فیلکون نائین مصنوعی سیارے کی کہانی

nineاسپیس ایکس کمپنی کا فیلکون نائن راکٹ کمیونیکشن سیٹیلائٹس کو کامیابی سے خلا میں چھوڑنے کے بعد بہ حفاظت لوٹ آیا ہے۔ پیر کے روز اس راکٹ کو کیپ کنیورل سے چھوڑا گیا تھا۔ اس پر متعدد سیٹلائیٹس لدی ہوئی تھیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس کمپنی کے کسی راکٹ نے اس طرح کا ڈرامائی مشن مکمل کیا ہے۔ اسپیس ایکس نے فیلکون نائین کو متعدد مرتبہ استعمال کرنے کے لیے بنایا ہے۔ فضائی تحقیق کی نجی امریکی کمپنی اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس کامیاب مشن کے ذریعے گیارہ سیٹیلائیٹس کو زمین سے خلا کے مداروں میں چھوڑا گیا۔ ORBCOMM نے اپنی سیٹلائیٹس کو خلا میں چھوڑنے کے لیے SpaceX سے خدمات طلب کی تھیں۔

بتایا گیا ہے کہ چھوڑے جانے کے قریب 30 منٹ بعد یہ راکٹ خلا میں اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا اور ایک حصہ سیٹلائیٹس کو طے کردہ مداروں میں چھوڑنے مصروف ہو گیا، جب کہ دوسرے حصے نے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی کا اس طرز کا یہ پہلا کامیاب مشن ہے۔ اس سے قبل جون میں اس کمپنی کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے سامان کی ترسیل کے لیے چھوڑا جانے والا راکٹ تباہ ہو گیا تھا۔ 23 منزلہ راکٹ فیلکون نائین، امریکی فضائی اسٹیشن کیپ کنیورل سے شام 8:29 پر روانہ کیا گیا۔ اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد اس راکٹ کے نچلے حصے نے دس منٹ واپسی کا سفر طے کیا اور لانچ سائٹ سے چھ میل دور جنوب میں کامیابی سے اتر گیا، جب کہ اوپری حصہ زمینی مدار میں اپنے ساز و سامان کے ساتھ رواں دواں رہا۔

falikonاس سے قبل کمپنی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے راکٹوں میں یہ صلاحیت چاہتے ہیں کہ وہ زمین سے خلا میں جا کر واپس لوٹ سکیں، تاکہ انہیں دوبارہ مرمت اور تیار کر کے نیا مشن سونپا جا سکے۔ یہ کمپنی اس طرح اپنے آپریشنل اخراجات میں کمی چاہتی ہے، تاکہ اس شعبے میں دیگر نجی کمپنیوں کی شمولیت کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مقابلے سے نمٹ سکے۔ 156 فٹ لمبے اس راکٹ نے جب واپسی کا سفر شروع کیا، تو اپنے مانیٹرز پر اس منظر کو دیکھنے والے اسپیس ایکس کے ملازمین نے جشن منانا شروع کر دیا۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں اسپیس ایکس کے مالک مُسک کا کہنا تھا، ’’آ جا مرے چندا‘۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایمازون کمپنی کے ایک راکٹ نے بھی اس طرز کا ایک مشن مکمل کیا تھا۔ فیلکون نائین کی کامیاب واپسی پر ایمازون کے سربراہ جیف بیزوس نے اپنے ٹوئٹرز پیغام میں تہنیت دیتے ہوئے لکھا، ’’کلب میں خوش آمدید‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *