یادوں کے سفر پر

saeed ahmed (final)

اجمل شاہ دین کے بارے میں ایک کالم میں لکھنا ناممکن ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ میں جیسے بورڈنگ لاؤنج میں بیٹھا ہوں، کارڈ میرے ہاتھ میں ہے، جہاز کی پرواز میں ٓخری چند منٹ باقی ہیں اور مجھے یہ کالم مکمل کرنا ہے۔ قاری کو شروع میں ہی اپنی نیت اور ارادے کے بارے میں بتا دینا چاہئیے۔
اجمل شاہ دین نے کہا کہ وہ تمام قصے کہانیاں اور داستانیں جو تم مزے لے لے کر سناتے ہو وہ سب قلمبند کرو۔ میں نے اس تجویز کے بارے میں سوچا، کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھاسوائے اس کے کہ میں جہازکی پرواز کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ یہ صورتحال میں نے اپنے لئے خود بنائی تھی۔ وقت کے چیلنج کو قبول کرنا اور کم وقت میں کام کرنے کا میرے خیال میں یہ بہترین طریقہ ہے۔ لکھنا ایک مشقت طلب عمل ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ اپنے آپ کو کسی ناگہانی صورتحال میں پھنسا دیا جائے، اگر لکھنے کے لئے دل اور دماغ دونوں مائل نہ ہوں تو یہ منظر بے حد کارآمد ثابت ہو سکتا ہے کہ صبح فجر کی نماز کے بعد مجھے پھانسی پر چڑھایا جائے گا۔ صدر نے معافی کی اپیل مسترد کر دی ہے اور اب لکھنے کے لئے آخری چند منٹ درکار ہیں۔
کالم لکھنے اور پھانسی پر چڑھنے میں اب چوائس کا مسئلہ ختم ہو گیا، لہذا کالم ہر صورت میں لکھنا ہوگا۔ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ کالم لکھنا کارِ داد ہے بلکہ اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کر رہا ہوں کہ پچھلے چند مہینوں سے میں ڈرامے لکھتے ہوئے اس قدر تھک چکا ہوں کہ نہ تو اب مجھ میں جہاز پر سوار ہونے کی ہمت ہے اور جلاد کے پاؤں پر گر کر معافی مانگنے کو تیار ہوں کہ ایک بے گناہ ادیب کی سزائے موت کو موخر کر دے۔ ڈرامے میں مجھے یہ سہولت میسر ہے کہ عین وقت پر پھانسی کا منظر تبدیل کر سکتا ہوں۔ اگر میں ذہنی طور پر اپنی یادیں لکھنے پر تیار ہو گیا تو اس کی تمام ذمہ داری اجمل شاہ دین پر عائد ہوگی۔ ڈرامے کے اصولوں کے مطابق مجھے یہ فن بھی آتا ہے کہ آخری وقت پر میں سزائے موت کا قیدی ہی تبدیل کر دوں تاکہ مسئلہ اجمل شاہ دین اور جلاد کے درمیان طے پائے۔
یادوں کو سنانے میں جو مزہ ہے وہ لکھنے میں نہیں۔ میں یادیں لکھ کر اُن بزرگوں میں شامل نہیں ہونا چاہتا جن کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر واقف کار راستہ بدل لیتے ہیں۔ بوڑھے اور بزرگ ادیب، شاعر، ریٹائرڈ فوجی اور خطرناک جانوروں کے شکاری نہایت بور لوگ ہوتے ہیں، جن کے پاس صرف ایک ہی کہانی ہوتی ہے اور وہ ہر ملاقاتی کو سنانے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی کی مجلس یا نشست میں یادوں کو سننے میں جو مزہ تھا وہ ’یادوں کی برات‘ کو پڑھنے میں کہاں ہے..... اگر عصمت چغتائی اس کتاب پر فتویٰ جاری کرتے ہوئے اس کو ’شہوت کی بارات‘ قرار نہ دیتی تو شاید یہ کتاب اتنی مقبولیت حاصل نہ کرتی۔
یادین لکھنے کے لئے سب سے بنیادی ضرورت یادوں کی ہوتی ہے، امرتا پریتم کے پاس جیسی یادیں ہوں ، یا کرشن چندر، بیدی، منٹو، عصمت، فیض، ساحر اور جالب کے پاس یادوں کے جو خزانے تھے ، ان کے لئے اپنی یادیں لکھنا ایک نیا ادب تخلیق کرنے کے مترادف ہوتا۔ ادب بجائے خود ادیب کی یادوں اور تجربوں کا ہی ایک تخلیقی اظہار ہوتا ہے۔
بعض لوگوں میں اپنی یادوں سنانے اور ان میں دلچسپی کو برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیتیں ہوتی ہیں، وہ لمحہ بھر کے لئے تسلسل ٹوٹنے نہیں دیتے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ اپنی یودوں کو قلمبند بھی کر سکیں۔ کہانی سنانا دنیا کا قدیم ترین فن ہے۔ قدیم کہانیاں اور داستانیں غیر تحریر شدہ ہوتی تھیں۔ آنے والے زمانوں نے صدیاں گذریں ان کہانیوں کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا۔
مجھے یاد ہے کہ جہاز کی پرواز تیار ہے۔ میں اب باقی حصہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اور سیٹ بیلٹ کھولنے کے بعد اور ایک روح پرور مشروب کا آرڈر دینے کے بعد لکھوں گا۔
جہاز دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور میں آوارہ بادلوں کی طرح اپنے یادوں کے نیلے آسمان پر اڑ رہا ہوں، سرخ، گلابی، نیلی، پیلی، قرمزی، سلیٹی، شہابی، مدھم، چمکدار، ہلکی، گہری، گھنیری، سیاہ رنگ، چٹی گوری، یادیں ہی یادیں، اور ان کے ہولی کے رنگوں میں بھیگا ہوا، بادلوں پر اڑتا ہوا، میں ایک اگلے مشروب کی خواہش کا اظہار کرتا ہوں، خوش رنگ، قبول صورت ائیر ہوسٹس کی مسکراہٹ مجھے یادوں کے نیلے آسمان سے اتار کر جہاز کے اندر لے کر آتی ہے۔ میں اس لمحے کو بھی یاد بنا دینا چاہتا ہوں ۔ یہ ایک لبنانی لڑکی ہے ، اور میری یادوں میں خلیل جبران ہے۔ میں نے اس کو جبران کی ایک مختصر رومانوی نظم سنائی۔ وہ اب خوبصورت لگنے لگی تھی، سامنے بیروت کا ساحل نظر آ رہا تھا۔
نیلا آسمان اور سمندر کا نیلا پانی، میں یادوں کے بھنور میں پھنس چکا تھا۔ بیروت جو لبنانی لڑکیوں کی طرح خوبصورت اور دلکش اور جاذب نظر ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے اپنی یادیں قلمبند کرنا شروع کر دی ہیں، مگر میں ان کو لکھنے میں اس حوالے سے آزاد ہوں کہ فلم اور ڈرامے کے فن کو استعمال کر کے میں فلیش بیک میں جا سکتا ہوں، موجودہ لمحے میں ائیر ہوسٹس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اجمل شاہ دین نے آخر مجھے باندھ لیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *