پولیو کیسز میں 96 فیصد کمی،

polio unckجہاں 2014ء میں بہت سے ممالک نے اپنے اپنے ہاں پولیو کے وائرس سے چھٹکارا پا لیا تھا، وہیں پاکستان میں پولیو کے بیشتر نئے کیسز سامنے آئے تھے لیکن سال 2015ء میں اس کے برعکس نتائج نے دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے۔ 2015ء میں پاکستان میں پولیو مہم کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ انسدادِ پولیو مہم میں شامل ٹیموں کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان 2012ء میں پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن 2014ء میں پولیو کیسز کی بڑی تعداد نے اس کامیابی کو متاثر کر دیا۔ اُس سال اس مرض کے زیادہ کیسز شمال مغربی قبائلی علاقوں سے سامنے آئے، جن کی تعداد 179 تھی۔ اِس کے مقابلے میں 2015ء میں فاٹا سے صرف 16 بچوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے شعبہٴ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اختیار خان کے مطابق قبائلی علاقوں میں جاری ضرب عضب آپریشن اور انسداد پولیو مہم کی ٹیموں کی کوششوں کی وجہ سے پولیو کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ ان کے بقول’گزشتہ سال کے مقابلے میں اس 2015ء میں فاٹا میں پولیو کیسز میں قریب 96% کمی آئی ہے، اس کی پہلی وجہ قبائلی علاقوں میں بھرپور پولیو مہم اور دوسری بڑی وجہ وہاں پر فوج کے کامیاب آپریشن تھے، جن کی وجہ سے ہماری ٹیمیں ان علاقوں میں بھی پہنچ گئیں، جہاں تک پہلے رسائی ممکن نہیں تھی‘۔ ڈاکٹر اختیار خان مزید کہتے ہیں کہ پہلے انسداد پولیو مہم کے لیے عارضی طور پر ٹیمیں تشکیل دی جاتی تھیں، جبکہ اس بار انہوں نے تمام علاقوں میں وہاں کے باسیوں پر مشتمل مستقل ٹیمیں بنائی ہیں، جس کی وجہ سے مہم میں بہتری آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کےتقریباً تمام ممالک سے پولیو کے وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے تاہم پاکستان اور افعانستان دو ایسے پڑوسی ممالک ہیں، جو ابھی تک اس وائرس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبرپختونخوا محمد اکبر خان کا جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سال 2015ء میں فاٹا میں پولیو کی روک تھام کے لیے جو منصوبہ بندی کی گئی تھی، اس کے اچھے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت اور فاٹا سیکرٹریٹ نے باہمی شراکت سے سرحدی علاقوں میں آگاہی پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو پولیو کے قطروں پر آمادہ کیا۔ وہ کہتے ہیں:’’ہم اس باہمی اشتراک کو آئندہ سال مزید بہتر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہماری یہ کوشش ہو گی کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے ساتھ ساتھ 2016ء میں افعانستان کے سرحدی علاقوں تک اس مہم کو پھیلائیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو اس وائرس سے چھٹکارا دلا سکیں۔‘‘ انسداد پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والے ورکرز کے کردار کو اس مہم میں بنیادی اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ سالوں میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کی وجہ سے بہت سے پولیو ورکرز بھی ہلاک ہوئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بہتر سیکورٹی بھی فراہم کی جاتی رہی تاکہ یہ لوگ بہتر طور پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے سکیں۔

polio1

خیبر ایجنسی میں پولیو مہم میں حصہ لینے والے ایک کارکن مراد آفریدی کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ قریب تین سالوں سے انسداد پولیو مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے بقول اب ان کے علاقے میں حالات معمول پر آ چکے ہیں۔ اب بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے دوارن ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کرتے۔ ڈاکٹر اختیار خان کہتے ہیں کہ ان کے محکمے نے سال 2016ء کے لیے بھر پور منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور ان کو یقین ہے کہ اس سال قبائلی علاقوں کو پولیو کے وائرس سے پاک قرار دیا جائے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پولیو کے وائرس کا خاتمہ بہت آسان ہے لیکن اس کے لیے لوگوں میں شعور اور آگاہی کی ضروت ہے۔ سال 2016ء کے لیے بھر پور منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس سال قبائلی علاقوں کو پولیو کے وائرس سے پاک قرار دے دیا جائے گا یاد رہے کہ 2015ء میں خیبر پختونخوا کو گزشتہ سال کے مقابلے میں پولیو کے روک تھام کے سلسلے میں 80 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شورش زدہ قبائلی علاقوں میں یہ کامیابی 96 سے 98 فیصد تک بتائی جا رہی ہے۔

پولیو کیسز میں 96 فیصد کمی،” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *