ترکی میں صحافیوں کے لئے مشکل حالات

رجب طیب اردگان کی توہین کا جرم ثابgolem and ardaganت ہوگیا تو ترکی کے ڈاکٹر سفٹسی کو دو سال قید ہوسکتی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں اردگان کا موازنہ گولم سے کیا۔ سب سے پہلے اسے اپنی نوکری سے محروم ہونا پڑا، عدالت نے اعلان کیا ہے کہ اس جرم میں شعبہ تعلیم سے وابستہ دو افراد، دو سائیکلوجسٹ اور ایک فلم ایکسپرٹ کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

فٹسی کے وکیل نے پہلے اظہار رائے کی آزادی کے حق کی بنیاد پر دفاع کی کوشش کی، جب عدالت نے اس کی اجازت نہ دی تو اسے دلیل دینا پڑی کہ گولم کوئی برا کردار نہیں ہے۔ ترکی میں آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی کی یہ واحد مثال نہیں ہے بلکہ ترکی میں صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے کڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

ترکی میں اظہار رائے کی آزادی کی ابتر صورتحال کوئی راز نہیں ہے۔ عدالتیں صحافیوں کے لیے باقاعدگی سے باہمی ملاقاتوں اور اکٹھے ہونے کے مقامات بن گئی ہیں۔یکم دسمبر کو کو چار صحافی عدالت میں پیش ہوئے جن میں سے ایک گواہ تھا اور تین کو ترک صدر کی توہین کرنے پر چار سال سزا کا سامنا  ہے۔ اگست 2014 سے لیکر مارچ 2015 کے درمیانی عرصے میں 236  افراد سے ملک کے صدر کی توہین کے حوالے سے تفتیش کی جا چکی ہے۔ 105  پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں سے 8 کو گرفتار کر لیا گیا۔ رجب طیب اردگان کے وزارت عظمی اور صدارت کے دور کے دوران ٰ63  صحافی 32 سال کی قید کی سزائیں پا چکے ہیں۔

اپوزیشن کو خاموش کرانے کے لیے صرف گرفتاریوں اور فائرنگ ہی کا سہارا نہیں لیا جاتا۔ ڈیجیٹ ترک، ترک سیل ٹی وی اور تیویبو جیسے اداروں کے 7  چینلز کو بھی نشریات سے روک دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹ ترک چینل کے خلاف کیس پر نظرثانی کے لیے تیار ہونے والے ایک جج کا سپریم بورڈ آف ججز اینڈ پراسیکیوشن نے جوابی کارروائی میں تبادلہ کردیا تھا۔

صحافیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کی خبریں ترکی کے اتحادی مغرب کے لیے نئی نہیں ہیں تاہjournalist in turkeyم بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں ترک اور یورپ کے درمیان پناہ گزینوں کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کے بعد یورپ نے ترکی میں آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزیوں پر تنقید کم کردی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ترکی نے مہاجرین کی یورپ منتقلی روکنے کے لیے اپنی سرحدوں کی سکیورٹی سخت کرنا ہے۔

یورپی یونین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے تاہم اردگان کے ایڈوائزر برہان کوزو نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ یورپی یونین ترکی کے پناہ گزینوں کے خطرے کے سامنے جھک گیا ہے۔

امریکہ بھی ترکی کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ترکی میں صحافیوں کی گرفتاریوں پر بارہا تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم ترک عہدیداروں کے مطابق اوباما اور اردگان کی ملاقات میں اس معاملے کا حل نکال لیا گیا ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *