ٹویٹر اور سیاستدان

hajra mumtazہاجرہ ممتاز

تصور کریں، سیاسی مہم ، پاکستانی انداز ۔ ۔۔زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بلند بانگ اور ضرورت سے زیادہ طویل ہوتی ہے۔ روایتی طور پر جو لوگ یہ مہم چلاتے رہے ہیں وہ لمبے سفر کر تے ہیں۔ شامیانے میں لگی ایک سٹیج جس کے سامنے قریب قریب جڑی کرسیاں، خون کو گرما دینے والی تقریریں اور دھاڑتی ہوئی لعنت ملامت!
شاید ہی کسی نے سوچاہوکہ کبھی وہ وقت آئے گا جب بات کرنے کا خواہش مند کوئی سیاستدان نہ صرف یہ کہ بغیر بولے اپنی بات کہے گا بلکہ اسے 140 یا اس سے کم الفاظ کے تحریری پیغام کی شکل میں کہے گا۔
یہ وقت شاید آچکا ہے!
جہاں شہریوں میں سے زیادہ تر نوجوانوں پر فیس بک حکومت کرتی ہے وہاں یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں اور تعلیم یافتہ ہیں، جن میں سیاسی اشرافیہ کے بہت سے ارکان بھی شامل ہیں، وہ ٹویٹر پر منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ شایدمتعدد سیاستدانوں کے ترکش میں سب سے نیا تیر ہے۔
وہ شخصیات کہ جو ٹویٹراستعمال کرتی ہیں،وہ اس عمر یا پس منظر کی حامل ہیں کہ جس میں انٹر نیٹ بات چیت کا ایک مانوس ذریعہ ہے۔پی پی پی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگ کی مریم نواز اکثر ٹویٹر پر بات کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن سیاستدانوں کی جانب سے اس سائٹ کا استعمال، کسی ایک نسل یا جماعت کے ارکان تک محدود نہیں ہے۔
باقاعدگی سے ٹویٹ کرنے والوں میں شامل ہیں: پی پی پی کی شیری رحمٰن، حسین حقانی اوررحمٰن ملک اور تحریکِ انصاف کے اسد عمر۔شیخ رشید احمد اور مشاہد حسین بھی وقتاً فوقتاً ٹویٹر پر پیغامات دیتے رہتے ہیں۔
اس طرح ٹویٹر دراصل کسی حلقے کے لوگوں کووہاں کے سیاستدانوں کے قریب تر ہونے کا احساس دلاتا ہے، جن کی توجہ اور تعلق روزمرہ زندگی کے مختلف معاملات کو باقاعدگی سے چلتارکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ٹویٹر پر مسلسل موجود رہنے والے ایک شخص کی رائے ہے کہ’’تقاریر اور پریس رلیز میں، آپ کو وہ چیز پڑھنے یا سننے کو ملتی ہے جو پہلے سے تیار کی گئی ہوتی ہے۔ تاہم ٹویٹر پر، ہر سیاستدان کو ایک منفرد انداز میں بات کرنا پڑتی ہے۔اور آپ ان کے صفحات کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ کون اپنا اکاؤنٹ خود مینج کر رہا ہے۔
مثال کے طور پر یہاں رحمٰن ملک مسلسل اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔ جبکہ نبیل گبول کے پاس حال ہی میں کہنے کے لئے یہ بات تھی کہ ’’سندھ کو توڑنے کا مطلب پاکستان کو توڑناہے لہٰذا میں ایک محبِ وطن پاکستانی ہوں اور ایسا ہی رہوں گااور کوئی بھی سندھ کو تقسیم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔‘‘
سیاستدان یہ پلیٹ فارم استعمال نہ کر رہے ہوتے۔۔۔ اور ہزاروں لاکھوں لوگ ٹویٹر پر ان کو فولو نہ کر رہے ہوتے۔۔۔ اگر اس کے فوائد نہ ہوتے۔ٹویٹر کے ذریعے عوام کے سیاستدانوں سے رابطے کی کئی مثالیں ہیں۔ ان میں سے ایک مریم نواز کی مثال ہے۔ وہ ان دنوں اکثریوتھ بزنس لون سکیم کے متعلق سوالات کے جواب میں ٹویٹ کرتی رہتی ہیں۔بلاول بھٹو اکثر مختلف موضوعات پر ٹویٹ کرتے رہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا، ’’میں نے ٹویٹر کو بہت مفید پایاکیونکہ اس پر فوری فیڈبیک مل جاتا ہے اورآپ اپنے چاہنے والوں سے براہ راست بات کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا انحصار سیاستدان کی شخصیت پر ہے۔میرے حلقہء انتخاب میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔لیکن بلاشبہ دیہی حلقوں کے ووٹروں کے لئے ٹویٹر کے ذریعے اپنے حلقے کے سیاستدانوں سے رابطہ بہت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹویٹر ووٹروں تک پہنچنے کے روایتی طریقوں کی جگہ لینے کی بجائے صرف پہلے سے موجود طریقوں میں ایک اضافہ ہے۔ ‘‘
گزشتہ چند ہفتوں سے، حتیٰ کہ ٹی وی چینلز بھی ٹویٹر سے فیڈبیک اٹھانے لگے ہیں۔
کمیونکیشن کے ہر نئے واسطے کی طرح،یقیناً ٹویٹر میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آتی چلی جائے گی۔ لیکن اسی دوران پاکستان کے تعلیم یافتہ، انٹرنیٹ کے ذریعے منسلک شہریوں کی ایک بہت بڑی تعدادیوں لگتا ہے کہ یہ انتظار کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتی رہتی ہے کہ دیکھیں کوئی سیاستدان اب کیا کہتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *