عطاالحق قاسمی صاحب کے نام کھلا خط

arif mustafaمحترم قاسمی صاحب
اسلام علیکم
آپ کو پی ٹی وی کی چیئرمینی کی مبارکباد کیا دوں یہ منصب آپکی قامت سے کہیں کمتر ہے ، بس یہ امید لگانی ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اسکے دفتری نظام کو اردو میں میں منقلب کرنے کا اعزاز حاصل کرکے پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں اپنا نام امر کرواجائینگے ،، لیکن اتنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ آپ کو اب پی ٹی وی کے پروگراموں میں اردو زبان کی اس عصمت کی حفاظت بھی کرنی ہوگی کہ جو آجکل منہ ٹیڑھا کرکے ناگوار انداز میں اردو بولنے والے میزبانوں کے ہاتھوں لٹ رہی ہے اور تین دہائی پہلے کے اسی معیار کو واپس لانا ہوگا کہ جو کبھی پی ٹی وی کا خاصا تھا -
محترم ، میں نے نفاذ اردو کا یہ مطالبہ ابھی تک سوائے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے کسی بھی ادارے کے چیئرمین سے ذاتی طور پہ نہیں کیا کیونکہ وہ سبھی ٹھیٹھ بیورو کریٹس کے زیرتسلط ہیں، جناب اکرم چوہدری بھی نامی بیوروکریٹ ہی ہیں لیکن ان سے بھی میں ذاتی طور پہ ملنے اسلام آباد اس لئے گیا تھا کہ ملت پاکستان کے اصل حکمرانوں کا انتخاب کرنے والے ادارے کی لگام اب موصوف کے نہایت بااختیار ہاتھوں میں ہے اور اگر انہوں نے مقابلے کے امتحان میں اردو کو انگریزی کے ساتھ مساوی حیثیت بھی دیدی تو طبقاتی نظام کی یہ سالخوردہ عمارت از خود دھڑام سے نیچے آرہے گی- لیکن وہ ایک روایتی کم ہمت سے بیورو کریٹ نکلے ، اردو کی تعریف تو اس جوش و خروش سے کی کہ معلوم ہوتا تھا کہ بابائے اردو کے قدموں میں تدفین کی خواہش رکھتے ہیں لیکن جب بات اردو کے نفاذ کی آئی تو نرے کھوٹے سکے نکلے.... بڑی کھوپڑیوں میں چھوٹے مغز یونہی بجا کرتے ہیں.... پھر یہ کہ انہوں نے ساری عمر کھانسنا چھینکنا اور غرارہ بھی زبان غیر میں کیا ہے تو ہماری شرح آرزو کیا رنگ لاتی.... انہوں نے تو کہ مکرنیوں.... عذر خواہیوں اور بہانے بازیوں کا جیسے طومار سا باندھ دیا اور میں سخت کوفت کے ساتھ انہیں کورٹ میں ملنے کی پیشگی 'نوید' دے کر بوجھل قدموں سے لوٹ آیا
محترم.... لیکن آپ سے نفاذ اردو کا مطالبہ کرتے ہوئے مجھے ایسی کسی لیت و لعل کا ذرا احتمال نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپکی اردو سے کیا نسبت ہے اور تعلق کی نوعیت کیسی ہے ، آپ کم و بیش پانچ دہائیوں سے شجراردو کے سائے میں متمکن ہیں اور یہ بلاشبہ اسی شجر کے پھلوں کا فیضان ہے کہ آپ کے قلم نے اردو کے دامن کو پانچ دہائیوں میں بے شمار لازوال اور بے مثال تحریروں سے آراستہ کیا ہے اور آج آپ اس بلند مینار عظمت پہ موجود ہیں کہ جس کی طرف سر اٹھاکر دیکھنے میں بہتیروں کی دستار گر گر پڑتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے آپکے قلم کی انگلی پکڑ کر بہت سوں کے قلم نے چلنا سیکھا ہے اور آپکی حوصلہ ata qasmiافزائیوں نے ہی آج کے کئی بڑوں کو اس مقام تک پہنچایا ہے.... مجھے وہ دن بھی یاد ہے کہ جب آپنے اس عاجز کو فون کرکے میری ایک ظریفانہ تحریر کی بہت پذیرائی کی تھی کہ جس سے مجھ میں باقاعدگی سے لکھنے کی امنگ پیدا ہوئی اور صرف یہی نہی بلکہ بعد میں جب لاہورگیا تو الحمرا میں اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران اپنی کتب کے تحائف سے بھی سرافراز کیا تھا او یقینناً یہ سب کچھ آپ کی انسان دوستی ہی نہیں اردو دوستی کی بھی اک جھلک تھی-
محترم قاسمی صاحب .... لیکن اب آپ کی اردو دوستی پر حقیقی آزمائش کا وقت آن پڑا ہے ۔ اب آپ ایک بڑے قومی ادارے کے سربراہ بھی ہیں اور نہایت بااختیارحلقوں تک آسان رسائی بھی رکھتے ہیں لہٰذا یہی وہ وقت ہے کہ آپ نفاذ اردو کے حوالے سے صحیح معنوں میں اپنا قومی فرض نبھا سکتے ہیں اور منصب و مقام کا قرض چکا سکتے ہیں ۔ آپ سے توقع ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ کو بھی نفاذ اردو کے حوالے سے ان کی وہ قومی ذمہ داریاں یاد دلائیں کہ جن کا تقاضا آئین کرتا ہے اور جس کی بابت سپریم کورٹ نے آٹھ ستمبر کو اپنا تاریخی فیصلہ دیا ہے اور جسکی مدت کی مہلت تین ماہ تھی جوکہ 8 دسمبر کو پوری ہوچکی ہے اور اب تک حکومتی سطح پہ عروس اردو کی مانگ بھرائی کا کوئی اہتمام دیکھنے میں نہیں آیا ہے جو کہ بلاشبہ سراسر توہین عدالت ہے اور اگر عدالت عظمیٰ نے اس سنگین خلاف ورزی کا اچانک نوٹس لے لیا تو یہ حکومت اس مصدقہ توہین عدالت کے گرز کا ایک وار بھی سہ نہ پائے گی-
میری خوش گمانی ہے کہ آپ نفاذ اردو کی بابت وہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں کہ جس کا تقاضا یہ قوم آپ جیسے دردمند دانشور اور مخلص عبقری سے کرتی ہے.... لیکن اب صرف چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ آگے بڑھ کر کرڈالنا ہوگا اور یقینناً آپ ایسا ہی کریں گے ، وگرنہ چیئرمینوں کی لمبی سی لسٹوں میں یہ صرف ایک مشہور سے نام کا ہی روایتی اضافہ ثابت ہوگا اور بس.... لیکن اس سے ایک بہت بڑا نقصان جو ہوگا وہ آپ کے شخصی عکس کے دھندلا جانے کا ہوگا اور میں یہ وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر صحیح طور سے سمجھا جائے تو یہ آپ کا اور اردو کا کوئی کم نقصان نہیں ہوگا- مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے آپ سے ملاقات ضرور ہوگی اور جلد ہوگی-
واسلام
فقیر اردو.... سید عارف مصطفی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *