خبط عظمت اور زبان درازی

(مبین بٹ کے قلم سے )

media

کچھ دانشور صحافیوں اور کالم کاروں کا خیال سے پاکستان میں جمہوریت کا مقدمہ لڑنے والے اپنی جمہوری حکومتوں سے اس ملک کو جنت بنانے میں ناکام ہونے پر احتساب کیوں نہیں کرتے اُن کی توقع یہ بھی ہے کہ ہر مسئلہ ایک چھڑی ہلانے سے حل ہو جائے اور کسی کو اختلاف کی اجازت دئیے بغیر اجتماعی سوچ پیدا کی جائے حالانکہ وہ خود اپنی آزادی کااستعمال کرتے ہوئے حکومت کو ہر طرح کی گالی دینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مثلاً سلیم بخاری صاحب اپنے ہر ٹی وی پروگرام میں چاہے میزبان ہوں یا مہمان پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو بھڑوا کہتے ہیں اسی طرح خبط عظمت کا شکار صحافی حکومت کو دنیا کی بدترین جمہوری حکومت ثابت کرنے پر صحافتی زندگی کی پوری توانائی خرچ کر دیتے ہیں۔ یقیناً یہ سب دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ جمہوری آزادیوں پر یقین رکھنے والے ان سے اختلافات کے باوجود انکے اس حق کیلئے لڑنے کو تیار ہیں۔
اقتصادی راہداری پر جب صوبوں میں اختلافات پیدا ہوئے جس میں پرویز خٹک صاحب نے تو زبان درازی کی حد ہی کر دی ۔ جسکی کسی وفاق میں مثال نہیں ملتی تو سب نے راہداری کو کالا باغ ڈیم کے نتائج کے برابر لا کھڑا کیا۔ اختلافات سے قوم کو ڈرایا کہ لوگ اسے ناکام منصوبہ تصور کرنے لگیں مگر وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس طلب کر کے قابل تحسین کارنامہ سر انجام دیا۔ اور نگران کمیٹی بنا کر منصوبے کو قابل تحسین طرز حکمرانی کے بنیادی اصولوں میں اہم جہاں میرٹ و مشاورت اور احتساب ہیں متعلقہ لوگوں کو نمائندگی دے کر باقی اصولوں کو بھی یقینی بنایا۔ زہراگلے کی حد تک مخالفت کرتے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ بھی اسکا حصہ ہیں تمام متعلقہ فریقوں کی نمائندگی کے بعد ہمارے قدم جمہوریت اور ترقی کی جانب سمت پھر بڑھنے لگے ۔ایک اور سنگ میل طے ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *