ہیپی برتھ ڈے سٹیفن ہاکنگ

 

yasirsahib

 

 

 

 

 

 

قدیم افریقی قبائل کی دیو مالائی کہانیاں خاصی دلچسپ ہیں ، ان میں سے ایک کہانی ان کے خدا ’’بمبا ‘ ‘ سے متعلق ہے ، کہا جاتا ہے کہ جب اس کائنات میں سوائے تاریکی ، پانی اور ’’بمبا ‘ ‘ کے علاوہ کچھ نہیں تھا تو ایک دن اچانک بمبا کو پیٹ میں درد اٹھا اور اس نے سورج کی طرف منہ کرکے قے کردی جس کی وجہ سے سورج نے پانی کے ایک حصے کو خشک کردیا اور یوں وہ حصہ زمین کی صورت اختیار کر گیا ، لیکن بمبا کی تکلیف کم نہ ہوئی اور اس نے پھر قے کر دی ، اس دفعہ قے کے  نتیجے میں چاند ، ستارے اور کچھ جانور پیدا ہو گئے جن میں مگر مچھ ، کچھوا  وغیرہ اور  پھر بالآخر  انسان پیدا ہو گیا۔اسی قسم کے قصے دیگر تہذیبوں میں بھی ملتے ہیں جیسے میکسکو اور وسطی     امریکہ  کی مایہ تہذیب ، ان روایات کے مطابق کائنات میں پہلے فقط سمندر  اوربیکراں آسماں کے سوا کچھ نہیں تھا اور تخلیق کار اس بات سے نا خوش تھا کہ اس کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں سو اس نے زمین تخلیق کی ، پہاڑ بنائے ، درخت اگائے اور چرند پرند (اور بقول شفیق الرحمن درند ) پیدا کئے ،چونکہ جانور بول نہیں سکتے تھے اس لئے اس نے انسان کو پیدا کیا،اور پہلے انسان کو گارے اور مٹی سے بنایا مگر یہ  انسان کوئی عقل کی بات کرنے کے قابل نہیں تھا ، پھر اس نے دوبارہ کوشش کی اور اس مرتبہ انسان کو لکڑی سے بنایا، مگر یہ انسان بھی کسی کام کا نہ بن سکا سو  تخلیق کار نے فیصلہ کیا کہ  اسے بھی ختم کر دیا جائے مگر کسی طرح یہ دو نمبر  انسان جنگلوں میں فرار ہو گئے اور اس راہ فرار میں ان کی جسموں کو کچھ نقصان پہنچاجس   سے  ان میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئیں اور وہ اس نسل کی شکل میں تبدیل ہوگئے جنہیں ہم آجکل بندر وں کے نام سے جانتے ہیں ۔اپنی اس منصوبے کی ناکامی کے  بعد تخلیق کار نے بالآخر ایک نیا فارمولا وضع کیا اور مکئی سے  پہلا مکمل انسان بنانے کے بعد دنیا میں چھوڑ دیا۔

سٹیفن ہاکنگ کے مطابق یہ اور اس قسم کے تمام دیو مالائی قصےدراصل زمانہ    قدیم کے انسان کی اس کوشش کا حصہ ہیں جن میں وہ اس بنیادی سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے کہ یہ کائنات کیوں تخلیق کی گئی  اور  آج جس شکل میں آج یہ کائنات موجود ہے ، ایسا کیوں ہے ؟ہاکنگ کے مطابق ایک بات تو طے ہے کہ یاتو اس کائنات کی تخلیق کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا یا پھر عقل سلیم رکھنے والے انسان کی پیدائش چند ہزار برس سے پہلے کی نہیں ہے ، وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی نسل  نے جس تیزی کے ساتھ علم اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے مراحل طے کئے ہیں ، اگر یہ نسل کروڑوں سال پہلے پیدا ہوئی ہوتی تو آج ہماری سائنسی اور علمی ترقی اس سے کہیں آگے ہوتی جہاں اس وقت ہے ۔نیوٹن کو اس بات کا یقین تھا کہ  ہمارا نظام شمسی جس حیرت انگیز انداز میں اپنا کام کر رہا ہے یہ بد انتظامی پر مبنی چند قوانین قدرت کا شاخسانہ نہیں ہو سکتا ، اس کا خیال تھا کہ کائنات میں جو نظم ہے وہ خدا کا پیدا کردہ ہے   اوریہ  کائناتی تقویم روز اول کی طرح اب بھی ویسی ہی  ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سٹیفن ہاکنگ اس نظریئے کو رد بھی کرتا ہے مگر ساتھ ہی اس بات کا اعتراف بھی کرتا ہے کہ نظام شمسی کے متعلق نیوٹن کا مشاہدہ درست ہے ، خود ہاکنگ کے الفاظ میں : ’ ’ یہ سمجھنا آسان ہے کہ کوئی (نیوٹن ) ایسا کیوں سوچتا ہے ۔بظاہر نا ممکن لگنے والے اتفاقات جو ہماری تخلیق کا باعث بنے اور  جن کی وجہ سے   یہ دنیا ہمیں  انسان دوست  شکل میں نظر آتی ہے ، ان  نا ممکن اتفاقات پر  یقین کرنا اس صورت میں مشکل ہوتا اگر اس کائنات میں صرف ہمارا نظام شمسی ہی ایسا ہوتا جیسا وہ ہے ۔ ‘ ‘ سادہ الفاظ میں ہاکنگ کا مطلب ہے کہ یہ درست ہے کہ ہمارا نظام شمسی ، جس میں ایک سورج اور ’’خوش قسمتی ‘ ‘ سے  اس کا زمین سے مخصوس فاصلہ   جس کی وجہ سے کوئی ایسی انہونی بات نہیں کیونکہ کائنات میں ایسے بے تحاشہ سیارے ہیں جو سورج جیسے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں ۔گو کہ سائنسی اعتبار سے  یہ بات درست ہے مگر خود سٹیفن ہاکنگ  اس بات کا بھی  اعتراف ہے کہ’’  یوں لگتا ہے جیسے ہماری کائنات اور اس کے قوانین ہماری ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں تاکہ اس سے ہمیں مدد مل سکے اور اگر انسانی زندگی  کو پنپنا ہے تو ان  قوانین  میں تبدیلی کی گنجائش  نہیں ہو سکتی  ، یہ بات آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں اور یہ معمہ اس بنیادی سوا ل کو جنم دیتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ! ‘ ‘  ارسطو اس جیسے کئی فلاسفہ نے کائنات کی تخلیق کے سوال سے  یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ کائنات ہمیشہ سے ہی وجود میں تھی ۔

زمین کے انسان دوست ہونے کی ایک مثال دیتے ہوئے  سٹیفن ہاکنگ بتاتا ہے کہ سرما میں قطب شمالی کا سرا سورج سے پرے ہو جاتا ہے  ، اس موقع پر زمین کا سورج سے فاصلہ 91.5ملین میل رہ جاتا ہے جبکہ جولائی میں یہی فاصلہ 94.5 ملین میل ہو تا ہے، مگر  لاکھوں میل کے اس فاصلے کے فرق کے باوجود زمین پر درجہ حرات میں  معمولی فرق پڑتا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ  سیارے کی یہی جنبش  مشتری میں درجہ حرات میں دو سو فارن ہائٹ کا فرق ڈال دیتی ہے ۔اگر ہماری زمین کی روش بھی مشتری جیسی ہوتی تو  گرمیوں میں ہمارے سمندر بھاپ بن کر اڑ جاتے اور سردیوں میں برف بن جاتے ،اس بات کو سٹیفن ہاکنگ ہمارے سیارے کی ’ ’ خوش قسمتی ‘ ‘ پر محمول کرتا ہے ۔ہاکنگ کا کہنا ہے کہ ہم اس لئے بھی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے سورج کے حجم اور ہماری زمین کے  فاصلہ میں ایک  خاص ہم آہنگی ہے ، اگر ہمارے سورج کا حجم  بیس فیصد بھی کم یا زیادہ ہوتا جتنا اس وقت ہے ، تو  زمین موجودہ مریخ سے بھی یخ بستہ ہوتی یا پھر زہرہ سے بھی گرم ہوتی ، اور کم از کم ہم اس میں زندہ نہ ہوتے ۔

سٹیفن ہاکنگ جس طرح بار بار زمین یاکائنات کے ضمن میں وجود آئے ہوئے  قوانین کو خوش قسمتی سے تعبیر کرتا ہے اس پر کم ازکم مجھے حیرت نہیں ہوتی  کیونکہ ہاکنگ کی اپنی زندگی بھی ایسی ہے جنہیں ناقابل یقین اتفاقات کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے ۔ ایک ایسا شخص  جوموٹر نیورون کی بیماری میں مبتلا ہو ، اس کی معذوری کے باعث اسے بولنے کے لئے ایک مشین کی مدد درکار ہواور جسے اکیس برس کی عمر میں ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہو کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو برس اور زندہ رہ سکتا ہے  ، وہ اگر اس صدی کا سب سے بڑا ماہر طبیعات  بن کر کائنات کی تخلیق سے متعلق اپنی تحقیق سے دنیا کو ہلا سکتا ہے اور آج تہتر برس کی عمر میں بھی اپنی سالگرہ منا سکتا ہے (دو دن پہلے ۸ جنوری کو ہاکنگ کی سالگرہ تھی ) تو ایسے شخص کو خوش قسمت ہی سمجھنا چاہیے ۔جس طرح خدا کے ہاتھوں اس کائنات کا ظہور ایک معجزہ ہے اسی طرح  سٹیفن ہاکنگ  کی  اپنی زندگی اور اس کا کام کسی معجزے سے کم نہیں ، یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ایک ایسا شخص جس کو سائنس کی رو سے اکیس برس کی عمر میں مر جانا چاہئے تھا نہ صرف اتہتر برس کی عمر میں زندہ ہے بلکہ دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ کائنات کے وجود کا جواب صرف سائنس ہی دے سکتی ہے ۔سٹیفن ہاکنگ کا اپنا وجود ایک ایسا سوال ہے جس کا فی الحال سائنس کے پاس جواب نہیں ، یہ کائنات تو ابھی نا تمام ہے شائد ! ہیپی برتھ ڈے سٹیفن ہاکنگ!

 

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *