کیسا ہونا چاہئے 2016 (آخری حصہ)

asghar khan askari

انتخا بات جمہو ریت کی روح ہے ۔پا کستان میں جب بھی انتخابات ہو ئے ہیں۔چا ہئے وہ جمہوری اور منتخب حکمرانوں نے کر ائے ہوں یا فوجی آمروں نے، جو جیت جا تے ہیں وہ الیکشن کو صاف اور شفاف قرار دیتے ہیں جبکہ ہا ر نے والے دھاند لی کا شور مچا تے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ 2016 کو انتخا بی اصلا حا ت کا سال قرار دیا جا ئے۔اس کے ساتھ جو بھی سیاسی جما عت حزب اختلاف میں ہو تو وہ حکومت کو کفا یت شعاری کا درس دیتی ہے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ خود کفایت شعاری کو بھول جا تے ہیں پھر وہی سبق سا بق حکمران جماعت پڑ ھا نے کے لئے بیٹھ جا تی ہے حا لا نکہ اقتدار میں ہو تے وقت وہ کفا یت شعاری یا حکو متی اخراجات میں کمی کا نام سننا بھی پسند نہیں کر تے۔ہم پہلے انتخا بی اصلا حا ت کا تذکر ہ کر تے ہیں۔جس کے لئے وزیر اعظم نو از شریف نے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنا ئی ہے لیکن کمیٹی کے کام کی رفتار کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ مو جودہ دورحکومت میں انتخا بی اصلا حا ت ایک خواب ہی ہے۔یا ہو سکتا ہے کہ انتخا بات سے چند مہینے پہلے کچھ متنا زعہ امور کو انتخا بی اصلا حا ت کا نام دے کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کر ائیں۔انتخا بی اصلا حات میں سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اسی سال جو ن کے مہینے میں الیکشن کمیشن کی تشکیل آئین کے مطا بق کی جا ئے کیو نکہ الیکشن کمیشن کی ارکان کی مدت ملا زت جو ن2016 یعنی اسی سال ختم ہو رہی ہے۔2018 کے عام انتخابات ہر صورت با ئیو میٹرک نظام کے ذریعے کر نے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔عام انتخا بات مر حلہ وار ہو نے چا ہئے۔انتخا بی نتا ئج کا اعلان ایک ساتھ الیکشن کمیشن کر یں۔قومی اسمبلی کی مدت 4 سال کر دی جا ئے۔وزیراعظم کا انتخاب بر اہ راست ہو نا چا ہئے یعنی وہ ایک حلقے سے نہیں بلکہ پورے ملک کی جمہور سے منتخب ہو نے کے لئے ووٹ لیں۔کسی کو بھی دو سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑ نے پرپا بند ی لگا ئی جا ئے۔کا غذات نا مز دگی کی جانچ پڑتال کے لئے مجاز افسر کو کم از کم 20 دن دئیے جا ئیں۔ تاکہ وہ قا نون کے مطابق کا غذات نا مزگی کی جا نچ پڑتا ل کر سکے۔اگر اس کے با وجود متعلقہ افسر کو تا ہی کا مر تکب ہو جا تا ہے تو اس کو قانون کے مطا بق سزا دی جا ئے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں خواتین اور اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں کو ختم کیا جا ئے۔اس لئے کہ پا کستان میں سیاسی جما عتیں انتخا بات میں حصہ لیتی ہے ۔ ہر سیاسی جما عت کا شعبہ خوا تین مو جود ہے لہذا ان کوچا ہئے کہ سیاسی ورکرز خواتین کو ٹکٹ دیں اور عوام سے ووٹ لے کر رکن پارلیمنٹ بنیں۔اقلیتی بر ادری بھی پاکستانی ہے لہذا ان کو بھی حق دیا جا ئے کہ وہ اسی ملک کے عوام سے ووٹ لیں اور رکن پا رلیمنٹ بنیں۔سیاسی جما عتوں کے اقلیتی ونگ بھی ہے اس لئے ان کا فرض بنتا ہے کہ اقلیتوں کو نما ئند گی دیں۔پورے ملک میں بلدیا تی ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں اس لئے ارکان پارلیمنٹ کی تر قیاتی فنڈز کو ختم کیا جا ئے ۔ ان کو صرف قا نون سازی تک محدد کیا جا ئے۔سینٹ انتخا بات کے طر یقہ کارکو بھی تبدیل ہونا چا ہئے۔ایوان با لا کا رکن چو نکہ پو رے صو بے کا نما ئند ہ ہو تا ہے اس لئے ضروری ہے کہ سینٹ کا انتخاب بھی بر اہ راست ہو یعنی سینیٹر زبھی قومی اسمبلی کی رکن کی طر ح عوام سے ووٹ لیں۔ اس لئے کہ پو رے صوبے کا نما ئندہ اس کو اس وقت کہا جا ئے گا جب وہ صو بے کے عوام سے اعتماد کا ووٹ لے کر ایوان کا رکن منتخب ہو ا ہو۔وزیر اعلی کا انتخاب بھی بر اہ راست ہو نا چا ہئے۔اس لئے کہ وہ بھی پو رے صوبے کی نما ئند گی کا عوے دار ہو تا ہے۔لہذاوزیر اعلی کا بھی پورے صو بے سے منتخب ہو نا ضروری ہے۔مو جو دہ نظام میں وزیر اعظم پو رے ملک کی نما ئندگی کا دعوہ کر تا ہے ، جبکہ وزیر اعلی پورے صوبے کا حا لا نکہ دونوں ایک ایک حلقے سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ نہ پورا ملک ان کو ووٹ دیتا ہے اور نہ ہی پورا صوبہ۔پاکستان میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ انتخا بات کے بعد وزیر اعظم غیر منتخب لو گوں کو مشیر یا معاون مقر ر کرتے ہیں۔جیسا کہ آج کل خا رجہ امور کے لئے مشیر سر تاج عزیز ہے۔اسی کا م کے لئے ایک اور صاحب طا رق فاطمی نا م کا بھی ہے۔ اس کو معاون خصو صی کہا جا تا ہے۔قومی سلا متی کے لئے نا صر خان جنجو عہ کی خدمات لے لی گئی ہیں۔ہوا با زی کے محکمے کے لئے بھی شجا عت عظیم نا می ایک مشیرتھا۔جس کو بعد میں سپریم کورٹ نے کام کر نے سے روک دیا ہے ۔عر فان صدیقی بھی کسی محکمے کامشیر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے علاوہ چا روں صو با ئی وزرائے اعلی بھی اسی طر ح غیر منتخب لو گوں کو اپنا معا ون یا مشیر مقرر کر چکے ہو ں۔ اگر غیر منتخب لو گوں کو نوازنا ہی ہے تو پھر کیوں نہ وزیراعظم اور وزیر اعلی کو یہ اختیار دیا جا ئے کہ وہ وفاقی اور صو با ئی کا بینہ میں قومی اسمبلی ،سینٹ اور صو بائی اسمبلی کے ارکان کے علا وہ کسی اور کو بھی بطور وفاقی اور صو بائی وزیر رکھ سکیں گے۔مشیر اور معاون رکھنے پر مکمل پابند ی لگا ئی جا ئے۔وفا قی کا بینہ میں صرف وفا قی وزراء ہو نگے جبکہ صو با ئی کا بینہ صر ف صو با ئی وزراء پر مشتمل ہو گی۔ کفایت شعاری کے لئے بھی ضروری ترامیم کر نی چا ہئے۔صدر مملکت ، وزیر اعظم، تما م وزرائے اعلی ، گو رنروں ،وفاقی اور صو بائی وزیروں کی خصوصی فنڈز پر مکمل پا بندی ہو نی چا ہئے۔جو بھی رقم سرکاری خزانے سے جائے ۔ اس کے لئے ضروری قرار دیا جا ئے کہ وفاقی حکومت پا بند ہو کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے با قا عدہ اجا زت لے گی جبکہ صو با ئی خزانے سے پیسوں کو نکالنے کے لئے صوبا ئی اسمبلی کی اجازت کو لا زمی کیا جا ئے تا کہ جو بھی رقم قومی خزانے سے جا ئے اس کے بارے میں تمام تفصیلات مو جود ہوں کہ مطلو بہ رقم کہا خرچ ہو رہی ہے۔نئے سال کے آغاز پر پوری دنیا کی حکومتوں نے تر جیحات کا تعین کیا ہے۔ ہم بھی چو نکہ نئے سال کے اس جشن میں پوری دنیا کے ساتھ بر ابر کے شریک رہے اس لئے ہما رے حکمرانوں کو بھی چا ہئے کہ وہ بھی کو ئی ٹھوس حکمت عملی بنا ئیں تا کہ آئندہ سال یہ جشن اور بھی دھوم دھام سے منا یا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *