”من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن“ 

Ayaz-Amirجو عقائد میرے ذہن میں پروان چڑھے ، اب تک اگر وہ مکمل طور پر محو نہیں ہوئے تو بھی کمزور ضرور پڑ چکے ہیں۔ اس دوران دنیا آگے قدم بڑھا چکی۔ ہم ایک مختلف دنیا میں پروان چڑھے تھے اور جب سراٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمارے ارد گرد کی دنیا بالکل مختلف ہے۔ مجھ جیسے افرادجو انقلاب ِر وس کا ایک دھندلا سا تصور رکھتے، ایک مثالی سوشلسٹ دنیا دیکھنے کی فکر ذہن پر سوار رکھتے تھے۔ ہمار ا پسندیدہ نعرہ ”مشرق سرخ ہے“ ہوا کرتا تھا اور کیوبا کے انقلابی ہیرو، چی گوویرا(Che Guevara)کی تصاویر، جن میں وہ سگار کا سرا چبا رہے ہوتے، دیکھ کر ہمارے دلوں کی دھڑکن تیز ہوجاتی۔ ہماری گفتگو کا زیادہ تر موضوع استعماریت کو چیلنج کرنے والی تحریکیں ہوتیں اور پھر ویت نام جنگ کے مناظر ہمار لہو گرماتے۔ آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہماری فکری دنیا قدرے قدیم ، عصر ِحاضر سے دور تھی۔
ان عقائد کے ساتھ مجھ جیسے تمام افراد دل میں اپنی طرز کے احساسات، جذبات، پرانی وضح کی پسند و ناپسند کی عینک سے اس دنیا کو دیکھتے ہیں ۔ سڑکوں پر کاروں کا ہر آن بڑھتا ہوا رش مجھے متنفر کردیتا ہے، شاپنگ سنٹرز، جن میں سے ایک میں حالیہ دنوں میری بیٹی مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئی، مجھے بالکل ویسے ہی لگا جیسے جہنم کا ہلکا سا تصور میرے ذہن میں موجود تھا۔ بتاتا چلوں کہ میرے ذہن میں جہنم کا تصور آگ کی لپٹیں نہیں بلکہ گاڑیوں ، رکشوں اور موٹر سائیکلوںسے بھری ہوئی ایک ایسی جگہ ہے جو ان کے دھوئیں اورہارنوں کے شور سے بھری ہوئی ہو اور فٹ پاتھ پر سستا سامان فروخت کرنے والے بلند آہنگ افراد پوری طاقت سے چلا چلا کر گاہکوں کو متوجہ کرنے کی پیہم سعی میں ہوں۔چند ہفتے پہلے میں پیدل چلتا ہوا لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں گیا۔پیدل چلنے کا جملہ لسانی کسر ِ نفسی سمجھیں، اصل ترکیب دھکم پیل ہے۔ اس سے پہلے میں گاڑی چلاتا ہوا برانتھ روڈ سے گزرا جہاں ہر دوکان کے سامنے تین تین کاریں پارک تھیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ باقی سڑک پر گزرنے والوں کے لیے کتنی جگہ بچتی ہوگی۔ اس سٹرک اور شاہ عالم مارکیٹ کو رش کے اوقات میں دیکھیں تو جہنم کے اسفل ترین مقام کا نقشہ ابھر کرذہن میں واضح ہوجائے گا۔ ہمارے تمام شہروں کے اندرونی حصے اسی”نقشے“ پر بنے ہوئے ہیں۔ میں بسا اوقات راولپنڈی کے بھابرہ بازارمیں کینڈل سٹک، پیتل کے لیمپ ، سلور کی ڈشز وغیرہ خریدنے جاتا ہوں۔ اس مرتبہ میں وہاں سے پیدل صدر روڈ کی طرف آیا تو ایسا لگا جیسے جہنم کی ”کچی آبادی“ سے گزررہاہوں۔
پشاور سے لے کر ملتان اور پھر وہاںسے اندرون سندھ تک ، ہمارے شہروں کے پرانے حصے زندگی اور اس کے مختلف رنگوں سے سجائے جاسکتے تھے،لیکن ہم نے انہیں تباہ کردیا ۔ اب یہاں گزرنے کی تو جگہ نہیں لیکن موٹر سائیکل رکشے ، جن پر نصف درجن کے قریب افراد بیٹھے ہوتے ہیں، دنددناتے ، شور مچاتے اور دھواں اُڑاتے ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے چھوٹے بڑے سب شہر افقی طور پر پھیلتے ہوئے قیمتی زرعی زمین کو نگل رہے ہیں۔نئی بننے والی ہاﺅسنگ کالونیوں کے اشتہارات کا سائز دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف ایک ہی کام ہورہا ہے، زرعی زمین کو روند کر مکانات بنانا۔ اس کے علاوہ ہماری فعالیت شادی کرنے اور شادی گھروں کی تعمیرمیں نمایاں ہے۔ اسلام آبادکی طرف دیکھیں، ہر سمت پھیلتی ہوئی آبادیوں میں گھرے ہوئے اس دارلحکومت میں واحد چھوٹی سی کھلی جگہ کہسار مارکیٹ ہے۔ یہاں پر آپ دو یاتین مقامات ایسے تلاش کرسکتے ہیں جہاں بیٹھ کر چائے یا کافی پی سکیں، لیکن سپرمارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ میں یہ سہولت بھی میسر نہیں۔
گو کہ ہم غزل اور گیت کی شاندار وایت کے امین ہیں لیکن مقامات کے نام رکھتے ہوئے ہم تخیلات پر تاریخ کی فتح مان لیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تان ”سپر“پر ٹوٹتی ہے۔ دارلحکومت کی Avenue des Champs-Elysees بلوایریا کہلاتی ہے اور اس میں گزرنے والی سڑک کو ، خدا آپ کا بھلا کرے، جناح ایونیو کہتے ہیں۔ یہاں بھی ایک اورنفساتی مسلہ، لگتاہے کہ پاکستان میں ہمارے پاس جناح اور اقبال کے اسما کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہمارے لاشعور میں ایک خوف جاگزیں ہے کہ اگر ان ناموں سے ذرا دائیں بائیں ہوئے تو بھٹک کر کسی خطرناک وادی میں نہ جانکلیں۔ ہمیں ان مقدس ناموں کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے اپنی حب الوطنی کا یقین دلانا پڑتا ہے۔ اسلام آباد کی سی ڈی اے اتھارٹی نے اس کا کسی بھی قدرتی آفت سے بڑھ کر کباڑا کردیا ہے۔
لاہور ، جوعمومی زبان میں باغات کا شہر کہلاتا ہے، میں ایک بھی ٹی ہاﺅس نہیں ، نہ اندرونی حصوں میں اور نہ ہی جدید آبادیوں میں۔ تو وقت گزارنے کے لیے کیا کیا جائے؟ جب کوئی سرائے نہ ہو تو میں یا آپ سستانے کہاں جائیں؟ جس جگہ مال پر چائے خانے اور کیفے ہوا کرتے تھے، اب وہاں ملبوسات اور جوتوں کی دکانیں ہیں۔ اعلیٰ اورمہنگے کیفے اب ڈیفنس اور ایم ایم عالم روڈ پر ہیں۔ اگر لاہور پر مجموعی طور پر نظردوڑائیں تو یہ ایک ”موچی پورہ“ دکھائی دیتا ہے۔ جب ہم نے مال جیسی سٹرک کا یہ حال کردیا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ باقی مقامات کا کیا عالم ہوگا۔ بازار ِحسن میں اب حسن کی بجائے جوتوں ، کھسوں اور عام اشیا فروخت کرنے والی دکانیں ہیں۔ اگر اس بازار میں آ کر ایام ِ رفتہ تلاش کریں تو مزید جوتوں کی دکانیں دکھائی دیں گی۔ اب یہاں نہ ہارمونیم کی لے کانوں میں رس گھولتی ہے اور نہ ہی حسین و جمیل رقاصائیںسر تال کو اعضا کی شاعری میں ڈھالتی ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک انگریزی روزنامے نے حیدر آباد بازار کا ذکر کیا تو مجھے یاد آیا کہ 1970کے انتخابات کے دوران میری تعیناتی تھانو بھلا خان(Thano Bulla Khan) میں ہوئی تھی۔ ایک شام ہم بہت سے فوجی افسران اُس بازار میں موسیقی سے لطف اندوز ہونے گئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب اخلاقیات نے جمالیاتی ذوق پر نام نہاد فتح نہیں پائی تھی۔ ان دونوں قوتوں کی کشمکش جاری رہتی ہے لیکن معاشرے کو اخلاقیات کی فتح کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔دراصل اخلاقیات ایک بناوٹ اورملمع کاری کا نام ہے، جمالیاتی ذوق انسان کے دل کے نہاں خانوں میں اپنا وجود رکھتا ہے۔ اب ہوسکتا ہے کہ اخلاقیات بازار حسن کے خلاف جنگ جیت جائے، لیکن پھر موخر الذکر بھی اتنا انتقام لے لیتا ہے۔ اس کا ارتکاز توڑدیں گے تو پھر یہ تمام شہر میں پھیل جائے گا۔ کیا یہی فتح ہے جس پر عقیدے کے چمپئن نازاں ہیں؟پرویز مشرف کا گناہ آئین کی پامالی تو تھا اُنہیں اپنے ضمیر پراس ضمن میں زیادہ بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں، جب ہم نے اپنے شہروں کے اندرونی حصوں کو اس بے دردی سے پامال کردیا ہے تو پھر کاغذپر تحریر کردہ آئین کی پامالی پر اتنا چین بجیں ہونے سے کیا حاصل؟
مشرف کی سب سے بڑی ناکامی لگی ہوئی پابندیوں کو ختم نہ کرنا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے دو سال تک وہ بہت بہت طاقتور تھے، تمام اختیارات اُن کے ہاتھ میں تھے، لیکن اُنھوں نے وہ موقع گنوا دیا اور ملک منافقت کے حمام ِ گرد باد سے باہر نہ نکل سکا۔
جام صادق درحقیقت پاکستان کے پیٹرن سینٹ بن سکتے تھے کیا عمدہ نام بنتا، سینٹ جام، عملی طور پر ہی نہیں، سننے میںبھی اچھا لگتا ۔ وہ کراچی میں اپنے ڈرائنگ روم کے مرکز میں بیٹھے ہوتے، ٹرالی پر شفاف گلاس، ایک برف کی ٹوکری اور پانی اور سوڈے کی بوتلیں، اور پھر سکاٹ لینڈ کی عمدہ ترین مصنوعات۔ مہمانوں سے یہ نہ پوچھا جاتا کہ ٹھنڈا یا گرم ، بلکہ یہ کہ آپ کے گلاس میں پانی ملایا جائے یا سوڈا۔ اُس وقت جام صاحب سندھ کے وزیر ِ اعلیٰ تھے، اورانھوں نے کبھی دکھاوے سے کام نہیں لیا تھا۔ اُنھوں نے کراچی اور صوبے میں مختلف مقامات پر ممنوعہ مشروبات کی فروخت کے مراکزبھی کھلوا دیے تھے، بظاہر تو یہی کہا گیا تھا کہ غیر مسلم شہریوں کی سہولت کے لیے ہیں۔ اس کے بعد فوجی کمانڈر جنرل عثمانی نے ان مقامات کی تعداد کم کردی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی کمانڈر بھی کسی نامعلوم تبدیلی سے گزرنے لگتے ہیں۔ وہ نصف درجن رہائشی پلاٹ لیتے وقت اخلاقیات کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ، پرہیز گاری اپنا غلبہ کرنے لگتی ہے۔
بہرحال یہ کچھ کتھارسز تھا ، قارئین کو سال ِ نو مبارک ہو۔ ہمیں اپنے حالات کا بہترین فائدہ اٹھانا چاہیے۔ قوانین اور اخلاقیات کا بوجھل کمبل ہمارے فطری میلان کو ختم نہیںکرسکا، چنانچہ ہمیں ”اخلاقی جرات“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حماقت سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے کچھ نے نئے سال کی آمد کا جشن منایا ہوگا، لیکن زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے نئے سال کا کوئی نیا مطلب نہیں ہوتا۔ اس ملک میں لطف پر بھی طبقاتی فرق کی جارہ داری ہے، ضروری ہے کہ خوش ہونے کے لیے آپ کی جیب بھاری ہوا ور آپ کا تعلق اشرافیہ سے ہو۔ باقی افراد کے کان تو سائرن کی آواز پر لگے رہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *