا آغا ہذیان، آج ایک اشتہار خبر سے زیادہ مشہور ہو گیا۔ ہر طرف اسی کے چرچے ہیں، بلکہ کمال ہے آپ نے اب تک نہیں دیکھا، آپ محروم ہیں آغا، یقین جانیے، قسم ہے آپ کے علم و فضل کی، آپ محروم رہ گئے۔ آپ کیسے بے خبر نفس ہیں، کمال ہے، بلکہ حد ہے!
اب بولو گے بھی یا ہمیں بھگو بھگو کے مارتے ہی رہو گے، بھئی بندہ بشر ہے، کچھ چوک بھی سکتا ہے نظر سے، تم نہ بتاو گے تو ہم خود ہی تلاش لیں گے۔
اچھا چلیے ہم بتاتے ہیں۔ بات کچھ بھی نہ تھی، بات اتنی بڑھی، آج محفل میں وہ بے نقاب آ گیا۔ بھئی آج ایک موبائل کمپنی والوں کا اشتہار تھا جس میں ایک خاتون اداکار مکمل کپڑوں میں استراحت فرما رہی تھیں۔ آپ یقین جانیے سوائے چند نشیب و فراز کے، اس میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا۔ وہ خاتون تمام عمر اشتہاری عکاسی میں سرگرم رہیں لیکن اتنی شہرت نہ ملی جتنی آج اس ایک اشتہار سے مل گئی، وہ بھی مکمل کپڑوں میں۔ رند کی رند رہیں اور کام بھی ہو گیا۔ یار لوگوں کا ایمان خطرے میں ہے۔ صبح سے مذمتی بیانات آ رہے ہیں۔ ایک مجاہد وسعت اللہ خان ہے جو یمن کا رونا روتا ہے، آج تو اسے بھی کوئی نہیں پوچھتا، آج تو بس یہی چل رہا ہے۔
اماں نسیان، جانے بھی دو، آج سویرے کوئٹے سے فون آیا تھا ایک مہربان کا۔ وہ مجھے فون پر ہی خبریں سنا دیتے ہیں، تبصرے بھی کر دیتے ہیں ہر ایک دو روز بعد، ایسا کچھ ہوتا تو وہ کیوں نہ بتا دیتے۔ کمال کرتے ہو، انہوں نے تو ایسی بات کا ذکر تک نہ کیا اور تم برادر اسلامی ملکوں کی ہانک رہے ہو۔
آغا، آغا ہذیان، قربانت شوی، وہ مکالمہ تو یاد ہو گا آپ کو، ہر بات کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے، اور وہی ساری بات ہوتی ہے، تو اس قصے میں ساری بات ابھی رہتی ہے، بلدہ کوئٹہ کے باشندے اس عنایت سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ وہی اخبار ہے سرکار جو ایران توران کی ہانکنے کو برادر اسلامی ملکوں کی ہانکنا کہتا ہے اور مصنف دوستووسکی کا ذکر آ جائے تو بھی "دوستو خاص مشروب" کی اصطلاح کا پردہ فرما جاتا ہے۔ جب کوئی اخبار اس حد تک احتیاط پسند ہو گا تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ کوئٹہ کے غیور عوام کے سامنے ایسا اشتہا انگیز اشتہار پیش کر سکے؟ نہ سیدی نہ، اسے رد عمل کا معلوم تھا تو اس نے بہرحال کراچی، لاہور، ملتان اور پنڈی کے مومنین کو تو آزمائش میں ڈالا لیکن کوئٹے میں تو یہ خود کو ہلاکت میں ڈالنے والا معاملہ تھا، تو پرہیز کیا گیا۔
نسیان، بھئی یہ عجب بات کر دی تم نے، اب تو مجھے لگتا ہے تمہاری بھی کوئی رگ حمیت پھڑک رہی ہے، تم اس بات کو اتنا اہم کیوں بنا رہے ہو۔ کیا واقعی تمہیں کوئی اعتراض ہے؟
ہذیان بھائی، دیکھیے، بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی شہرت کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کرتی ہیں۔ اشتہار بازی کی تاریخ اس سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن وہ جانتی ہیں کہ ان کا ٹارگٹ آڈئینس کون ہے۔ اب قصہ یہ ہے کہ یہاں موبائل کمپنی اور اخبار، دونوں کو ٹارگٹ آڈئنس معلوم تھے۔ ان کی نفسیات بھی معلوم تھی۔ تو ان کا خیال ہو گا کہ شاید کوئٹہ کے عوام برا منا جائیں تو انہوں نے یہ اشتہار وہاں چھپوایا ہی نہیں۔ نہ اخبار الف میں نہ اخبار جیم میں۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ہم تو وہ ہیں جو سائن بورڈ پر کسی خاتون کا چہرہ دیکھتے ہیں تو اس پر بھی سیاہی پھینک دیتے ہیں، چہ جائے کہ ایک ملفوف لیکن فوق البھڑک خاتون، تو مرشدی یہ تو وہی معاملہ ہے جو کچھ عرصے پہلے ایک برگر بنانے والی بین الاقوامی کمپنی سے ہوا تھا۔
نسیان، میاں صاحب زادے، نہ میں شہریار ہوں، نہ تم شہر زاد ہو، نہ تمہاری جان کو خطرہ ہے اور نہ یہ گفت گو ہزار رات چلنے والی ہے، قصوں میں سے قصے برآمد نہ کرو، بات بتاو، مختصر مگر موثر۔
اے حکیم الحکما ، قبلہ گاہ عالیہ، حضرت ہذیان، جان کی امان پا کر عرض یہ ہے کہ بندہ اشتہار بازی میں سب روا جانتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس تمام قضیے میں اشتہار باز کمپنی کامیاب رہی، آج کے دن کا سوشل میڈیا ٹرینڈ وہی اشتہار رہا، لوگ بے طرح بے قرار رہے اور بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟ اور مرشد، بندہ ان بزرگوار عارف کی طرح اپنا کہا آخر میں پھر دہراتا ہے کہ جن کو وہی پتے آج کل ہوا دے رہے ہیں جن پر ان کا تکیہ تھا اور جو چار سطور دہرا کر اٹھتر حروف کی زحمت سے بچ جاتے ہیں کہ؛
خبر تحیر عشق سن، نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ وہ تو رہا،نہ وہ میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *