خوابوں کا سفر

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

رؤف طاہر

س بار ترتیب کچھ بدل گئی۔ برسہا برس سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ پاکستان کے حکمران مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے دیارِ حرمین کا رخ کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ کا طواف، عمرہ اور روضہٴ رسول پر حاضری کے علاوہ سعودی حکمرانوں سے ملاقات، جو ہر برے بھلے وقت میں پاکستان اور اہل ِ پاکستان سے اخوت اور محبت کے تقاضے نبھاتے رہے۔ یہ دوستی سے بہت آگے کے معاملات ہیں۔یہ معاملات یکطرفہ نہیں، دو طرفہ ہیں۔پاکستان بھی عہد ِ وفا نبھانے میں پیچھے نہیں رہا۔ حکمرانوں کی سطح پر تعلقات کے اتار چڑھاوٴ اور باہمی اعتماد میں کمی بیشی کے باوجود مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کا جذبہ ہمیشہ بروئے کار رہا۔ متحدہ پاکستان کے دنوں تک پاکستان کو سارے عالمِ اسلام کا فطری لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ٹوٹنے کی خبر سن کر شاہ فیصل مرحوم کی کتنی ہی راتیں بے خواب گزریں۔ بھٹو صاحب کے نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے بھی سعودی عرب کی دلچسپی کم نہ تھی۔ 1977کے بحران میں جنابِ بھٹو اور ان کے حریف پاکستان قومی اتحاد کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی سعودی عرب نے برادرانہ کردار ادا کیا۔ اس کے لئے اس دور کے سعودی سفیر جناب ریاض الخطیب کے رابطے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ جنرل ضیا الحق کا دور پاک سعودی تعلقات کا شاید سب سے زیادہ پرجوش دور تھا۔ سویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں پاکستان کے کردار نے ضیأالحق کو آزاد دنیا کے علاوہ عربوں کی آنکھ کا تارہ بنا دیا تھا۔ ایک تاثر یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کے دونوں ادوار اور پھرفروری 2008 کے انتخابات کے بعد زرداری صاحب کی زیرِ قیادت پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں بھی حکمرانوں کی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان وہ گرم جوشی نہیں تھی۔ جناب نواز شریف بھی سعودی حکمرانوں اور سعودی عوام میں محبت اور احترام کا خاص مقام رکھتے ہیں۔ انہیں پرویز مشرف کے عتاب سے نکالنے کے لئے سعودی حکمران سرگرم ہوئے۔ جلاوطنی کے دوران انہوں نے اپنے مہمان کی میزبانی میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔11 مئی کے انتخابات کے بعد سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے 15 ارب ڈالر کے بیل آوٴٹ پیکیج کی خبریں بھی عام ہوئیں (انہوں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی اقتصادی پابندیوں کے دوران ڈیفرڈ پیمنٹ پر تیل کی فراہمی کے ذریعے پاکستان کی خصوصی دستگیری کی تھی)۔ اب 15 ارب کا یہ بیل آوٴٹ پیکج قیاس آرائیوں تک محدود رہا۔ کہا گیا کہ میاں صاحب کے دورہ سعودی عرب کے دوران اسے حتمی شکل دی جائے گی۔ خیال تھا کہ میاں صاحب وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کریں گے لیکن انہوں نے اسے رمضان کے آخری عشرے تک موٴخر کر دیا کہ ان مقدس ایام میں عمرہ اور روزہ رسول پر حاضری ان کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔
میاں صاحب نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے پاکستان کے ایک اور قابلِ اعتماد دوست چین کا انتخاب کیا۔ چین کے نومنتخب وزیرِ اعظم 11 مئی کے انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کر گئے تھے۔ تب میاں صاحب نے حلف نہیں اٹھایا تھا تاہم مستقبل کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے چینی وزیر ِ اعظم سے ان کی ملاقات بہت مفید رہی تھی۔ اس دورے میں جناب شہباز شریف کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدلمالک بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ملک کے حساس ترین صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کی وفد میں موجودگی کی اپنی اہمیت تھی۔ مصروفیات کے لحاظ سے بھی یہ دورہ بہت بھرپور رہا جس میں 8 ایم ۔ او۔ یوز سائن ہوئے۔ انرجی ، انفراسٹرکچر، ٹیلی کمیونیکشن اور ٹرانسپورٹ کے یہ منصوبے بلاشبہ آئندہ برسوں میں پاکستان اور اہلِ پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ گوادر، کاشغر راہداری کا18 بلین ڈالر کا منصوبہ، جسے میاں صاحب نے بجا طور پر خطے میں ”گیم چینجر“قرار دیا کہ چین اور پاکستان کے علاوہ یہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیاکے لئے بھی علاقائی سیاست اور معیشت کے حوالے سے گہرے اثرات کا حامل ہے، کراچی لاہور موٹروے، فائبر آپٹک سسٹم اور توانائی کی ضرورتوں میں پاکستان کو خود کفیل بنانے کے منصوبے، یہ سب کچھ وہ ہے جس کا کبھی خواب ہی دیکھا جاسکتا تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ نواز شریف اپنی قوم کی تعمیر و ترقی کے خواب دیکھنے اور پھر ان کی تعبیر کے لئے سرگرم ہوجانے والا لیڈر ہے۔ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانا اور پاکستانی قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کرنا ان کی دیرینہ آرزو ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ اپنے گزشتہ دونوں ادوار میں بھی کوشاں رہے۔ وہ ان حکمرانوں میں سے نہیں جو صرف آج کا سوچتے اور ”ڈنگ ٹپاوٴ“ (Day to Day) پالیسیوں کے ذریعے پانچ سال پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف دُور کی سوچتے اور آئندہ کئی برسوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ اپنے دوسرے دور میں وہ کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے، ”وزیر اعظم کا وژن 2010 “ کے اس پروگرام کے کوارڈینٹر جناب احسن اقبال تھے لیکن 12 اکتوبر 1999 کے فوجی اقدام نے یہ سب خواب ملیامیٹ کر دیئے۔ جناب شہباز شریف ایک بے تاب روح ہیں۔ وہ خود آرام کرتے ہیں ، نہ اپنے ساتھیوں کو آرام کرنے دیتے ہیں۔ چنانچہ برسوں کے کام مہینوں میں کر گزرتے ہیں۔
صرف 11 ماہ میں 27 کلومیٹر کے میٹروبس منصوبے کی تکمیل اس کی ایک مثال ہے۔ چین میں بھی ان کے جنوں نے انہیں فارغ نہ بیٹھنے دیا ، وہ پنجاب کے 5 بڑے شہروں لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راولپنڈی کے لئے انڈرگراوٴنڈ بس سروس اور میٹروبس سسٹم کے منصوبے لائے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے لئے توانائی کے منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔گزشتہ 5 برسوں میں جنابِ آصف زرداری نے چین کے کتنے سرکاری اور نجی دورے کئے اور ان میں کتنے ایم او یوز سائن ہوئے ، یہ شاید انہیں بھی یاد نہ ہو۔ شاہین صہبائی کے حساب کتاب کے مطابق زرداری صاحب کے دوروں کی تعداد 25 تھی جن میں 50 ایم او یوز سائن ہوئے لیکن یہ سب کچھ رسمی تھاجو فائلوں تک محدود رہا۔ صہبائی کے بقول، بعض ایم او یوز پر متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز کو سائن کرنے پر تذبذب ہوا تو ان پر سفیر پاکستان نے دستخط کر دیے۔ اس کے برعکس وزیرِ اعظم نواز شریف کا دورہ چین نہایت سنجیدہ کاوش تھی جس کے لئے دونوں طرف سنجیدہ ہوم ورک بھی ہوا۔ تاہم جیسا کہ چینیوں نے بھی کہا اور پاکستان کو بھی اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے اولین ضرورت امن و امان ہے۔ سرمائے کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ یہ ذرا سا بھی خطرہ محسوس کرے تو پرواز کر جاتا ہے اور یہاں تو سرمایہ بیرونِ ملک سے آنا ہے۔ یہ عظیم الشان منصوبے ایسے نہیں جنہیں پاکستان کے بدخواہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں۔ گوادر کی بندرگاہ تو ہمارے بعض دوستوں کی نظر میں بھی کھٹکتی ہے کہ اس سے عالمی تجارت کے لئے ان کی اپنی بندرگاہوں کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ پنجاب ایک عرصے سے دہشت گردی سے محفوظ ہے۔ وزیرِ اعظم کے دورہ ٴ چین کے موقع پر انارکلی لاہور میں بم دھماکے کو بعض مبصرین نے چینی سرمایہ کاروں کے لئے ایک پیغام قرار دیا۔ اپنے ہمسفر اخبارنویسوں سے گفتگو میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے یہ الفاظ بھی میڈیا میں ریکارڈ ہوئے کہ خدا نخواستہ نانگا پربت جیسا ایک اور واقعہ ان کے دورہ چین کے ثمرات پر پانی پھیر سکتا ہے ، چنانچہ چین سے واپس آتے ہی وہ دہشت گردی کے خاتمے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ فاٹا کے ارکانِ اسمبلی سے ان کی ملاقات میں اس مسئلے کے کئی پہلو اور مفید تجاویز سامنے آئیں۔ وزیرِ اعظم کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اسی مقصد کے لئے تھا جس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام اور ان کے سینئر رفقا نے وزیر اعظم کو مفّصل بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز، وزیرِ داخلہ نثار علی خاں اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قومی سلامتی کے مسئلے پر 12 جولائی کی آل پارٹیز کانفرنس بھی اسی مقصد کے لئے تھی جو عمران خان کی پاکستان میں عدم موجودگی کے باعث ملتوی کر دی گئی۔ جنابِ خورشید شاہ کا شمار ملک کے سینئر پارلیمنٹرینز میں ہوتا ہے۔ قحط الرجال کے دور میں وہ پیپلزپارٹی کے لئے بلاشبہ ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ تصادم اور محاذ آرائی کے نہیں ، مذاکرات، مفاہمت اور مصالحت کے آدمی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کئی نازک مواقع پر جناب اسحاق ڈار کے ساتھ ان کے رابطے الجھنوں کو سلجھانے اور دونوں جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کو ٹالنے کا ذریعہ بنے۔ اب وہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ہیں۔ وہ پہلے تولو ، پھر بولو پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن گزشتہ روز وہ کیا کہہ گئے، یہ تو خود اپنی جماعت کے خلاف چارج شیٹ تھی۔ فرمایا، ہم نے ڈھائی سال کے بعد آئی ایم یف سے قرض لیا تھا، موجودہ حکومت نے پہلے مہینے ہی کشکول بڑھادیا۔ تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 2008 میں انہیں جو معیشت ورثے میں ملی اس میں ڈھائی سال کے بعد آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی نو بت آئی جبکہ ان کی حکومت نے نئی حکومت کو ایک ایسی معیشت کا ورثہ دیا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے خزانے میں کچھ نہیں تھا اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کے حصول کے سوا کوئی چارہ ٴ کار نہ رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *