کیا آپ اپنا سر تبدیل کروانا چاہتے ہیں؟

 

gul

رپورٹ دلچسپ بھی ہے اور پریشان کردینے والی بھی۔1959 میں ایک چینی سائنسدان نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو مرتبہ ایک کتے کا سر‘ دوسرے کتے کے جسم سے کامیابی سے جوڑا ہے۔’’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘‘ کا یہ تجربہ ایک ڈاکٹر رابرٹ وائٹ چوہوں اور بندروں پر بھی کر چکے ہیں۔اب ڈاکٹر سرجیوکیناویرو کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلدانسانی ہیڈ ٹرانسپلانٹ کو ممکن بنانے والے ہیں۔یعنی ایک انسان کا سردوسرے انسان کو لگایا جاسکے گا۔اس مقصد کے لیے دو اجسام درکار ہوں گے‘ ایک وصول کنندہ کا اور ایک ڈونر کا‘ انہیں ایک خاص درجہ حرارت پر ٹھنڈا کیا جائے گا جس کے بعد ماہر سرجن دونوں اجسام کے سر کاٹ کر ڈونر کا سر‘ وصول کنندہ کے جسم پر رکھ کر’’سوسوجین‘‘ کی مدد سے اسے ریڑھ کی ہڈی سے جوڑ دے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس محیرالعقول کام میں 80 فیصد کامیابی ہوچکی ہے ‘ باقی 20 فیصد کے لیے تجربات جاری ہیں۔گویا کچھ عرصے تک شکیل کے سر پر جمیل کا سر نصب ہوگا۔رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف سر تبدیل ہوگا‘ ذہن وہی رہے گا اور جس طرح لوگ مرنے سے پہلے اپنے اعضاء عطیہ کر دیتے ہیں اسی طرح جو لوگ اپنا سر عطیہ کریں گے مرنے کے بعد ان کا سر اتار کر کسی مستحق کو جڑ دیا جائے گا اورمرے ہوئے سر کا مردہ دماغ نکال کر اس میں زندہ شخص کا دماغ فٹ کر کے اسے ’’اپ گریڈ‘‘ کر دیا جائے گا۔ابھی تک اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا مرد کا سر کسی عورت کو ‘ یا کسی عورت کا سر کسی مرد کو بھی لگ سکے گا؟سائنسدانوں سے کوئی بعید نہیں‘ پتا چلے کہ پنکی کے دھڑ پر کسی صوفی کا سر لگا ہوا ہے اور اب پنکی کو ’’خطوط‘‘ کی بجائے ’’خط‘‘ بنوانے کی زیادہ فکر رہتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ صوفی کے دھڑ پر پنکی کا سر رکھ دیا جائے اور صوفی صاحب سر پردوپٹہ لیے چھوٹے بھائی کی انگلی پکڑے پیکو کروانے جارہے ہوں۔ایسا ہوگیا تو کوئی بھی کسی کا ’’ہم سر‘‘ بن سکے گا۔
تاریخ شاہد ہے کہ سائنس کی کوئی بھی ایجاد شروع شروع میں انتہائی مشکل ‘ پھر بہت آسان ہوجاتی ہے‘ کچھ پتا نہیں کہ بیس تیس سال بعدایسے مصنوعی سر بھی مارکیٹ میں آجائیں جو خود سے بھی لگائے اور اتارے جاسکیں‘ پتا نہیں ایسی صورت میں ہمارے اپنے سر کیسے دھڑ سے اتریں گے؟ میرا خیال ہے اس پر ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں‘ سائنسدان ہیں ناں۔۔۔کوئی نہ کوئی ’’فوٹو شاپ‘‘ ٹائپ حل نکال ہی لیں گے۔سر اتارنا اور لگانا آسان ہوگیا تو میڈیکل سٹورز پر نئے ماڈل کے ’’سر‘‘ بھی دستیا ب ہوں گے‘ عین ممکن ہے لوگ لنچ اور ڈنر پارٹیز میں جانے کے لیے مختلف سر استعمال کریں‘ گھروں میں شادی بیاہ پر آنے جانے کے لیے الماری میں ایک صاف ستھراسر علیحدہ سے رکھا ہوا ہو۔محض اِس ایک ایجاد کی وجہ سے گفتگو بھی معنی خیز ہوجائے گی۔ہوسکتاہے شوہر’’پروفیشنل سر‘‘ سجا کے دفتر جانے لگے تو بیوی اس کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھما دے‘ شوہر پوچھے ‘ اس میں کیا ہے؟ جواب ملے۔۔۔’ ’تمہارا سر‘‘۔
پھر پلاسٹک کے سر بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی وجود میں آجائیں گی جوبھاری معاوضے پر معروف لوگوں کی شکلوں والے مصنوعی سر بنایا کریں گی۔چائنا کے سر بھی عام ہوجائیں گے ۔گھر گھر میں ڈیڑھ من کی کترینہ اور بڑی توند والاسلمان خان نظر آئے گا۔کترینہ ‘ سلمان سے کہہ رہی ہوگی’’وے مجھے ناف پڑی ہوئی ہے نہ تنگ کر‘‘۔۔۔ہمسائے میں سوناکشی ‘عامر خان کی دھوتی کو سوئی دھاگے سے ’’تروپا‘‘ لگا رہی ہوگی۔ویگن میں پندرہ بیس سنجے دت بیٹھے ہوں گے اور سنی دیول ان سے کرایہ وصول کر رہا ہوگا۔گھر کی چھت پر دھوپ میں کرینہ کپوراور دپیکا باریک کنگھی سے ایک دوسرے کی جوئیں نکال رہی ہوں گی۔رنبیر کپور ایزی لوڈ کر رہا ہوگا۔رانی مکھرجی چنگ چی رکشے پر اجے دیوگن کے ساتھ بیٹھی چھلی کھا رہی ہوگی اور شاہ رخ نلکے ٹھیک کر رہا ہوگا۔
پھر کوئی چہرہ بدصورت نہیں نظر آئے گا‘ رنگ گورا کرنے والی کریمیں بھی ختم ہوجائیں گی‘ لوگ ایک دوسرے کاسر بھی اُدھار مانگ لیا کریں گے‘ چونکہ سر بہت زیادہ استعمال ہونا شروع ہوجائیں گے لہذا ان میں خرابیاں بھی پیداہونے لگیں گی‘ پھر گلی گلی اِن سروں کے مکینک بھی بیٹھنا شروع کر دیں گے۔گلے سڑے سر کباڑیے کو بیچ دیے جائیں گے‘ عید پر لوگ نئے کپڑوں کے ساتھ ساتھ نئے سر بھی خریدا کریں گے۔سیاستدانوں کے سربھی دستیاب ہوں گے۔۔۔بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ سیاستدانوں کے سروں کی بھاری’’قیمت‘‘ لگے گی۔ہر ایم پی اے‘ایم این اے اور سیاسی ورکر اپنی پارٹی کے لیڈر کا سر لگوانا پسند کرے گا‘ ایسا ہوا تو سیاسی جلسے دیکھنے والے ہوں گے‘ عمران خان خطاب کررہے ہوں گے‘ عمران خان ہی کمپئرنگ کر رہے ہوں گے اور سامنے ہزاروں عمران خان نعرے بھی لگا رہے ہوں گے۔ن لیگ کے جلسے میں نواز شریف بیک وقت واک تھرو گیٹ پر لوگوں کو چیک بھی کر رہے ہوں گے‘ سٹیج پر بھی موجود ہوں گے اور بھنگڑے بھی ڈال رہے ہوں گے۔
سروں کا یہ تجربہ کامیاب رہا تو ہر کسی کو شادی کے لیے اپنی پسند کا چہرہ مل جائے گا۔تب لوگ شادی کے لیے عجیب و غریب ڈیمانڈز کیا کریں گے‘ لڑکی کے گھر والے کہیں گے کہ ہمیں پہلے لڑکے کا اصلی سر دکھایا جائے‘ لڑکے والے بہانہ بنائیں گے کہ لڑکے کا سر اِس کا کزن لے کر گیا تھا‘ ابھی تک واپس نہیں دیا۔ پھر تھانوں میں سروں کی گمشدگی کی رپورٹس بھی درج ہوا کریں گی‘ پولیس چھاپے کے دوران جتنے بھی سر ہاتھ لگیں گے انہیں سرکاری مال خانے میں جمع کرادیا جائے گا‘ لوگوں کو اپنا اصلی سر عدالت سے ’’سپرداری‘‘ پر ملا کرے گا۔شناختی کارڈ بے معنی ہوکر رہ جائے گا‘ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت ہر سر کو موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کی طرح ایک نمبر الاٹ کر دے اور اصلی انسان کی پہچان اسی نمبر سے ہو‘ تصور کریں کہ آپ سڑک پر جارہے ہیں ‘ اچانک فٹ پاتھ پر نظر پڑتی ہے اور آپ چونک کر رک جاتے ہیں کیونکہ ’’ٹام کروز‘‘ LXF 4596 چاول چھولے کھا رہا ہے‘ آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ تو آپ کا دوست ارشد جگنو ہے۔۔۔!!!
سر بھی ایک انسانی عضو ہے‘ جہاں میڈیکل سائنس نے ٹانگ‘ ہاتھ‘ دل ‘ گردہ اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کی صلاحیت حاصل کرلی ہے وہاں
ہیڈ ٹرانسپلانٹ کرنا بھی ناممکن نہیں۔یہ سلسلہ چل نکلا تو آئی فون کی طرح ’’آئی ہیڈ‘‘ بھی مارکیٹ میں آجائیں گے‘ پھر کوئی عاشق کسی لڑکی کوجھوٹ موٹ یہ نہیں کہے گا کہ تم تو بالکل ودیا بالن لگتی ہو کیونکہ لڑکی واقعی ودیا بالن کی ڈٹو کاپی ہوگی۔البتہ اس سارے عمل میں خطرناک امکان یہ بھی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا ہم شکل سر لگا کر ناجائز فائدہ نہ اٹھانا شروع کر دیں‘ ایسا ہوا تومیاں بیوی آپس میں کوئی ’’پاس ورڈ‘‘ طے کرکے سلام دعا لیا کریں گے۔میں نے جب سے یہ رپورٹ پڑھی ہے‘ حسرت سے سوچ رہا ہوں کہ دنیا سر لگانے کا پلان بنا رہی ہے اور ہم سر اتارنے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔یہ جو روز ہمارے ہاں سر اُتارے جارہے ہیں کیا یہ بھی واپس لگ سکیں گے؟کیا یہ کٹے ہوئے سر اپنے ہی دھڑ پہ دوبارہ سج سکیں گے یا اِن کی قسمت میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں فٹ بال بننا ہی لکھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *