ریاستی بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے

naseem kausarبظاہر منتخب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں وقتاً فوقتاً باہمی رسا کشی کا گمان گزرتا ہے لیکن یہ گمان اب تک ’بے پر کی اڑانا‘ کے مصداق بے پرکی ہی ثابت ہوا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں ، جن کو قصداً ہوا دی جاتی ہے، دراصل ماضی کی روایات کی نفسیاتی کڑی ہیں جس کا شکار اب تک ہماری سیاست رہی ہے۔ آمریت کی رسیا قوتوں کے لیے جمہوریت کا موجودہ تسلسل بدہضمی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ کہ ان کے موقع پرست معدوں کو جمہوریت کی دوا موافق نہیں آتی۔ ماضی کی طرح ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب عسکری اداروں اور جمہوری قوتوں کے درمیان ذرا سے اختلافات جنم لیتے ہیں تو یہ فصلی بٹیرے آمریت کو گود میں اٹھانے کے لیے تالی بجاتے ہوئے باہیں کھول دیتے ہیں اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے محض آمریت ہی عوامی مسائل کی اکلوتی مسیحا ہے۔ ان کا اپنا عالم یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی منافرت اور سرحد پار کے عناد کو ملکی مسائل سمجھ لیا ہے اور عوام کو بھی زبردستی یہی باور کرانے پر مصر ہیں کہ اللہ لوکو ! تمھارے مسائل وہ نہیں جن کے لیے تم ووٹ دینے کے لیے قطار بنائے کھڑے ہو بلکہ تمھارے مسائل تو وہ ہیں جو ہم در و دیوار پر نقش کرتے ہیں۔ لیکن بدلتے ملکی حالات اور عوام کے ابھرتے سیاسی شعور نے ان جمہوریت مخالف طاقتوں کو واضح پیغام دیا کہ نہیں اب قوم ایسے تجربات کے لیے بالکل تیار نہیں۔ کچھ ہماری وردی والی سرکار نے بھی اب تک نہایت سمجھداری کا ثبوت دیا ہے اور تمام تر دھماچوکڑی سے کنارہ کش رہتے ہوئے مدبرانہ خاموشی سے ان شر پسند عناصر اور جمہوریت مخالف قوتوں کو لال جھنڈی دکھائی ہے ۔
امن و جمہور مخالف قوتیں اب بھی مختلف حربوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ کہیں آپ کو احمدیوں کے خلاف لن ترانیاں سنائی پڑ رہی ہوں گی تو کہیں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔ نہ ہی کوئی عام شخص ایسی مجرمانہ حرکت کی جرات کر سکتا ہے جب تک اس پیچھے ہلا شیری دینے والا مضبوط ہاتھ موجود نا ہو وہ بھی اس صورت میں جب کئی ماہ سے شر انگیز مواد کی تشہیر پر پابندی عائد ہے۔ کہیں ان قوتوں کو بھارت کی مخالفت کے مروڑ اٹھتے ہیں اور کہیں فتوی بازی کے ذریعے صدرِ پاکستان کے خالف مہم جوئی کی سعی کی جاتی ہے۔ جبکہ مہم کار بھی وہ ہیں جن کے اپنے پیٹ منافع خوری کے مقابلہ جات میں اول انعام یافتہ ہیں۔ مگر حالیہ عسکری و سویلین پالیسیوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ چالیس سال تک نظریاتی صحراو¿ں کی خاک چھاننے کے بعد ہمیں اب ذرخیز فکری جزیرہ میسر آنے کو ہے جہاں کسی ایک مکتبہ فکر کی اجارہ داری نہیں ہو گی بلکہ ہر مکتبہ فکر کو بھرپور انداز سے اپنی فکر کے نا صرف اظہار بلکہ تشریح کا حق ہو گا اور ریاست ان کے اس حق کی حفاظت کرے گی.. یہی لبرل ازم کا نقارہ ہے. یہی زندہ اور وسیع القلب معاشروں کی پہچان ہے۔ جدید دنیا کی تہذیب ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم اب رنگ، نسل، مذہب اور قومیت سے ابھر کر ایک متحد انسانی تشخص قائم کریں جو مستقبل میں دوسری دنیاو¿ں کے ساتھ میل ملاپ میں ہماری پہچان بنے گا ۔.
آثار بتاتے ہیں کہ ہم بھی یہ سبق سیکھ رہے ہیں تب ہی ریاستی بیانیہ بہت خاموشی اور سلیقے سے بدل رہا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایک روشن خیال اور لبرل ازم کی روایات سے مزین نمونے کی طرف بڑھ رہاہے۔ گزشتہ ہفتے جس طرح احمدی برادری کے خلاف نفرت آمیز بینر کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور ہر قسم کی شرانگیز تقریر و تحریر کی راہ روکنے کے لیے کارروائی کی گئی، یہ سب ٹھنڈی خوشبودار ہوا کے جھونکوں کی مانند تھا۔ ریاست ایک نئی قومی پالیسی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس بات کا خوشگوار احساس اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کل ٹیلیویژن پر آئزک ٹی وی نامی چینل کی نشریات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ چینل پچھلے دو دن سے مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس منا رہا ہے۔ اپنے وطن کی اقلیتی قوم کو میسر یہ آزادی اور رواداری کی فضا دیکھ کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہے۔
اب تک ریاستی بیانیہ داخلی طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔ تبدیلی سست مگر پائیدار ہے( یہ دعویٰ اس امید کیا جا رہا ہے کہ پائیدار ہو) اس لیے اوپری سطح تک ثمرات پہنچنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ اس لیے معتدل قوتوں کو تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جن دوستو کو یہ گلہ ہے کہ احمدیوں کے خلاف لگے بینر کا نوٹس تو لیا گیا مگر بینر اتارا نہیں گیا۔ انہیں ریاست کی اس جرات پر کلمہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ حکومت نے اس قبیح فعل کو جرم تو گردانا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *