گزرے برس کی ایک فکری جھلک....

shakoor rafeyسوال زندہ ہے تو قوم کم از کم ذہنی طور پر دیوالیہ نہیں ہے. نہ ہو سکتی ہے کہ مسلمات پر اشکال اور شخصیات سے سوال کرنے کی روایت عادت بن جائے تو چبھتے ہوئے سوالوں کی یہ کیلیں اگلی نسلوں تک سوال کا وہ ہتھوڑا بن جاتی ہیں جو باطل تقدیس کے بت پاش پاش نہ بھی کر سکے تراش خراش ضرور کر دیتا ہے.... جدید عہد کی اچھی بات ، سوال کرنے کی پنپتی عادت سے زیادہ.... سوال سننے اور تحمل سے سننے کی ابھرتی روایت بھی قابل اطمینان ہے.... اگرچہ چند استثنائی مثالوں سے خرد کی غلامی سے آزادی یا جوانوں کی پیروں پر استادی کی اجتماعی نوید نہیں دی جا سکتی تاہم میڈیا میں براہ راست سوال جواب کے مقبول ہوتے سیشن سے لے کر ابتدائی تعلیمی اداروں کے روایتی ’ شغل نالج‘ کا ’گوگل نالج‘ سے الجھاو¿ اور ٹکراو¿.... مقدس و مستند شخصیات کو تحکم کے بجائے تبسم کا لہجہ عنایت کر رہا ہے۔
پچھلے دنوں ، بطور طالب علم نمل یونیورسٹی کے زیراہتمام مختلف عالی دماغوں یا عالی نشستوں کی قربت کا عام سا تجربہ خاص محسوس ہو۔ نسل نو مودب ضرور تھی، مرعوب نہیں۔۔۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز نامور اساتذہ, ادبا اور زعما کو دلچسپی سے سن رہے تھے اور ان کی فکر اور نقطہ نظر پر سوال اٹھا رہے تھے...سوال کرنے والے یہ چہرے خود اعتمادی، خوش حالی اور خوش ذوقی سے چمکتے ہیں جبکہ جواب دینے والے متین, مونس اور سخن دلنواز.... ڈھلتے دانشور مروتاً یا ضرورتاً (یا بعض شخصیات کے حوالے سے قدرتاً ) تخم ریزی کرنا جانتے ہیں.. یہ فیضان علم ہی نہیں، فیضان نظر بھی رکھتے تھے۔ بوڑھی دانش کو بانجھ کہنے والے بھی دیکھ رہے ہیں کہ اسی کوکھ سے آج کے طالب علم میں جھرجھری جنم لیتی ہے یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساری بوڑھی دانش مایوس نہیں ہے اور ساری جوان دانش مزدور نہیں ہے.... ’شوق جماعتوں‘ میں، گاہے، تجسس ، عدم اطمینانی اور کھوج کے شگوفے پھوٹتے ہیں اور باغبانوں کو ان کیاریوں کی تلاش اور تراش کے لیے خود کو جھکانا پڑتا ہے۔ سو بوڑھی دانش فخریہ پیشکش کے بجائے عالمانہ سے زیادہ عاجزانہ افتتاح کرتی ہے جسے نئی دانش قبول کرتی ہے اور جب درس ،خطاب، خطبہ سیمینارز اور لیکچرز میں سوال کا کلچر پروان چڑھتا ہے تو علمی معیار ومقدار کی شماریات کمزور بھی ہو تو کشادہ دلی و کھلے دل و دماغ کی علمی فضا اس کا بھرم رکھ لیتی ہے۔ کاش ہماری اکثریتی مذہبی سرگرمیوں میں بھی ایک اختتامی سا سیشن ایسے ہی سوال جواب کا رکھا جائے.... خطبہ جمعہ سے لے کر روِحانی اجتماع کے اختتامیہ بیان تک....
نمل یونیورسٹی میں اقبال اور معاصر ادب کو عہد حاضر کے تناظر میں سمجھنے کے لیے منعقدہ سیمیناراور لیکچر ہو یا مختلف علمی و ادبی اداروں کے مطالعاتی دورے.... پچھلے دنوں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر شاہد اقبال کامران، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید جیسے کئی ممتاز گردانے جانے والے اہل علم سے طلبہ نے مکالمہ کیا جن میں موجودہ تہذیبی، مذہبی،تدریسی اور ادارہ جاتی سکہ بند نظام پر سومناتی سوال تھے اور جواہراتی جواب.... عین ممکن ہے کہ میڈیا اور زندگی کے ہر شعبے کا مبہم تناو¿ ان سوالات میں میچورٹی(تنظیم) کو مجتمع نہ کر پایا یو اوراضطراری مجموعہ خیال ابھی فرد فرد ہو۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ شک، وسوسہ اور عدم اطمینانی پیدا کرنے والے عوامل ہی تلاش اور جستجو کو ابھارتے ہیں۔ ایسے ہی ایک نئی سیاسی جماعت کہ جس نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود صرف جذبہ، نظریہ اور کمٹمنٹ کے جنون سے خود کوملک بھر میں کامیابی سے متعارف کرایا ہے جو حقیقی معنوں میں اینٹی سٹیٹس کو نظریات رکھتی ہے جس کے نگران اور ہمدرد عابد حسن منٹو، یوسف حسن اور عاصم سجاد جیسے دانشور ہیں۔ ان نظریاتی من چلوں میں ملک کی اعلی ترین یونیورسٹیز کے نوجوان پروفیسر، سائنس دان، انجنیئر ،ایکٹویسٹ اور سرپھرے فنکار شامل ہیں.... یہ سب جماعت کے اکابرین سے کھل کر سوالات کرتے ہیں اور ان کے نظریہ پر بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ کوئٹہ کے عابد میر اور ان کے مضطرب دوستوں کے تند سو الات ہوں یا نئے کارکنان کے خیالات.... اختلاف رائے کا یہ پھلتا پھولتا کلچر نئی نسل کی ذہنی پرداخت کے پھلنے پھولنے کا اشاریہ ہے،اظہاریہ ہے اور مستقبل کا بیانیہ ہے.
ہم بچھڑتے برس کی الوداعی ساعتوں میں کھوج ، تلاش اور جستجو کے خواب بانٹنے والے خداوندان مکتب سے مزید کی امید کرتے ہیں اور ان خواب گاہوں میں اچھلتی مچلتی پھسلتی ہوئی ، بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی نسل نو کو نئے برس کی یہی دعا دیتے ہیں۔
آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی
زہر امروز میں شیرینیِ فردا بھردے
وہ جنہیں تابِ گراں باریِ ایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کردے
جن کا دیں پیرویِ کذب وریا ہے ان کو
ہمتِ کفر ملے، جرتِ تحقیق ملے
جن کے سر منتظرِ تیغِ جفا ہیں ان کو
دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

گزرے برس کی ایک فکری جھلک....” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *