کچھ بات چوہدری اعتزاز احسن کی ....

saleem pashaمیرے نزدیک آج بھی چوہدری اعتزاز احسن پاکستان کے وہ واحد رہنما ہیں جن کو کسی پارٹی کی نہیں بلکہ پارٹیوں کو ان کی ضرورت ہے۔ میں یہ الفاظ ان کی تعریف میں نہیں کہہ رہا بلکہ میرے خیال میں واقعی وہ ایسی ہستی ہیں کہ جن پر یہ بات صادق آتی ہے۔
چوہدری صاحب سے میری باقاعدہ ملاقات اسلام آباد میںجناب مستنصر جاوید صاحب کے دفتر میں ہوئی جہاں میں بطور ڈیزائنر کام کررہا تھا۔ یہ شاید 1994-95کی بات ہے۔ چوہدری صاحب کا مستنصر صاحب سے کالج کے زمانے سے یارانہ چلا آ رہا ہے اور بحیثیت لکھاری دونوں کا قلمی رشتہ بھی ہے۔ ان دنوں چوہدری اعتزاز صاحب اپنی جیل کی قید کے زمانے کی لکھی ہوئی کتاب Indus Saga کا اردو ترجمہ کروانا چاہ رہے تھے اور انہوں نے اس مقصد کیلئے مستنصر صاحب کو راضی بھی کر لیا تھا۔ مستنصر صاحب اور شبیر حسین صاحب جو اس ادارے کے جی ایم تھے، کی زیر سرپرستی میں نے اسلام آباد سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان دونوں شخصیات کا میری فنی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ اب بھی میں ان ہستیوں سے رہنمائی کا طلب گار رہتا ہوں۔ شبیر صاحب مجھے میرے شہر گجرات سے ہی جانتے تھے بلکہ میرے کام یعنی مصوری کے شغل سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ چنانچہ ان کی کرم نوازی سے مجھے مستنصر صاحب کے قدموں میں جگہ مل گئی۔ ان دنوں جب چوہدری اعتزاز احسن صاحب دفتر تشریف لاتے تواپنی پرلطف ادبی و سیاسی گفتگو اور رنگینی مزاج سے ہر دل کواپنی طرف متوجہ کرتے۔ میں بھی کن انکھیوں سے ان کی جانب دیکھتا اور ان کی باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ میں اپنے کام والی نشست کے ساتھ ہی پارٹیشن وال کے ساتھ اپنی ہی بنائی ہوئی پینٹنگ کا عکس بھی چسپاں رکھتا۔ جو کہ میرے گاﺅں سے نکلتے ہوئے نہر کی جانب جانے والی پگڈنڈی کا ایک خوبصورت منظر تھا۔ جس کے ایک جانب ہری بھری فصل کا کھیت اور دوسری جانب براہمن والا کھوہ اور گرتے پڑتے مندر کی بوسیدہ عمارت کا ہیولا۔ مجھے یہ منظر اپنے گاﺅں اپنی رہتل اور ماضی سے جوڑے رکھتا تھا۔ چوہدری اعتزاز aitzazصاحب میرے آئیڈیل تھے کیونکہ وہ بھی میرے گاﺅں کے سپوت ہیں۔ یہ گاﺅں منگھووال، شہرگجرات سے نکل کر سرگودھا کو جانے والی سڑک پر کنجاہ کے ساتھ ہی واقع ہے۔ چوہدری صاحب کے دادا جناب چوہدری بہاول بخش میرے دادا جی کے اچھے جاننے والے دوستوں میں سے تھے۔
ایک دن چوہدری صاحب جب ہمارے دفتر تشریف لائے ،ان کے ہاتھوں میں مستنصر صاحب کے ترجمہ کئے ہوئے صفحات کا پلندہ تھا اور وہ ان پر بات کرنے والے تھے۔ مستنصر صاحب کہنے لگے آئیے چوہدری صاحب آپ کی ملاقات آج ہم آپ کے ہی گاﺅں کے ایک لڑکے سے کرواتے ہیں۔ وہ انہیں لے کر میری جانب آئے۔ چوہدری صاحب سے میرا تعارف کرایا گیا کہ یہ بھی منگھووال کے جم پال ہیں۔ میرے لئے تو یہ بہت فخر کا مقام تھا لیکن چوہدری صاحب کے چہرے کا رنگ اشتیاق اور محبت سے لبریز نظر آیا۔ انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر میرے ساتھ معانقہ کیا اور گویا ہوئے، ’ واہ مستنصر صاحب آپ نے تو کمال کردیا میرے گاﺅں کو مجھ سے ملا دیا‘۔ میں نے چوہدری صاحب کی توجہ اپنی پینٹنگ کے پرنٹ کی جانب دلائی تو وہ فوراً بولے یار یہی ہے میرا گاﺅں، اور کہنے لگے تمہیں یہ کہاں سے ملا؟ میرے منہ سے نکلا چوہدری صاحب یہ میرا بھی تو گاﺅں ہے۔ چوہدری صاحب نے کہا،اوہو میرا مطلب ہے یہ تو کوئی ہاتھ کی بنی پینٹنگ وغیرہ لگتی ہے۔ مستنصر صاحب بولے ،’پاشا صاحب بہت اچھے آرٹسٹ ہیں اور یہ انہی کا بنایا ہوا شاہکار ہے۔‘
یہ چوہدری صاحب سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی،پھراس کے بعد چل سوچل۔ مستنصر صاحب نے ان کی کتاب کا ترجمہ مکمل کر دیا، اس کا ٹائٹل استاد محترم شبیر حسین صاحب نے اپنی ہنر کاری سے بنایااور بالآخرکتاب چھپ گئی۔ کتاب کی رونمائی لاہور کے بڑے ہوٹل میں رکھی گئی جہاں پر سیاسی و ادبی افق کے ستاروں کا جھرمٹ اور ان میں تقریب کے دولہا جناب چوہدری اعتزاز احسن سٹیج پر براجمان ہوئے۔ تقریب میں جیالوں کی کثیر تعداد موجود تھی اور یوں کہئے کہ ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ تقریب میں کتاب پر بولنے کے لئے ادیبوں اور کالم نویسوں میں مرحوم ارشاد احمد حقانی صاحب بھی تھے جو کہ بقول مستنصر صاحب کتاب سے دوگنی بڑی کتاب اپنے مضمون کی شکل میں لکھ کر
لائے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا مضمون پڑھنا شروع کیا ،لوگوں کا حوصلہ اورجیالوں کا صبر جواب دیتا جا رہا تھا۔ اس موقعے پر مجھے مشہور ادیب،دانشور جناب منشا یاد مرحوم کی فقرہ یاد آ گیا۔ فرماتے تھے، ’میں یہ نہیں دیکھتا کہ کس نے کونسا مضمون پڑھا بلکہ میری نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ کس مضمون نے ہال سے کتنے لوگ اٹھائے۔‘ چنانچہ جب لوگوں نے آوازیں دینا شروع کردیں تو موصوف حقانی صاحب نے چار چار صفحے اکٹھے چھوڑ کر آگے پڑھنا شروع کردیا تاکہ 24985nاپنی آخری بات یعنی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ مگر جیالوں کو حقانی صاحب کی یہ قربانی بھی گوارہ نہ ہوئی اور شور اس قدر بڑھ گیا کہ مضمون نگار کی آواز کانوں پڑی سنائی نہ دیتی تھی۔ مجبوراً اور بادل نخواستہ ان کو اپنا بھاشن بند کر کے سٹیج سے اترنا پڑا۔ حقانی صاحب کے عبرت ناک انجام کے بعد دوسرے آنے والوں نے اپنی عافیت مختصر بات کرنے میں ہی جانی اور تقریب کا اختتام ہوگیا۔
ادبی محفلوں میں چوہدری اعتزاز صاحب کو چاکلیٹ ہیرو جیسی حیثیت حاصل ہے، وہ ان معدودے چند سیاستدانوں میں سے ہیں جن کی شناخت سیاست کے علاوہ ادب اور دانش ہے۔ ان کی گفتگو میں ذہانت اور لہجے میں ملائمت ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے ہیں اور محفلوں کی جان کہلاتے ہیں۔ ان کے شاندار تعلیمی ریکارڈ سے تمام لوگ واقف ہیں اور دنیا کے ٹاپ جینئس لوگوں کی فہرست میں شامل ہونا ان کا ہی نہیں، پورے ملک کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ وہ چیف جسٹس چوہدری افتخار کی بحالی کے سلسلے میں ان کے مدد گار بھی رہے اور پورے ملک میں اس مقصد کیلئے مہم بھی چلائی۔ یہ وہ وقت تھا جب پوری قوم چوہدری اعتزاز احسن کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ انہوں نے پارٹی احکامات کو بھی نظر انداز کرنا شروع کردیا ،حتیٰ کہ بےنظیر جیسی اپنی پارٹی لیڈرکی ٹکٹ لینے سے بھی انکار کر دیا۔ اپنی مقبولیت کی جن بلندیوں پر تھے، اس لمحے یوں محسوس ہوتا تھا کہ چوہدری صاحب اگر بنا ٹکٹ کسی بھی حلقے سے کھڑے ہوجائیں تو مخالفین کی ضمانت ضبط کرا دیں گے۔ دوسری جانب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری پاکستان کی ایسی شخصیت بن گئے جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی انتہائی عروج بھی دیکھا اور اس کے بعد انتہائی زوال بھی۔ رہی سہی کسر ان کی سیاست میں آمد سے پوری ہو جائے گی۔ چوہدری اعتزاز صاحب نے جسٹس کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اوپر احسان کیا۔
124724436اسلام آباد میں رہتے ہوئے کسی نہ کسی ادبی محفل میں ان سے ملاقات ہوجانا کوئی ایسی بڑی بات بھی نہ تھی لیکن چوہدری صاحب مجھے دیکھ کر اپنے پاس بلاتے اور بات چیت کرتے تھے۔ جب انہیں یہ پتہ چلا کہ میں بھی لکھنے سے شغف رکھتا ہوں توپھر وہ میری اور بھی عزت کرنے لگے۔ میں نے ان کو اپنی شاعری کی کتاب پیش کی تو بہت خوش ہوئے۔ کینیڈا آنے سے پہلے میں ان کے اسلام آباد میں ایف ایٹ والے گھراوردفتر میں ملنے گیا تو میرے ساتھ ہماری وزارت تجارت کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر داﺅد مامون بھی تھے۔ چوہدری صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی تصنیف ’سندھ ساگر‘ کا انگریزی نسخہ تحفے میں پیش کیا۔ میں نے چوہدوی صاحب کو بتایا کو میری اب دیارِغیر کو روانگی ہے اورنہ جانے پھر کب ملاقات ہو گی؟ چوہدری صاحب نے فرمائش کی یار پاشا مجھے میرا گاﺅں، مطلب اپنی پینٹنگ دیتے جاﺅ۔ میں نے چوہدری صاحب کی آنکھوں میں دیکھا تو ان کی محبت اور اصرار کے سامنے میرے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہ رہ گئی۔ مجھے اپنی اس پینٹنگ سے واقعی عشق تھا۔اور گذشتہ بیس برس سے میں اس کو اپنے گھر میں آویزاں کئے ہوئے تھا۔میں نے کہا ٹھیک ہے جناب کل حاضر ہوجاﺅں گا، یہ کہہ کر میں ان کے دفتر سے نکل آیا۔گھر آکر اپنی بیگم ثمینہ کو بتایا کہ چوہدری صاحب نے میری محبوب پینٹنگ مانگی ہے۔ بیگم نے کہا، ٹھیک ہے دے دیں۔ پھر دوسرے ہی پینٹنگ کو الوداعی بوسہ دے کر چوہدری صاحب کی خدمت میں پیش کردیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ پینٹنگ، یہ گاﺅں کا خوبصورت منظر اپنے صحیح بیٹے کے پاس پہنچ گیا ہے۔

کچھ بات چوہدری اعتزاز احسن کی ....” پر بصرے

  • Kamal Khan
    جنوری 4, 2016 at 3:27 AM
    Permalink

    lanat hai aise danishwar pr. Jo zardari k chori, corruption or money laundering ko defend krta rahe.

    Reply
    • جنوری 5, 2016 at 6:12 AM
      Permalink

      Zardari sahib ko pathar woh maaray jis ka apna damin saaf ho. Aur us nain zindagi main kabhi koi be-emani na kee ho.

      Reply
  • مارچ 8, 2016 at 5:58 PM
    Permalink

    Intahai-fazool-article-hai-ghareebon-ka-yahi-problem-hai-koi-b-mashoor-admi-in-se-salam-lay-le-sari-dunya-ko-batatay-phirien-gien-k-wo-badha-acha-admi-hai-muje-b-mila-tha

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *