اسلام کے نام پر فیکٹریا ں

fida hussainاسلام کے نام پر فیکٹریاں لگانے میں اجتماعی اور انفرادی سطح ہر کوئی اپنا اپنا حصہ ڈال رہا ہے دو روز قبل پاکستان سمیت پوری دینا میں نبی رحمت ﷺ کا یوم ولادت بڑی عقیدت و احترام سے منایا گیا ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی لوگ اس دن کی تیاری شروع کردیتے ہیں اور جب آپ گھر سے نکلیں تو جھنڈیاں گاڑ کر راستے سجائے ہوئے ملتے ہیں اپنے دفتر آتے ہوئے اس مبارک مہینے کی آغاز پر راقم کی نظر بھی ایک چنگ چی پر نظر پڑی جس پر واضح پر بسمہ اللہ کولنگ سنٹر لکھا ہوا ہے اس وقت سے سوچ رہا ہوں کہ اس ملک میں کس کس نے اسلام کے نام فیکٹریاں نہیں لگا رکھی ہیںاس میں مذہبی جماعتوں سے لے کر کریانہ سٹوراور کاروباری مراکز تک شامل ہیں۔ مثال کے طور جماعت اسلامی ، جمیعت علمائے اسلام، تحریک اسلامی ،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ،سنی اتحاد کونسل اور بہت سی جماعتوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ بسمہ اللہ کولنگ سنٹر جیسے اور نام کی فیکٹریاں بھی ملیںگی۔ اگر نیٹ سرچ کریں تو بسمہ اللہ فوڈ سنٹر کا نام بھی ملے گا۔ جب یہ مذہبی سیاسی جماعتیں اپنی لائنوں سے ہٹ جاتی ہیں تو سب سے زیادہ تنقید کی زد میں آجاتی ہیں اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہر سیاسی جماعت کو کسی بھی قسم کامنشور پیش کرنے کا حق توضرور ہے مگر اسی منشور سے ہٹ کر کام کرنے کاحق عوام ان جماعتوں کونہیں دیتے۔ اس سلسلے میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں کوئی فرق روا رکھا نہیں جاتا ہے۔اسی طرح ہر کسی کو اپنی فیکٹریوں کا نام اپنی مرضی سے رکھنے میں آزادی ہے مگر اس میں جس بات کو ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اُس نام سے وہ لوگوں کی مذہبی جذبات کا استحصال نہ ہو،راستوں میں لگائے گئے بینروں کو دیکھ کرذہنوں میں سوالات کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ جنم لینا شروع ہوتا ہے کیا اب بھی ہمارے ملک کے امن کو تہ و بالا کرنے والوں کو اس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کھلی آزادی تو نہیں یا اب بھی سٹرٹیجک ڈیپٹھ (تز ویراتی گہرائی ) کا فلسفہ موجود ہے کیا نیشنل ایکشن پلان کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ استحصالی طبقہ لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو انصاف کے نام پر بے انصافی ،جمیعت کے نام پر شخصی، دین کے نام پر بے دینی ،عوام کے نام خواصی کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو جذبات کا اسیر بنادیتے ہیں اور وہ عوام کو کسی بھی چیز کوعقل کے پیمانے پر سوچنے سے روکتے ہیں اور لوگوں کے دلو ں میں طرح طرح کے بت سازی کرتے ہیںاور کچھ بعید نہیں کہ یہ کمپنیاں بھی ایسا ہی کریں جبکہ نہ تو حضور بنی رحمت ﷺکی تعلیمات دھوکاد ہی کی اجازت دیتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو قابل معافی قرار دیا گیا ہے۔ میلاد منانا سرور کائنات ﷺسے اظہار محبت کا ایک طریقہ ضرور ہو سکتا ہے اور ہے مگر یہ کام نجات کے لئے کافی نہیں ہے ۔ اگر کسی کو دنیاوی اور اخروی نجات مطلوب ہے تو اس کے لئے آپ ﷺکی آفاقی تعلیمات پرمکمل طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اسلام کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیل کر عوام کو جمع کرنے اور مال بنانے والوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ ان کمپنیوں کی آمدنی کا خاطر خواہ حصہ ان فسادیوں کی پشت پناہی کےلئے خرچ ہونے کا بھی قوی امکان موجود ہے تاہم یہ قانونی کارروائی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *