ہوا میں اڑتے پتے (7)

mirza

اس زمانے میں جب یہاں دنیا سے مختلف سیاسی و معاشی نظام تھا تب اس ملک کے سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کو گرمیوں کی تعطیلات کے دوران استراحت کی خاطر بہت ہی معمولی رقم کے عوض ساحل سمندر پر بھیجا جاتا تھا۔ ویسے بھی اس زمانے میں طالب علموں کے لیے ہوائی سفر کے کرائے بہت ہی کم ہوا کرتے تھے مثلا" دارالحکومت سے اس ملک کے مشرق بعید کے آخری بڑے شہر تک کا ہوائی سفر بارہ گھنٹے کا ہے اس کے مقابلے میں نیویارک تک ہوائی جہاز ساڑھے دس گھنٹوں میں پہنچ جاتا ہے۔ طلباء کو اپنے ملک کے اندر اس بارہ گھنٹے کے سفر کے دوطرفہ ٹکٹ، ایک ہفتے کی رہائش، غذا اور تمام تر تفریحی اسفار کے لیے کل تیس روبل دینے ہوتے تھے جبکہ ہر طالب علم کو حکومت ہر ماہ ساٹھ روبل وظیفے کی شکل میں دیا کرتی تھی۔ ہوسٹل میں رہائش، ہر ہفتے بستر کے لیے دھلی ہوئی چادریں اور دوسری سہولتیں ویسے ہی بلا معاوضہ ہوتی تھیں۔
بحر اسود کے کنارے اکثر یونیورسٹیوں کے اپنے اپنے تفریح گھر تھے جن میں تین تین ہفتوں کی استراحت کی خاطر آئے ہوئے طلباء و طالبات کو رہائش فراہم کی جاتی تھی۔ حسام کسی نہ کسی طریقے سے طغرل کے لیے بھی بحیرہ اسود کے کنارے واقع اپنی یونیورسٹی کے تفریح گھر جسے "پینسیونات" کہا جاتا ہے، میں رہائش اور ان ایام میں طعام کے کوپن لے آیا تھا مگر طغرل ان کے ہمراہ ہوائی جہاز کا سفر نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ایک تو اس کے ویزے پر اس شہر کا نام درج نہیں تھا جہاں اس طیارے کو اترنا تھا دوسرے ان دنوں نہ صرف طیاروں بلکہ ہوٹلوں اور عجائب گھروں کے ٹکٹ بھی مقامی لوگوں کی نسبت غیر ملکیوں کے لیے کئی گنا مہنگے ہوا کرتے تھے۔

حسام نے طے کیا تھا کہ وہ اور نتاشا تو ظاہر ہے طیارے کے ذریعے چلے جائیں گے پر اپنی روانگی سے دو روز پہلےطغرل کو اس مقام تک جانے والی ریل گاڑی میں سوار کرا کے کسی ہمسفر مسافر سے اس کی دیکھ بھال کرنے کی درخواست کر لے گا۔ چونکہ طغرل کا ریل کا سفر ان کے پہنچنے کے بعد ہی تمام ہوگا چناچہ وہ اس شہر کے ریلوے سٹیشن پر آ کر اسے لے لے گا اور اپنے ساتھ تفریح گھر لے جائے گا۔

طغرل کی ریل گاڑی کے ذریعے روانگی سے چند روز پہلے حسام نے زیر زمین ریل گاڑیوں میں اس کی ہمرہی کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس طرح اس نے اسے شہر میں اپنے طور پر گھومنے پھرنے کا عادی کرکے بہت دور کے دوسرے شہر تک اکیلے سفر کرنے کی خاطر تیار کرنے کی ترکیب آزمائی تھی۔ اس ملک میں زیر زمین ریلوے کے نظام کو "میترو" کہا جاتا ہے۔ شاید یہ دنیا میں زیر زمین ریلوے کا سب سے اچھا نظام ہے۔ بعض ریلوے سٹیشن بہت زیادہ گہرائی میں واقع ہیں۔ اترنے اور چڑھنے کی خاطر کود کار زینے ہیں جو صبح ساڑھے پانچ سے رات ایک بجے تک مسلسل گردش میں رہتے ہیں۔ سٹیشن بہت بڑے بڑے، بے حد صاف، پوری طرح ہوا دارا اور انتہائی روشن ہیں۔ دیواریں اور چھتیں موزائیک میورلز، پینٹنگز اور مجسموں سے مزیں ہیں۔ ریل گاڑیوں کی آمد و رفت میں تیس سیکنڈ سے ڈیڑھ منٹ تک کا وقفہ ہوتا ہے جو مسافروں کی تعداد کے زیادہ اور کم ہونے کے ساتھ مربوط ہے۔ اس نظام کا نقشہ اس قدر آسان ہے کہ بچہ بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ ایک سرکلر سسٹم ہے یعنی گولائی میں اور ایک ریڈیل لائنوں کا سسٹم یعنی ریڈیئل۔ گاڑیاں سٹیشن کے ایک جانب سے آتی ہیں تو جاتی دوسری جانب سے ہیں۔ ریل گاڑیوں کے دروازے خود کار ہیں۔ آج تو ہر چیز کی طرح یہ نظام بھی بدلا ہوا ہے لیکن تب گاڑیوں کے اندر چسپاں کیے گئے نقشوں مین سٹیشنوں کے نام انگریزی حروف میں درج نہیں کیے جاتے تھے اور ڈبوں میں کسی قسم کا کوئی اشتہار نہیں ہوا کرتا تھا جن کی آج بھرمار ہے۔ انگریزی زبان تب بہت ہی کم لوگوں کو آتی تھی لیکن ان لوگوں کا کمال یہ ہے کہ وہ آپ کی انتہائی غلط اور ٹوکویں لفطوں میں بولی ہوئی اپنی زبان کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں۔ طغرل کو شروع میں حروف تہجی سمجھنے میں دشواری ہوئی تھی کیونکہ خ یا ہ کے لیے انگریزی کے حرف ایکس جیسا حرف تھا، ایک حرف یا بھی ہے جس کے لیے حرف ایسے تھا جیسے انگریزی کا حرف آر الٹا لکھا ہوا ہو، این کے لیے انگریزی کا حرف ایچ اور ای کے لیے انگریزی کا حرف این جیسے الٹا لکھا ہوا۔ دو ایک حرف تو بالکل ہی مختلف تھے۔ ایک ریڈیئل راستے سے دوسرے ریڈیئل راستے کو اختیار کیے جانے کی خاطر زیر زمین راہداریوں سے گذر کر، جو بعض مقامات پر خاصی طویل ہیں، سرکلر لائن کی گاڑی پر سوار ہو کر مطلوبہ ریڈیئل لائن سے منسلک ریلوے سٹیشن پر اتر کے پھر سے ایک اور راہداری کو عبور کرنے کے دوران طغرل کو ایک دو بار کسی کی مدد مانگنی پری تھی مگر چند روز میں ہی بغیر کسی کی مدد لیے کم از کم شہر کے مرکز اور وہاں سے واپس ہوسٹل آنے جانے لگا تھا۔

پھر ایک روز حسام نے طغرل کو کھانے پینے کا سامان خرید کر دیا تھا۔ اس کے لیے بحیرہ اسود کے تفریحی شہر تک کا ٹکٹ حسام پہلے ہی خرید چکا تھا۔ دن کے دس بجے اس نے اور نتاشا نے اسے ایک ریلوے ستیشن سے، جی ہاں اس شہر میں نہ صرف آٹھ ریلوے سٹیشن بلکہ ہوائی اڈے بھی چار بلکہ پانچ ہیں، ریل گاڑی کے "پلس کارت" ڈبے میں سوار کرا دیا تھا۔ اس نے ڈبہ بان خاتون کو بھی اس کا خیال رکھنے کی خاطر کوئی تحفہ دیا تھا اور طغرل کی نشست کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی ایک شفیق سی طرحدار خوبصورت خاتون کو بھی راستے میں اس کا خیال رکھنے کی درخواست کی تھی۔ یوں اس ملک میں طغرل کا پہلا اپنے طور پر ریل گاڑی کا طویل سفر شروع ہوا تھا۔ گاڑی کو چھتیس گھنٹے کے سفر کے بعد مطلوبہ شہر پہنچنا تھا۔

طغرل کو وہ زبان نہیں آتی تھی جو باقی مسافر بولتے تھے اور ان میں سے کسی کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ طغرل پھر بھی اس خاتون کے ساتھ ایک انجان زبان میں باتیں کر رہا تھا یعنی اشاروں اور کچھ لفظوں پر مشتمل زبان میں۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد ظہرانے کا وقت ہو گیا تھا۔ شفیق خاتون نے میز پر اخبار بچھا کر اس پر کھانے کی چیزیں چن دی تھیں۔ طغرل نے بھی اپنے کھانے کا سامان کھول کر رکھ دیا تھا اور وہ پیٹ بھرنے لگے تھے۔ اس خاتون نے ایک کھولے ہوئے ٹن سے گوشت کا قتلہ لینے کے لیے طغرل کو اشارہ کیا تھا۔ اس نے ڈبے پر لکھی انجان زبان پڑھنے کی کوشش کی تھی پر کچھ سمجھ نہیں سکا تھا البتہ ڈبے پر بنی بارہ سنگھے کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھ کر اس نے سوچا تھا کہ شاید ہرن یا بارہ سنگھے کا گوشت ہو چنانچہ اس نے ایک چھوٹا سا قتلہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا تھا۔ بعد مین دل نہیں مانا تھا اس لیے مزید نہیں کھایا تھا۔ عورت نے دونوں پاتھون سے سر پر سینگ بنا کر اور گائے کی آواز نکال کر بتایا تھا کہ بیف ہے، مگر طغرل نے ہاتھ کھینچے رکھا تھا۔ خاتون نے کہا تھا،" ہاں مسلمان ہو احتیاط کرتے ہو، شاید خنزیر سمجھ رہے ہو اس لیے نہیں کھاتے" طغرل نے اندازہ ہی لگایا تھا کہ اس نے ایسا کہا ہوگا۔ وہ ان دوں خود کو لامذہب سمجھتا تھا، اس لیے اس نے اسے سمجھانا چاہا تھا کہ مذہب مسئلہ نہیں بات کچھ اور ہے۔ چنانچہ اس نے اشاروں اور ٹوکویں لفظوں میں پوچھا تھا کہ کیا آپ "میاؤں میاؤں" یعنی بلی کا گوشت کھائیں گی؟ اس عورت کا منہ بن گیا تھا جیسے کہہ رہی ہو ،"توبہ توبہ، میں بھلا بلی کا گوشت کیوں کھاؤں"۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا تھا کہ آپ کیوں نہیں کھاتیں؟ عورت کا جواب تھا کہ اس کا کلچر یعنی ثقافت ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔ طغرل نے آنکھیں پھیلا کر اور ہاتھ کا اشارہ کرکے بتایا تھا کہ مادام میرا کلچر بھی لحم خنزیر کھانے سے منع کرتا ہے۔

سامنے والی نشست پر ایک لمبی لمبی ٹانگوں والی پیاری سی نوجوان لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس نے جانگیے کے اوپر بس ایک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ طغرل کو وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ اس نے ریل گاڑی کے ریستوران کمپارٹمنٹ میں جا کر کونیاک کے دو جام چڑھائے تھےاور اپنے ڈبے میں لوٹ کر اس لڑکی کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور سمجھا جانے والا فقرہ "آئی لو یو" کہا تھا۔ لڑکی سن کرخوش ہوئی چنانچہ ہنسنے لگی تھی مگربعد میں طغرل کے بولے جانے والے انگریزی فقروں کو سمجھنے سے بیچاری نابلد تھی۔ طغرل کو اس کی زبان نہیں آتی تھی تو وہ کیا کہتا۔ جب کونیاک کا نشہ اتر گیا تو اس نے جا کر پھر دو جام پیے تھے اور آ کر وہی فقرہ دہرا دیا تھا پھر خاموش ہو گیا تھا۔ جب ایک بار پھر کونیاک کا سہارا لے کر اس نے تیسری مرتبہ یہ فقرہ کہا تو لڑکی ڈھونڈ ڈھانڈ کر تھوڑی بہت انگریزی جاننے والے شخص کو لے کر آئی تھی جس نے طغرل سے پوچھا تھا کہ آپ اس سے " آئی لو یو" کہتے ہیں، پھر گھنٹے بھر خاموش رہنے کے بعد کہیں چلے جاتے ہیں اور آ کر یہی فقرہ دہرا دیتے ہیں، آخر اس یک فقرہ کلام اور پھر طویل خاموشی کا سبب کیا ہے؟ طغرل بھلا اسے کیا بتاتا ، اس نے صرف اتنا کہا تھا:

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

اس بے ڈھنگے مترجم نے طغرل کو یہ بتانے سے شاید احتراز کیا تھا کہ لمس کی بھی بالآخر ایک زبان ہوتی ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کا تذکرہ کر بھی دیتا تب بھی طغرل میں اس قدر جرات رندانہ نہیں تھی کہ لمس کا استعمال کرتا۔ وہ بیچارا تو یہ بے ضرر فقرہ کہنے کے لیے بھی کڑوے پانی کا سہارا لے رہا تھا۔ بصورت دیگر سفر کو رنگین کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی۔

رات ہو گئی تھی، سب سو گئے تھے۔ طغرل کروٹیں بدلتا رہا تھا، لڑکی سامنے والی برتھ پر محو خواب تھی۔ چادر تلے سے اس کے جسم کے نشیب و فراز پھدک کر باہر آتے ہوئے لگتے تھے۔ آخر نیند نے طغرل کو بھی آن لیا تھا۔ اگلے روز سہ پہر کے وقت گاڑی کہیں رک گئی تھی اور پھر رکی رہی تھی۔ لوگ ریل گاڑی سے نیچے اتر کر باہر ٹہلنے اور باتیں کرنے لگے تھے۔ ان کے انداز اور لہجے سے لگتا تھا جیسے وہ پریشان ہیں۔ کچھ جھنجھلائے ہوئے بھی لگ رہے تھے۔ طغرل اشاروں کی زبان میں پوچھنے کی کوشش کرتا بھی تو کیسے؟ بہر حال ہاتھ کے اشاروں اور لفظ "شتو" یعنی "کیا؟" سے کام چلانے کی کوشش کی تھی۔ جس سے بھی پوچھا اس نے "نی زنایو" ہی کہا تھا یعنی اسے علم نہیں۔ کوئی چار گھنٹے بیت جانے کے بعد، اس ویران مقام پر بچھی ہوئی پٹریوں میں سے ایک پٹڑی پر کوئی دوسری ریل گاڑی آ کر رکی تھی۔ لوگ اپنا اپنا سامان اٹھا کر اس گاڑی میں منتقل ہونے لگے تھے۔ طغرل نے بھی شفیق ساتھی خاتون کے اشارہ کرنے پر اپنا بیگ اٹھایا تھا اور اس کے ہمراہ جا کر دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ آہستہ آہستہ سب مسافروں نے اپنی اپنی نشستیں سنبھال لی تھیں ۔ سب پرتشویش تھے۔ پھر کہیں جا کر معلوم ہوا تھا کہ قفقاز کے پہاڑوں میں شدید بارشیں ہونے کی وجہ سے ہوئی تباہی کے باعث ریل کی وہ پٹڑی بہہ گئی تھی جس پر ان کی ریل گاڑی کو جانا تھا۔ اس کی مرمت میں بہت وقت لگے گا اس لیے متبادل راستے سے انہیں منزل مقصود پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جب ان کی گاڑی پہاڑی علاقے میں پہنچی تو ان پر تباہی کے نشان واضح ہونے لگے تھے۔ بہہ کر آئے ہوئے درخت، بارشوں کے ریلے سے بننے والے عارضی ندی نالے، جھاڑ جھنکار۔ لگتا تھا کہ بارشیں بہت ہی طوفانی اور تند تھیں۔ اس پریشانی کے باوجود نگاہیں تھیں کہ قدرتی مناظر سے ہٹ کے نہیں دے رہی تھیں۔ پہاڑوں کی ڈھلانوں پر دیودار، چیڑ اور سرو کے درخت یوں ساکت کھڑے تھے جیسے عذاب الٰہی سے خوفزدہ ہوگئے ہوں۔ پھر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ اونچائی پر بنی ہوئی ریل کی پٹڑی پر سفر شروع ہو گیا تھا۔ اب بحر اسود کا لہریں اچھالتا ہوا نیلگوں پانی اور اس کی سطح پر سورج کی کرنوں کے باعث بنتے ہوئے چمکدارا جھلملاتے ہوئے ان گنت تارے دل کو لبھا رہے تھے۔ چھتیس گھنٹوں کا سفر اڑتالیس گھنٹوں پر محیط ہو چکا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *