لا تنقید یا اِ لّا تنقیص

yashaab tammanaبیسویں صدی کے سب سے بڑے نقاد اورانگریزی کے ایک اہم شاعر، ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے مطابق ادب تخلیق کرنے والوں کوتنقید بھی لکھنی چاہیے کیونکہ تنقید کی اصل بنیاد بھی وہی ہے جو ادب کی ہے۔ گویا وہ تنقید کو بھی ایک تخلیقی عمل سمجھتے ہیں۔ ہمارے معروف شاعر ظفر اقبال کا خیال ہے کہ شاعری پر سند اورصائب رائے دینے کا حق صرف شاعروں کو ہونا چاہیے۔ وہ اس کے قائل ہی نہیں خود اس پر عمل پیرابھی ہیں اور دوسرے شاعروں کو اس کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ شاعری پر رائے دینے کا اہل ہونے کے لئے کسی کا شاعر ہونا نہیں شعرفہم ہونا ضروری ہے۔
ہاں ، شعر فہم ، شاعر بھی ہو سکتا ہے اورغیر شاعر بھی۔ اس بارے میں بھی دو آرائ ممکن نہیں کہ ہمار ے ممتاز شاعر ، مشہور کالم نویس او ر تنقیدی کالموں اور مضامین کے مجموعہ “ لا تنقید “ کے مصنّف جناب ظفر اقبال ایک اَن تھک اور موجودہ لکھے جانے والے اردو ادب اور خصوصاً شاعری کے حوالے سے خاصے باخبر آدمی ہیں۔ شاعر اور شاعری ، دونوں سے ان کا رابطہ خاصا مستحکم ہے۔ ان کی یادداشت کی ڈسک بھی بہت بڑی ہے۔ بے شمار باتیں اور یادیں ان کے حافظے میں محفوظ ہیں جو وہ بار بار دہراتے رہتے ہیں کیونکہ وہ تاکید ِ مزید کے بھی قائل ہیں۔
اللہ ان کی عمر دراز کرے ، عمر کی آٹھویں دہائی میں بھی نہ صرف مکمل طور پر فعال ہیں بلکہ پڑھائی لکھائی کے ساتھ سا تھ مار کٹائی پر بھی ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔ ان کی بہت سی تحریریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ ادھار کے بالکل قائل نہیں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی نے بھی “ لاتنقید “ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ظفر اقبال کی لغت میں رو رعایت کا کوئی خانہ نہیں۔ یقیناً یہ بات انھوں نے صرف ظفر اقبال کی تنقید کے حوالے سے نہیں لکھی ہوگی۔ ظفر اقبال نہ صرف کھل کر دوسروں کی ادبی تخلیقات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس کے پردے میں تنقید بھی کر تے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ تسلیم کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے کہ تنقیدی زبان سے نا بلد ہونے کی وجہ سے اپنا مافی الضمیردرست طور پر بیان کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ بوقت ِ ضرورت وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ میں نہ تو کوئی تخلیقی ( یا غیر تخلیقی ) نقاد ہو ں اور نہ ہی بہ حیثیت شاعر کسی تر و تازہ ذہن کا مالک ! بلکہ بعض اوقات تو فر طَِ جذبات میں اپنی شاعری کو شاعری قرار دینے میں بھی تامّل کا شکار ہو جاتے ہیں اور منسوخ کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ گویا اپنا کام بھی کر جاتے ہیں اور پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتے۔
میں ادب کے ایک طالب علم ہو نے کی حیثیت سے انہیں شوق سے پڑھتا ہوں اور مقدور بھر سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک روزنامے میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ وہ تمام تو نہیں کہ ان کے سیاسی کالم اکثر روایتی جملہ بازی ، نئے پرانے لطائف ، ضروری اور غیر ضروری طنز و مزاح سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں ادبی موضوعات پر ان کی رائے زنی کا منتظر رہتا ہوں۔ ادب اور خصوصاً موجودہ روایتی غزلیہ شاعری کے حوالے سے ان کا ایک مخصوص نقطہ ئ نظر ہے جسے اپنانے اور ترویج دینے کا انہیں پورا پورا حق حا صل ہے۔
خوش آئند بات ہے کہ وہ اکثر یہ دعویٰ بھی داغ دیتے ہیں کہ اپنے اوپر دوسروں کی تنقید پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ سخت سے سخت اختلافی رائے کا برا نہیں مناتے اور اسے خوش دلی سے برداشت کرتے ہیں۔ گستاخی نہ ہو تو عرض کروں کہ اگر “ لاتنقید “ میں سے وہ باتیں نکال دی جائیں جو ظفر اقبال نے کئی بار دہرائی ہیں تو کتاب کی ضخافت ایک چوتھائی سے زیادہ کم ہوسکتی ہے۔ یا بقول خود ان کے اپنے ، جہاں موجودہ شاعروں کی طرح انہوں نے اپنی نثر میں مکھی پر مکھی ماری ہے اور اپنے آپ کو بار بار دہرایا ہے ، وہ مواد کتاب سے حذف کر دیں تو کتاب زیادہ خوبصورت ہو سکتی ہے !
ان کی نثری کلیات ، جلد ِ او ل سال 2014 میں شائع ہو ئی۔ پانچ سو سے زیادہ صفحات کی یہ کلیات پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ ظفر اقبال کی نہ تو اپنے سینئر شاعروں ادیبوں سے بنتی ہے اور نہ ہی اپنے جو نیئرز سے۔ ان کے بقول، میر کے مصرعے کڈھب ، ناہموار اور ڈھیلے ہوتے ہیں۔ غالب جیسے شاعر کے ہا ں حرّیتِ فکر نام کی کوئی بھی شے دستیاب نہیں اور حضرت غالب  نے جہاں شہنشاہان ِ ہند کی قصیدہ گوئی میں شہرت حاصل کی وہاں انگریز افسروں کی شان میں قصیدے پیش کرنے میں بھی نام کمایا۔ وہ اپنے ہم عصروں میں “ فراق و فیض و ندیم و فراز کچھ بھی نہیں “ کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ اپنے نثری کلیات میں ایک جگہ “ تنقید کی دیانت “ کے عنوان سے لکھتے ہیں:
“ نقاد کا کام تخلیق پارے میں سے محاسن تلاش کر کے اسے بیان کرنا ہے ، لیکن نقاد نے بوجوہ یہ منصب ترک کر دیا ہے اور ہاتھ میں کوڑا پکڑ لیا ہے۔ اپنے تعصبات سے مغلوب وہ اب اعتراض کرتا ہے ، حکم لگاتا ہے ، اور فتویٰ دیتا ہے۔ تنقیص کو ہی تنقید سمجھے بیٹھا ہے۔۔۔ تنقیص بھی اس کا حق ہے لیکن تنقید کے پردے میں نہ رہے کھل کر سامنے آئے۔ “ (ص 184)

Picture 108ایمانداری سے دیکھا جائے تو ظفر اقبال کی ان باتوں پر بھلا کسے اعتراض ہو سکتا ہے ؟ اچھی باتیں سب کو پسند آتی ہیں۔ افسوس ہے تو اس بات کا کہ خود میاں فصیحت اوروں کو نصیحت ! جن بہت سے کاموں سے انہوں نے منع فرمایا ہے وہی خود کئے جا رہے ہیں۔ حضور! یہ بھی تو فرمائیے کہ لا تنقید میں خود آپ نے اس نصیحت پر کتنا عمل کیا ؟ جب آپ کسی تخلیق پارے کے محاسن پر گفتگو کر رہے ہوں تو ہونا تو یہ چاہیے کہ اس تخلیق کی اچھائیوں اور برائیوں کو ساتھ ساتھ بیان کریں تاکہ پڑھنے والے کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہو۔ خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ الگ الگ مضامین میں نہیں کیا جاتا۔ اگرکوئی ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی تحریر سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ظفر اقبال نے “ لا تنقید “ میں یہی کیا اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
اپنے ایک مضمون “ پروین شاکر کی شاعری کا ایک سرسری جائزہ “ میں کہتے ہیں کہ: “ یہ ایک عجیب بات ہے کہ تکنیکی اور زبان و بیان کی اغلاط منیر  اور فیض  دونوں کے ہاں پائی جاتی ہیں(ص۵۸)۔“ اپنے ایک دوسرے مضمون بعنوان “ ایک گڑا مردہ اور انتظار حسین کا بیلچہ “ کی آخری قسط میں رقم طراز ہیں:
“ فراق میری نظر میں اتنا بڑا شاعر نہیں جتنا کہ گردانا جاتا ہے۔ کیونکہ جس شاعر کے ہاں بھرتی کے اشعار کی کوئی حد نہ ہو وہ بڑا شاعر کہلانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔ “ (ص 433)
ان کے اس بیان پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں! “ فیض  احمد فیض کی شاعری “ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: “ فیض  کی شاعری یک پرتی ہے “ (ص123) اور یہ کہ  “ فیض اپنی تمام تر سینیارٹی کے باوجود احمد فراز ، پروین  شاکر اور امجد اسلام امجد جیسے پاپولر شاعروں کی صف میں خود بخود شامل ہو جاتے ہیں ، جہا ں صحافت، سستی رومانیت اور شاعری کی سرحدیں اگر آپس میں نہیں ملتیں تو ایک دوسرے کے انتہائی قریب ضرور آ جاتی ہیں، چنانچہ سنجیدہ شاعری کے ذکر اذکار میں انہیں شامل نہیں کیا جاتا ، ماسوائے اخباری تذکروں کے “۔ (ایضاً ص123)
“ پروین شاکر کی شاعری کا سرسری جائزہ “ میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
“ بہرحال ، روایتی غزل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پروین  شاکر نے اپنے نسائی جوہر کو شامل کر کے جو ارتعاش پیدا کیا ہے اور جو جادو اس نے جگایا ہے وہ بھی ہما شما کا کام نہیں ہو سکتا اور اپنے طور پر انتہائی قابل ِ قدر ہے۔ “ (ص 59)
لیکن اپنے پہلے بیان کے برخلاف ظفر اقبال اسی مضمون میں فیض  کے بار ے میں فرماتے ہیں :
“ فیض ا حمد فیض اور منیر  نیازی کی مقبولیت کا حوالہ اور ہے ، یعنی وہ نوجوان نسل کو اپیل کرنےکے ساتھ ساتھ شاعری کا اصل معیار بھی برقرار رکھتے ہیں اور اس طرح شاعری کے اصل قاری کو بھی اپیل کرتے ہیں۔ “ (ص 58)
یہ مضمون چونکہ پروین  کے حوالے سے ہے اور منیر نیازی کی تعریف کچھ زیادہ ہو گئی ہے تو اس تعریف کا دم مارنے کے لئے آگے چل کر اسی مضمون میں فرماتے ہیں:
“ فیض کے برعکس اور پروین  شاکر کے مصداق ، منیر نیازی کا شعری کینوس بھی خاصی حد تک محدود ہے۔“ (ص58)
لیکن اس کے ساتھ ہی منیر? نیازی کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے مضمون ““مزاحمتی ادب کے بارے میں چند ٹوٹے پھوٹے خیالات ً میں یوں رقم طرازہوتے ہیں:
“ منیر نیازی کے شعری قدوقامت اور اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔“ (ص116)
ظفر اقبال کی بہت سی آرا درست بھی ہو سکتی ہیں اور ممکن ہے وقت بھی ان کے تجزیے کے درست ہونے کی تصدیق کر دے۔ لیکن کیا ایک ہی وقت میں ، کسی آدمی کے بارے میں، اس کی حمایت او ر مخالفت میں دی جانے والی آپ کی دونوں آرائ درست ہو سکتیں ہیں؟ یعنی لکھ رہے ہیں جنوں میں کیا کیا کچھ !
“ پروین شاکر کی شاعری کا سرسری جائزہ “ میں احمد فراز? کے بارے میں لکھتے ہیں:
“ اپنی پوری قادرالکلامی کے باوجود احمد فراز فیض احمد فیض کا ایک کمزور چربہ ہی دکھائی دیتے ہیں
اور وہ صرف اپنے گلیمر کے ذریعے اپنا کام چلا رہے ہیں جو انہیں بوجوہ حاصل ہے۔ “ (58)
محترم شاعر اور ادیب اورتاریخی ادبی رسالے “ فنون “ ، جس میں خود ظفر اقبال بھی تواتر کے ساتھ چھپتے رہے ہیں، کے مدیر احمد ندیم قاسمی مرحو م کے بارے میں ظفر اقبال لکھتے ہیں ، اور اس بات کو ڈاکٹر تحسین فراقی نے بھی اپنے دیباچے میں نقل کیا ہے، کہ:
“ توانائی اور خون کی کمی نے احمد ندیم قاسمی کے کام کویرقان زدہ، نقاہت کا مارا ہو¿ا، خشک اورشکستہ رنگ مریض بنا دیا ہے۔“ (12)
“ نئی شاعری پرانی شاعری “ میں ناصر ? کاظمی کی شاعری پرتبصرہ کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہوئے:
“ ناصِر کاظمی کی شاعری کا آب و رنگ آہستہ آہستہ اترتا جا رہا ہے اور اس کی بیشتر شاعری محض بچگانہ لگتی اور از کارِ رفتہ کی ذیل میں آتی ہے“ (ص271)
یہ تمام لوگ اس دنیا میں نہیں ہیں اور اپنا کام ختم کر کے جا چکے۔ ان کے کام میں کمی یا اضافہ نہیں ہو سکتا اور اب ا±ن کا ادبی مقام ا±ن کے اسی کام کی بنیاد پر طے ہو گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ادب ، خصوصاً شاعری، میں کسی کا مقام اس کے کام کی کلیت اور مجموعیت کی بنیاد پر طے ہو گا اس بات پر نہیں کہ اس کی ذاتی زندگی کیسی تھی اور اس نے اپنی نجی زندگی میں کیا کیا، جیسا کہ ظفر اقبال اصول طے کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے یہ صورت ِ حال قابل ِ رحم ہو سکتی ہے کہ ساٹھ برسوں تک ادبی زندگی میں متحرک رہنے والے شاعر اور ادیب کے زیادہ دوست نہ ہوں ، اور جوماضی میں رہے ہوں ، وہ بھی اسے استعمال کرنے کے بعد اب اپنے مبیّنہ بیانات کی تصدیق نہ کرتے ہوں اوراس کا ساتھ دینے پر راضی نہ ہوں۔ میری مراد شمس الرحما ن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کے مبیّنہ بیانات کے حوالے سے ہے کیونکہ ظفر اقبال کی عظمت اور بڑے شاعر ہونے کے بعض مبیّنہ بیانات کی تصدیق ، باوجود ہزار کوشش کے، ابھی تک نہیں ہو پائی۔ “ لا تنقید “ میں شامل تحریریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں ، اور کیا یہ بات عجیب نہیں کہ خود پر اٹھنے والے چھوٹے چھوٹے اعتراضات کی وضاحت بھی ظفر اقبال کو خود کرنا پڑتی ہے اور کوئی دوسرا ان کی مدافعت کے لئے آگے نہیں آتا؟
ظفر اقبال زود گو شاعرہیں اور خود اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ “ اپنی باتیں دہراتا رہتا ہوں “۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ اپنی ہی کہی ا ور لکھی ہوئی باتوں کی نفی کر رہے ہیں۔ یا پھر ممکن ہے وہ جان بوجھ کر متضا د باتیں کرتے ہوں کیونکہ خبروں میں رہنے کے چکر میں بعض اوقات باتیں خود سے بھی گھڑنا پڑتی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں شامل اپنے ایک کالم بعنوا ن “ انتظار صاحب کی مشکلات “ میں ظفر اقبال نے ایک کہانی گھڑی اور بغیر کوئی حوالہ دیئے یہ دعویٰ کیاہے :
“ ہمارے ایک جاننے والے نے اس راز سے پردہ ا±ٹھایا جو ’ ڈان‘ کے سٹاف میں رہے ہیں کہ انتظار صاحب کا کالم اردو زبان میں ہوتا ہے اور جب اخبار کو موصول ہوتا ہے تو وہاں اس کا ترجمہ کر کے انگریزی میں شائع کیا جاتا ہے جبکہ اس کام پر تین چار حضرات بطورِ خاص مامور ہیں۔ ہمیں اس پر ہرگز اعتراض نہیں کہ انتظار صاحب اردو میں کالم لکھ کر ‘ ڈان ‘ کے انگریزی کالم نگار کیوں کہلاتے ہیں۔ ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ موصوف کے کالم کے آخر میں مترجم کا نام بھی شائع ہونا چاہیے تاکہ اس کی محنت اکارت نہ جائے۔ “ (ص337)
حیرت ہے کہ ‘ڈان‘ میں اس کام پرمامور تین چار حضرات مل کر بھی ایسی اردو نما انگریزی لکھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انتطارحسین نے اپنے انگریزی کالم ‘سول اینڈ ملٹری گزٹ ‘ کے مدیر حمید شیخ کے کہنے پر روزنامہ مشرق کے اجرا سے بھی پہلے لکھنے شروع کئے تھے۔ مشرق کے بند ہونے کے بعد فرنٹئر پوسٹ کے ایڈیٹر ظفر صمدانی کے اصرارپر انتظار صاحب پھر ان کے لئے لکھنے لگے۔ حالانکہ انہوں نے ظفرصمدانی سے کہہ دیا تھا کہ ان کے کالم اردو نما انگریزی ہی میں ہوں گے۔ ظفر اقبال کایہ الزا م محل ِ نظر ہے کہ یہ کا لم تو اردو میں لکھے جاتے ہیں لیکن کوئی اوران کا ترجمہ کرتا ہے اور اسے انتظار حسین کے نام سے چھاپ دیا جاتا ہے اورپھر انتظار صاحب بحیثیت انگریزی کالم نگار اس کی داد وصول کرتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک محتر م اور بین الاقوامی شہرت کے حامل افسانہ نگاراور ناول نگار سے کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس قسم کی ہلکی حرکت کا مرتکب ہو جبکہ اس کے افسانوں اور ناول کا ترجمہ کرنیوالے بھی موجود ہوں اور اس کے ناولوں اور کہانیوں کے بے شمار تراجم مترجمین کے ناموں سے شائع ہوچکے ہوں۔ ایسے بودے الزام کی تردید بھی انتظارحسین کے شایانِ شان نہیں اور اگر اب بھی ظفر اقبال کو اپنی شہادت پر اتنا ناز اور اصرار ہے تو اپنے “ باوثوق ذرائع “ ظاہر کر یں۔
اسی طرح وہ : “ نئی شاعری ، پرانی شاعری “ میں فرماتے ہیں :
“ یہ ایک حیرت انگیز عنصر ہے کہ شعر و ادب میں اپنا پیپا کوٹنے کا رواج روز بروز راسخ تر ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے ناصر ? کاظمی کے صاحبزادے باصر? سلطان کاظمی نے اپنے والد صاحب کو اقبال ? کے بعد سب سے بڑا شاعر قرار دیا ہے۔ یعنی اگر پدر نتواند پسر تمام کند۔ “
(ص 278)
کاش فاضل مضمون نگارنے یہ بھی بتا دیا ہوتا کہ انہوں نے یہ تاریخی بات کہاں ، کب اور کس سے سنی یا پڑھی۔ میں باصر ? کاظمی کوبیس سے زیادہ برسوں سے جانتا ہوں ، گزشتہ پندرہ برس سے دوستی اور پچھلے پانچ سات برسوں سے قربت ہے۔ میں نے باصر ? کے منہہ سے نہ تو کبھی ایسی کوئی بات سنی اور نہ ہی اس نے ایسا کبھی کوئی دعویٰ کیا۔ لیکن ظاہر ہے کہ محض مضمون نگاری اور صرف کالم کا پیٹ بھرنے کے لئے لکھی جانے والی تحریرمیں حوالہ دینے کی کوئی روایت ہے نہ ضرورت۔
اسی طرح انھوں نے احمد مشتاق کے حوالے سے “ نئی شاعری ، پرانی شاعری “ میں لکھا ہے :
“ احمد مشتا ق کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ ابھی “ آب ِ رواں “ شائع نہیں ہوئی تھی تو حنیف رامے کے ہفت روزہ نصرت کے ماہنامے میں میری شاعری کی تعریف میں علی گڑھ کے کسی اعجازعسکری کا مضمون شائع ہوا تو حنیف رامے کا بے تکلف دوست ہونے کے حوالے سے احمد مشتاق نے اس کے ساتھ اس مضمون کی اشاعت پر با قاعدہ تلخی اور برہمی کا اظہار کیا تھا۔ “ (ص 275)
حنیف رامے کا ایک ہفت روزہ نصرت کے نام سے تو تھا لیکن یہ ہفت روزہ کا ماہنامہ سمجھ نہیں آیا۔ ویسے بھی یہ دو تین لوگوں کے درمیان کی بات ہے اور احمد مشتاق ماشا اللہ ابھی حیات ہیں۔ کسی کو کوشش کر کے ان سے اس واقعہ کی حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ لیکن اگر احمد مشتاق نے اس واقعہ کی صحت ہی سے انکار کر دیا تو کیا ہو گا؟ اور اگر ایسا ہو گیا تو کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہو گی کہ ظفر اقبال اپنا کلّہ اونچا رکھنے کے لئے جھوٹ کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ظفر اقبال کا کلیات “ لا تنقید “ ا نتظار حسین کی تعریف اور تنقید دونوں سے بھرا پڑا ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ انتظار حسین کی نثر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیں اور چاہیں تو ہزاروں کیڑے نکال لیں۔ یوں تو وہ انتظار حسین کو “ محض ایک فکشن رائٹر “ ہی سمجھتے ہیں اور شاعری پر ان کی معروضات کے بہت بڑے ناقد ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ ظفر اقبال نے اپنے شعری مجموعے “ عیب و ہنر“ کا دیبا چہ نہ صرف انتظار حسین سے لکھوایا بلکہ اسے بڑے اہتمام اور اعزاز سے شائع بھی کیا۔ گویا اپنی شاعری پر “ محض ایک فکشن رائٹر “ انتظار حسین کی رائے کوبڑی اہمت اور فوقیت دی لیکن وہی انتظار حسین اگر ناصر کاظمی، احمد مشتاق یا باصِر سلطان کاظمی کی شاعری کی تعریف کر دیں تو وہ ان پر د وستی نبھانے کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انتظار چونکہ افسانہ لکھتے ہیں اس لئے شاعری پر اتھارٹی نہیں ہیں۔ گویامیٹھا مٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو۔
ظفر اقبال کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں وہ مقام نہیں مل سکا جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ اس کا تذکرہ “ تازہ شاعری میں میری تلاش اور دستیابی کا مسئلہ “ میں کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
“ غلط یا صحیح طور پر مجھے شاعروں کا شاعر اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ میں با لعموم شاعروں کے لئے لکھتا ہوں اور اگر یہ لقب اور یہ بات درست ہے تو اس سے بھی میری شاعری کے ایک بڑے حصے کا اکیڈمک ہونا ہی ظاہر ہوتا ہے۔“ (ص 322)
ظفر اقبال نے اس کلیات میں اپنے جائز مقام نہ پانے کے اسباب پرخود ہی روشنی ڈالی ہے۔ “ شعر کی تلاش “ میں لکھتے ہیں:
” آبِ رواں “ کی پزیرائی کے بعد “ گلافتاب “ پیش کر دینا ایک بہت بڑے پنگےکے مترادف تھا، لیکن میں نے وہ لیا۔“ (ص380)
گویا جن مشکل مراحل سے گزرنے سے بزرگوں نے انہیں گریز کامشورہ دیا تھا موصوف ان سے بھی گزرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اب نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ظفر اقبال نے ایک مسئلہ یہ بھی اٹھایا ہے کہ لوگ “ اپنا پیپا خود کو ٹتے رہتے ہیں “ اور کہا کہ :
” اپناڈھول پیٹنا کسی بھی معاشرے میں تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے خود ایسا کرنے والے کا اتھلاپن اور بے توفیقی ہی ظاہر ہوتی ہے۔“ (ص 277)
بجا فرمایاآپ نے! لیکن پھر کیوں خود آپ کا اپنانثری کلیات ” لا تنقید “ خود ستائی کی بے شمار مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ مثلاً ” نئی شاعری، پرانی شاعری “ میں فرماتے ہیں:
”آبِ رواں “ سن 1962 میں شائع ہوئی۔ یہ بقول شخصے ایک رجحان ساز کتاب تھی جس نے اردو غزل کے منظر نامے ہی کو تبدیل کر کے رکھ دیا ، جو آج بھی حوالے کی ایک ایسی کتاب ہے جس کے ساتھ مصنف کا نام لکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ “ (ص 274)
یہ دعویٰ کس نے کیا ہے؟ اس کا کوئی نام توہوگا ، اگر بتا دیتے ، ان کی بات کا اعتبار بڑھ جا تا۔ اسی طرح “ تازہ شاعری میں میری تلاش اور دستیابی کا مسئلہ “ میں لکھتے ہیں:
” چنانچہ خرابی اس وقت ہوتی ہے جب دوسروں کے ساتھ مجھے بھی شاعری کے بندھے ٹکے اصولوں کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے ، جن سے بعض اوقات انحراف بھی کیا گیا ہوتا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا کیونکہ یہ بات میری شاعری کو خود ظاہر کرنی چاہیے کہ میرا زیادہ تر کام اکیڈمک سطح کا ہے۔ “ (ص 322)
ایک اورمضمون ” شعر کی تلاش “ میں اپنے بارے میں فرماتے ہیں:
” یہ کہنا ریکارڈ پرموجود ہے کہ “ گلافتاب “ شائع ہوئی تو انہیں زبانی یاد ہو گئی۔ لیکن اس کے باوجود کسی میں یہ ہمت نہ تھی کہ اس کام کو آگے بڑھاتا۔ میں نے بعد میں اس کی ہوبہو تکراراس لئے نہیں کی کہ جو اشارے میں نے دے دیئے تھے وہی کافی تھے۔“ (ص 380)
ان چند مثالوں کی روشنی میں کیا اس بات کی تصدیق نہیں ہو جاتی کہ ظفر اقبال کی تحریر اور ان کے اپنے فعل میں بہت تضاد ہے؟ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اچھا مصرع بالعموم وہی ہو سکتا ہے جو مکمل طور پر یا زیادہ سے زیادہ نثری ترتیب میں ہو ، الفاظ کا استعمال اور بندش بر محل اور بلا تکرار ، فالتوالفاظ سے مبرّا اور بے تکلف ہو یا جب وہ شعر میں لطفِ سخن پر اصرار کریں ، عیب ِ سخن یا عیب تنافر سے اجتناب کی بات کریں اور شعر میں تازہ کاری پر زور دیں ، وغیرہ وغیرہ ، تو اس بات سے شعری ذوق سے محروم اور کوئی بے وقوف ہی اختلاف کرے گا۔ کیونکہ یہ باتیں تو اچھے شاعر اور نقاد کہتے رہے ہیں۔ ان تما م کی تمام خوبیوں کا بیک وقت کسی بھی شاعر میں پایا جانا مشکل ہے۔ کسی ایک شعر میں کچھ خوبیاں ہو سکتی ہیں اور کچھ نہیں بھی، لیکن اس بنیاد پر کسی کی تمام شاعری کومسترد کردینا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ کسی بھی اچھے شعر کی متوقع خوبیاں بیان کر کے ظفر اقبال نے اپنا شملہ اونچا کر لیا اورشاعروں پر بے دریغ لاٹھی چارج بھی شروع کر دیا۔ لیکن جب آپ خود شعر کہتے ہیں تو لوگ بجا طور پران سے پوچھتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ ” لمہ تقولوں ما لا تفعلوں! “

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *