معاشی راہداری کے مبالغہ آمیز اثرات

ayaz ameer

موٹر وے کے تصور کا خالق ایڈولف ہٹلر تھا۔اُ س نے جرمنی کو موٹروے دی، اس سے سفر میں آسانی پیدا ہوگئی، رابطے بڑھے، لیکن یہ موٹر وے نہیں تھی جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں جرمنی کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار کیں، یہ صلاحیتیں اُن میں پہلے سے ہی موجود تھیں۔ جس طریقے سے ہم یہاں پاک چین معاشی راہداری( جس کے تحت دیگر انفراسٹرکچر کے علاوہ کچھ سڑکیں اور ہائی ویز تعمیر کی جائیں گی) کی بات کررہے ہیں، اس سے ایسا تاثر جارہا ہے جیسے یہ منصوبہ ہماری قسمت بدل کررکھ دے گا، اور خوشحالی ، تعلیم اور فکری بصیرت کے دریا بہہ نکلیں گے اور اس کے بعدراوی چین ہی چین لکھے گا۔
پاکستان کی پسماندگی کی بہت سی وجوہ قیام کے وقت سے ہی اس کی دامن گیر ہیں، لیکن سڑکوں اور ریلوے کی کمی اُن میں شامل نہیں۔ اپنے قیام کے پہلے دو عشروں تک ہمارے پاس برطانوی راج کا تعمیر کردہ مواصلاتی نیٹ ورک موجود تھا۔ اُس وقت اندرونِ ملک بہت سے ایسے علاقے تھے جو سٹرک تک رسائی نہیں رکھتے تھے۔ دیہی آبادیاں، جو کچے کا علاقہ کہلاتی ہیں، قدرتی راستے اور گزرگاہیں رکھتی تھیں، لیکن ابھی ریل اور پختہ سڑک وہاں تک نہیں پہنچی تھیں، اس کے باوجود کئی حوالوں سے پاکستان ایشیا کے بہت سے ممالک سے آگے تھا۔ اُس وقت ا س کے پاس جیسا تیسا بھی انفراسٹرکچر تھا، بطریقِ احسن کام دے رہا تھا، انتظامیہ بہتر تھی، توانائی کی قلت نہ تھی، ٹرینوں کی آمدورفت اوقات کے مطابق تھی۔ ایوب خان کے دورمیں ہم نے پن بجلی میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی، اس لیے بجلی کی بھی کمی نہ تھی، صنعتیں لگ رہی تھیں۔ منگلا اور تربیلا اُسی دور کی یادگاریں ہیں۔
لیکن پھر ہمارے ستارے گردش میں، اور ہم نے نتائج پر غور کیے بغیر 1965ء کی جنگ چھیڑلی۔ اس حماقت نے پاکستان کو مکمل طور پر پٹری سے اتار دیا اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان نفرت اور عدم اعتماد کی ایسی دیواریں کھڑی کردی جو آج تک منہدم نہ ہوسکیں۔ اُس وقت کی عسکری قیادت اور مغربی پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی صریحاً ناکامی اور بے بصری کی وجہ سے ہم 1970ء کے انتخابی نتائج نہ سنبھال سکے۔ اس کے تھوڑ ی دیر بعد ہم نے افغان جہاد کی خوفناک دلدل میں قدم رکھ دیا۔ 1965ء کی جنگ نے پاکستانی ذہنیت کو جنگی جنون میں مبتلا کردیا، اُس دور میں تخلیق کیے گئے جنگی نغموں نے اس ذہنیت کو مہمیز دی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے انڈیا کے ساتھ پہلے بھی مسائل تھے لیکن اُس جنگ نے جنونیت کے ایسے قلعے تعمیر کردیے جس سے ہم کبھی باہر نہ نکل پائے۔ 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے سے پنجاب کو قومی معاملات میں واضح بالا دستی حاصل ہوگئی۔ اس سے پہلے بھی پنجاب کوئی ’’گڑیوں کا گھر ‘‘نہیں تھا لیکن مشرقیِ پاکستان کے اپنی راہیں جدا کرنے کے بعد ایسا توازن مکمل طور پر تحلیل ہوگیا جو پنجاب کی مخصوص سیاسی مذہبی عصبیت کے سانچے میں ڈھلی حب الوطنی پر سوال اٹھا تا۔ اس ادغام نے نظریے کو توانا کرتے ہوئے ایک نئے سانچے میں ڈھالا، افغان جہاد نے ہمارے ہاتھ میں ہتھیار تھمائے ، دل کو نفرت سے بھرا اور مذہبی انتہا پسندی کی زہریلی فصل کاشت کی۔ اسی نرسری سے فرقہ واریت کے خارزار وں کا اُگنا بھی لازمی تھا۔
یہ تھے وہ عوامل جنھوں نے ہمیں تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اگر ہم 1965ء کی جنگ میں اپنے بازو نہ آزماتے اورنہ ہی افغان جہاد کا ’’ثواب ‘‘ لوٹنے کا سودا ہمارے دماغ میں سماتا تو شاید اس پر بحث کی جاسکتی کہ کیا اس وقت پاکستان ایک مختلف ملک ہوتا؟ کم از کم ایک بات یقینی ، کہ یہ مبہم مہم جوئی اور التباستی سٹریٹیجی کی راہوں پر گامزن نہ ہوتا۔ مفروضے کو آگے بڑھائیں تو سوچ آتی ہے کہ اگر بنگالی ہمارے ساتھ رہتے تو کیا ضیا کے شب خون کی نوبت آتی؟کیا وہ ضیاکے طویل دور میں پروان چڑھائی جانے والی نام نہاد اسلام پسندی کو قبول کرتے؟ کیا بنگالی اکثریت ہمیں افغان جہاد کی دلدل میں قدم رکھنے کی حماقت کرنے دیتی؟
اب واپس موجودہ دور میں آجائیں کہ پاک چین معاشی راہداری ہماری قومی فکر پر کس طرح اثر انداز ہوگی؟کیا اس کی تمام شاہراہیں اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس ہمیں منطقی اور حقیقت پسند انسان بنا دیں گے اور ہم نام نہادمذہبی جذبات سے ہر آن مغلوب رہنے سے کسی قدر فراغت پائیں گے؟کیا ہمارے کالج اور یونیورسٹیاں جماعتِ اسلامی کی سدابہار پیش کش اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھوں عقائد پروری کے نرسریوں کی بجائے علم اور تحقیق کے مراکز بن جائیں گی؟کیا معاشی راہداری ایک نئی شاہرائے ریشم بن پائے گی جہاں سے دیگر سامانِ تجارت کے ساتھ ساتھ علم و دانش کے قافلے بھی سفر کرتے اور متاعِ سخن ساتھ لاتے تھے؟کیا فنون کے جسدِ خاکی میں نئی روح پھونکی جائے گی اور صنعتی دور کے ساتھ ساتھ کیا ہم علم کی نشاۃِ ثانیہ کی طرف بھی بڑھیں گے اور کیاہمارے ہاں طاری فکری جمود کی دبیز تہوں میں رستخیز دکھائی دے گا؟ کیا مرجعی جہل کے نہنگوں کے مقدس نشیمن تہہ وبالا کیے جائیں گے؟یہ سوال میں اس لیے اٹھارہا ہوں کیونکہ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں کم از کم چار گنا بڑھ گئیں۔ جنگ کے نتائج ایک طرف، اس سے تیل پیدا کرنے والی ریاستوں کی چاندی ہوگئی اورہر آن پھیلنے والے پیٹرو ڈالر کے ذخائر عرب دنیا کو اس سے کہیں زیادہ روشن مستقبل کی جھلک دکھاتے تھے جتنی ہم پاک چین معاشی راہداری کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اب تیل کی قیمتوں میں یک لخت کمی کی وجہ سے عرب دنیا پر معاشی حالت پر دباؤ ہمارے سامنے ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ سعودی عرب بھی 80 بلین ڈالر خسارے کا بجٹ بنانے پر مجبور ہوگا؟لیکن تیل کی فروخت سے ہونے والے محصولات میں کمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی اتنی فراوانی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ صورتِ حال تبدیل ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
تیل کی دولت سے عرب ممالک نے کیا کیا؟اپنے شہریوں کو سبسڈی دی، مہنگا انفراسٹرکچر تعمیر کیا، ہائی ویز، مہنگی گاڑیاں ، لگژری ہوٹل، یورپ اور امریکہ کی مہنگی جگہوں پر جائیداداور جدید ہتھیاروں کی خرید اری کی حالانکہ اُنھوں نے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑنی۔ عرب ممالک کے علاوہ نائیجریا کے پاس بھی تیل کے بھاری ذخائر موجود ہیں، لیکن یہ غریب اور اس کا شمار دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ اسی طرح وینزویلا کے پاس بھی تیل ہے لیکن اس کی معاشی حالت بھی پتلی ۔ خوش قسمتی سے دوبئی کے پاس تیل نہ تھا، چنانچہ اسے دولت پیدا کرنے کے دیگر ذرائع اختراع کرنے پڑے، اور یہ بات ماننا پڑی گی کہ اسے ان میں کامیابی ملی کیونکہ اس کے رہنما تخیل اور بصیرت میں اپنے دیگر بھائیوں سے کچھ آگے تھے۔ خیال تھا کہ تیل کی دولت عرب دنیا کو اوجِ ترقی پر پہنچا دے گی۔ بعد کے حالات ہمارے سامنے، چنانچہ اب اپنے ہاں دیکھیں، تاثر دیا جارہا ہے کہ معاشی راہداری ہمارے مسائل حل کردے گی، اس سے معاشی ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ایسا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان سے کس طور استفادہ کرپائیں گے۔ اہم ترین بات یہ کہ ملنے والے امکانات اور کھلنے والی راہیں ہماری داخلی اور فکری تبدیلی میں کس حد تک معاون ثابت ہوں گی؟ کیا ہم خود کو تبدیل ہونے کی اجازت دیں گے؟کیا ہم تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کریں گے؟کیاہم پولیس اور عدلیہ اور محصولات کے نظام میں بہتری لائیں گے؟کیا ہم سرکاری شعبہ جات سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں ؟چین یہاں سرمایہ کاری کرسکتا ہے لیکن وہ ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہم اپنا ملک کیسے چلائیں۔ اُن کے ہاں اُن کا اپنا نظام ہے اور ہم اپنے طریقے سے معاملات چلا رہے ہیں۔ ہم دوست ریاستیں ہیں لیکن مزاج اور فطرت کے اعتبار سے مختلف اقوام ہیں۔ پاکستان کو کیسے چلانا ہے، اس کا دارومدار چینی معاونت پر نہیں، ہماری سوچ پر ہے۔
ہمارے ہاں پہلے افغان جہاد کے وقت بھی دولت کی ترسیل شروع ہوئی تھی، گو اس کا حجم کم اور محدود تھا، لیکن ہم نے اس سے کیا کیا؟ کیا ہم اپنے کھاتے کھول کر بتاسکتے ہیں؟اس کے بعد ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کامعاہدہ کیا تو ہمیں رقم ملی۔ اس رقم سے ہم نے کنزیومر فنانسنگ کو بامِ عروج پر دیکھا اور اس کے ساتھ ہی ہماری سڑکیں کاروں سے بھر گئیں۔ اس کے لیے مزید سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔ اسلام آباد کی زیادہ تر سڑکیں بے مصرف ہیں اور پھر شکرپڑیاں پر ایک یادگار تعمیر کی گئی جسے دیکھناجمالیاتی ذوق کو مطلق شاد نہیں کرتا۔ اُس دور میں سرانجام دیے گئے مزید کارہائے نمایاں کے کون سے میڈل ہمارے سینے پر سجے ہیں؟ ہم نے خلیجی ریاستوں میں ملنے والے تیل سے بھی بلواسطہ فائدہ اٹھایا۔لاکھوں پاکستانیوں کو ان ریاستوں میں ملازمتیں ملیں،اور ان کی ترسیل کردہ رقوم نے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا۔ تاہم اس سے ہمارا فکری ارتقا ع نہیں ہوا بلکہ دیہی علاقوں میں کچے مکانات کی وجہ اینٹوں کے پکے مکانات بننا شروع ہوگئے۔ اس تعمیر کو ترقی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دولت اور علم کی پائیدار تخلیق اس منظر نامے میں شامل نہ تھی۔ مختصر یہ کہ کسی بھی تعمیر و ترقی سے پہلے صاحبِ نگاہ قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ’’سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا‘‘۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *