مہذب بننے کی ضرورت

sajjad mirسجاد میر

اس سے پہلے کہ مشرف پُھر کرکے اڑ جائیں اور میں ہاتھ ملتا رہ جائوں، کیوں نا اس پر ایک آدھ کالم جھاڑ دیا جائے۔ سچی بات ہے کہ اس لئے خاموش تھاکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ ڈراما ہے کیا اور اب بھی نہیں پتا کہ اس کا انجام کیا ہونے جا رہا ہے۔ کبھی کبھی رونا آتا ہے، کبھی کبھی ہنسی۔ یہ جو داستانوں میں ایسی کیفیت کا تذکرہ ہے، وہ بہت گہری نفسیاتی رمزیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ آج میں کم از کم اس راز کو پاگیا ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
آج ہی میں نے دو خبریں دیکھی ہیں۔ انہیں پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ مندرجہ بالا کیفیت کا محل کیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت کا مشرف سے کچھ لینا دینا نہیں، وہ آئین اور ریاست پاکستان کے مجرم ہیں۔ شاید انہوں نے مجرم کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ یوں کہا ہے کہ غداری کے مقدمے میں آئین اور ریاست مدعی ہیں، وہ نہیں ہیں۔ بات تو یہ سولہ آنے درست ہے، مسئلہ مگر یہ ہے کہ ایک تو آنے وانے کا رواج اب ختم ہو چکا ہے، ایسے بھی اس سکے کی اب کوئی قیمت نہیں رہی۔
یقین نہ آئے تو دوسری خبر دیکھ لیجئے، وہ بھی آج کے اخبار میں چھپی ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ مشرف فوجی ہسپتال میں جانے کے بعد اب فوج کی نگرانی میں ہیں۔ وضاحت اس کی کچھ اس طرح ہے کہ اب سول انتظامیہ تک ان کی رسائی نہیں۔اسے یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ فوج کی تحویل میں ہیں۔ نہیں، بلکہ یہ کہ فوج کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ شاید یہ بھی نہیں، یوں کہہ لیجئے فوج کی حفاظت میں ہیں ۔ اب انہیں عدالت یا جیل لے جانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا لاپتہ افراد کو پیش کرنا۔ ویسے مشرف لاپتا بھی نہیں، قیدی بھی نہیں، ایک آزاد بیمار ہیں۔ قانونی طور پر بھی ان کی یہی حیثیت ہے۔
اس دوران کئی خبریں موضوع بحث بنتی رہی ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ پاکستان آئے تو ہمارے کان کھڑے ہوئے کہ ہو نہ ہو وہ اسی خاطر آئے ہیں کہ مشرف کو چھڑا کر لے جائیں۔ متحدہ عرب امارات سے لیکر برطانیہ اور امریکہ سے پتا بھی ہلتاہے تو بتایا جاتا ہے کہ اس کا سبب مشرف ہی ہے۔ ہو سکتا ہے، ایسا ہی ہو۔ ہمیں پتا تو چلنا چاہئے۔ ویسے کیا یہ بھی ضروری ہے۔ آرمی چیف ، وزیراعظم سے ملے تو خبر چل گئی کہ وہ مشرف کی ہسپتال میں عیادت کے بعد سیدھے وزیراعظم ہائوس گئے ہیں۔ مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ لڑنے والے ہمارے جی دار دوست اکرم شیخ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مشرف کو بیماری کے بہانے کسی نے عدالت لے جانے کے بجائے ہسپتال لیجایا ہے۔
ویسے ہمارے شیر دل کمانڈو دو دن پہلے یہ انٹر ویو دے چکے ہیں کہ وہ مشکل میں ہیں۔ دوست مدد کریں، مگر میں اپیل نہیں کروں گا۔ یہ بات بھی آرمی چیف پر چھوڑتا ہوں کہ وہ میرے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس قسم کا تاثر تو خیر عام تھا کہ عدالت جاتے ہوئے مشرف کے راستے میں جو بم نما تخریبی مواد ملا تھا وہ اپنوں ہی کی مہربانی تھی۔ مشرف پہلے روز ہی سے شدید حفاظتی بندوبست سے سرفراز ہیں۔
یہ باتیں اس لئے نہیں کہی جا رہیں کہ کسی خفیہ ہاتھ کا تذکرہ کرنا مقصود ہے ۔ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم کس مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جی ہاں، میں مشرف کی بات نہیں کر رہا، اس بیوقوف آدمی نے تو خود کو مشکل میں ڈالا ہی ہے۔ میں بحیثیت قوم اپنی صورت حال کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ نواز شریف کے بیان میں ایک اور پتے کی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس مقدمے سے فیصلہ ہو جائے گا کہ پاکستان مہذب جمہوری ملک ہے یا نہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ ویسے یہی کسوٹی ہے تو نتیجہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اظہر من الشمس ہے۔ صورت حال ایسی ہے کہ مشرف باہر چلے بھی جائیں، پوری قوم میں شاید ہی کسی کو حیرانی ہو۔ رہ گئی یہ بات کہ یہ ملک کے مہذب جمہوری ملک ہونے یا نہ ہونے کا معیار ہوگا، تو بات تو یہ درست ہے ، مگر اس کا فیصلہ کم از کم اس وقت ہی ہو گیا تھا جب ریمنڈ ڈیوس کو پنجاب حکومت کی تحویل سے نکال کر باہر بھیج دیا گیا تھا۔ اس وقت مرکز نے یہ معاملہ صوبے پر ڈال دیا تھا۔ صوبے نے بظاہر تو عدالتوں کا سہارا لیا، مگر ہاتھ پلے کچھ نہ تھا، بس رانا ثناء اللہ زبان کے جوہر دکھاتے رہے۔
عدالت کا سہارا تو اب بھی لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں عدالتوں پر اتنا دبائو نہ ڈالا جائے، مقدمہ سیدھا ہے عدالتوں کے پاس کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ غداری کے اس مقدمے میں سزا سنائیں۔ اس وقت کشمکش یہ لگتی ہے کہ اسے سزا سنانے کے بعد معاف کرنا ہے یا سزا سنانے ہی نہیں دینا اور پہلے ہی محفوظ راستے پر روانہ کرنا ہے۔
مشرف نے جب کھلم کھلا کہا تھا کہ فوج ناراض ہے اور وہ اس بات کو آرمی چیف پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں تو بڑا شور اٹھا تھا کہ یہ فوج کو اکسانے کے مترادف ہے۔ جنرل اسلم بیگ تک جو پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ فوج اپنے چیف کا کٹہرے میں کھڑے ہونا پسند نہ کرے گی، اب یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ فوج ناراض نہیں ہے۔ سابق فوجیوں کی تنظیم کا حال تو یہ ہے کہ وہ سب ایک ہال میں اکٹھے ہو کر مشرف کی تقریر سنتے رہے، مگر دفاع میں بولتے ہوئے ذرا محتاط رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک شریک محفل عدالت میں چلے گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہماری فوج کا اپنا کلچر ہے۔ ایک دوست بتا رہے تھے کہ ایک دور دراز علاقے میں ہمارے ایک قومی رہنما انتخابات کے دنوں میں مشرف کے خلاف تقریر کر رہے تھے، تو وہاں کے جہاندیدہ پرانے فوجیوں نے پیغام بھجوایا کہ ایسا نہ کریں، مشرف آخر ہمارے چیف رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک فوج کے کسی سابق جرنیل کا ٹرائیل نہیں ہو سکا۔ یحییٰ خاں سے نیازی تک سب صاف بچ گئے حتیٰ کہ سویلین ذمہ داریاں ادا کرنے والے کرپشن کے الزامات میں ان دنوں بھی بچے پھرتے ہیں۔
اس لئے سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس مقدمے پر بیک وقت ہنستے اور روتے تبصرہ کرتا ہوں۔ مجھے مشرف کے حامیوں کی کوئی دلیل سمجھ نہیں آتی۔ اکیلے پر کیوں چلا رہے ہو، سب پر چلّائو۔ یہ بھی کہ3نومبر سے کیوں12اکتوبر سے چلّائو۔ یہ سب باتیں درست ہوں گی، مگر ان میں سے کوئی دلیل بھی مشرف کا دفاع نہیں کر سکتی۔ کہا جا سکتا ہے، چلئے وہ بھی ٹھیک ہے، مگر یہ جو بہت واضح طور پر مجرم ہے، اسے اس مقدمے ہی میں سہی، عدالت کے روبرو تو لائو۔ کیا کیا فلسفے بیان کئے جا رہے ہیں، ایوب، یحییٰ، ضیاء، سب کو علامتی پھانسی دو۔ مطلب یہ کہ اسے بھی علامتی پھانسی دے کر چھوڑ دو۔ میں تو کہوں گا، بھٹو پر بھی مقدمے بن سکتے ہیں، اس کے علاوہ بھی جس میں اسے پھانسی ملی۔ وہ بھی بنا ڈالئے، شاید اسے مزید پھانسی دینا پڑے۔ علامتی ہی سہی۔ اگر یہ والا مقدمہ عدالتی قتل بھی ثابت ہو جائے تو کم از کم دو چار اور تیار ہوں گے۔ یہ ہم کس بحث میں الجھ گئے ہیں اس لئے میں تو مشرف کے مقدمے پر بولتا ہی نہیں، لکھتا ہی نہیں۔ کبھی ٹی وی پر بات کرنا پڑ جائے تو میری بات میں وہ جوش و خروش نہیں ہوتا جو اس معاملے میں ہونا چاہئے۔ یہ مقدمہ آئین یا ریاست پاکستان کا ہے تو مجھے ان دونوں کی بے بسی پر رونا آتا ہے۔ اور ہنسی اس بات کی کہ کس کار بیکار میں لگے ہوئے ہیں ۔ علامتی مقدمہ چلا رہے ہیں۔ شاید یہ بھی غلط نہ ہوگا کہ ہر ادارہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس کی جان چھوٹ جائے۔ اس وقت یہ وہ مکھی ہے جو اگلی جا رہی ہے نہ نگلی ۔ بنیادی طور پر فوج کی بھی خواہش تھی کہ یہ بلا گلے نہ پڑے۔ انہیں مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ وہ ملک میں نہ آئیں، ہم آپ کی حفاظت نہیں کر سکتے، جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اسے مار دیا جائے گا، کوئی افغان، کوئی لال مسجد کا زخم خوردہ، کوئی بگٹی کے قتل سے مشتعل شخص، وہ کس برتے پر پاکستان میں سیاست کرنے آیا تھا۔
ویسے یہ عجب مقدمہ ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مقدمہ چلا بھی تو سزا ہو جائے گی، مگر عمل نہیں ہوگا۔ ادھر لوگ مثالیں دے رہے ہیں کہ دیکھو ترکی میں انہوں نے کیسے جرنیلوں کے خلاف مقدمات چلائے۔ شاید ہمارے ہاں ابھی یہ وقت نہیں آیا۔ ہمیں مہذب جمہوری ملک بننے میں کچھ وقت لگے گا۔ ویسے اتنا مہذب بننے کی ضرورت بھی کیا ہے، دیوتا بننے کی کوشش میں آدمی معلق ہو جاتا ہے، کہیں ایسا تو نہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *