ہوا میں اڑتے پتے (13)

mirza

      طغرل رات بھر کا جاگا ہوا تھا۔ متحرک، پرشور اور روشن جگہیں اس کی نیند کی دشمن تھیں۔ ہر جگہ اور ہر حالت میں سو جانے والون پر اس کا رشک ہمیشہ قائم و دائم رہا۔ اس نے کمرے کے دبیز پردے سیدھے کیے تھے اور ایرکنڈیشنر چلا کر اچھی خاصی دیر تک سویا تھا۔ دن کے کوئی تین بجے بیدار ہوا تھا۔ اظہر نے میز پر کھانا لگا دیا تھا۔ عاصم کی چھوٹی بیگم اور دونوں بچے طغرل کے جاگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے ڈائننگ ٹیبل پر پہنچنے کے بعد ان سب نے دوپہر کا کھانا کھانا شروع کیا تھا۔ طغرل سناتا رہا تھا اور اس کے بھتیجے کی چھوٹی بیگم اپنی مخصوص مسکراہٹ اور چمکتی ہوئی آنکھیں جمائے، اس کی باتوں پر جی، جی، جی ہاں، اچھا کہتے ہوئے سنتی رہی تھی۔ اس کے اس انہماک اور طغرل کی خوش بیانی کے تسلسل کو ایک بچے نے طغرل کو "دادا ابو" کی صدا دے کر توڑا تھا۔ اگرچہ طغرل اور عاصم تقریبا" ہم عمر تھے مگر رشتے کے حوالے سے طغرل بچوں کا دادا ہی لگتا تھا ناں۔ بچے کی پکار پر جونہی وہ متوجہ ہوا تو بچے نے کہا تھا،" دادا ابو آپ لزرڈ کا سوپ لیں گے؟" اس شرارتی کو شاید اس کی ماں یا اس کے باپ نے بتایا تھا کہ طغرل کو چھپکلیاں بہت بری لگتی ہیں۔ بچے کی ماں کا قہقہہ چھوٹ گیا تھا اور طغرل نے آخ آخ کہتے ہوئے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ دونوں بچے معصومانہ انداز میں ہنسے چلے جا رہے تھے۔ چھوٹی بیگم نے اپنی ہنسی پر قابو پا لیا تھا اور مسکراتے ہوئے بولی تھی،"دادا ابو، کھانا تو ختم کریں ناں"۔ طغرل اصل میں کھانا کھا چکا تھا چنانچہ اس نے اس کی تسلی کرا دی تھی۔ بچے کو شاید معلوم نہیں تھا کہ طغرل کو کتے سے کس قدر خوف آتا ہے اور چپچپاہٹ سے اسے کتنی الجھن ہوتی ہے ورنہ بچہ اسے بوکھلانے کی خاطر اور بھی کئی حرکتیں کر سکتا تھا۔

      عاصم دیر گئے اپنے دفتر سے لوٹا تھا۔ رات کو وہ دونوں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے تھے۔ اس نے عاصم سے کہا تھا کہ وہاں ٹریڈ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے کراچی آنے والے اپنے غیر ملکی شرکائے کار سے بات چیت کرنے کا موقع دے تاکہ اسے تجربہ حاصل ہو اور عاصم کو تسلی رہے۔ عاصم نے کہا تھا پہلے اپنے بچوں کے پاس ہو آو جب لوٹ کر آؤ گے تو دیکھ لیں گے۔ چند روز عاصم کے ہاں قیام کرنے کے بعد طغرل ریل گاڑی کے ذریعے لاہور روانہ ہو گیا تھا۔ اس نے ٹیلیفون پر اپنی اہلیہ کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ کس ریل گاڑی کے ذریعے پہنچے گا۔

     وہ اسے سٹیشن پر لینے پہنچی ہوئی تھی۔ طغرل کی موجودگی میں اس نے گاڑی تبدیل کر لی تھی اور خود چلا کر لائی تھی۔ طغرل نے اپنی بیوی اور اپنے ملازم کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا اور دونوں بچوں کو بازووں میں بھر کر پیار کیا تھا۔ جب اس کی بیوی نے ایک ڈیڑھ سال پہلے اس سے کہا تھا کہ اسے کار چلانا سکھا دے تو اس نے انکار کر دیا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مناہل، جی ہاں اس کی بیوی کا نام مناہل تھا، مردوں سے بڑھ کر فعال خاتون تھی اور اگر اس نے کار چلانا سیکھ لیا تو وہ کچھ زیادہ ہی مرد ہو جائے گی اور پھر کچھ بعید نہ ہوگا کہ وہ مرودوں والے "کام" بھی کر گذرے۔ اس کے انکار کو وہ بھلا کہاں خاطر میں لاتی تھی اس نے ایک شریف سید زادے کی شاگردی کرکے کار چلانا سیکھ لی تھی مگر طغرل اس کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھا تھا وہ خود ہی گاڑی چلایا کرتا تھا لیکن آج اس نے اسے ہی کار چلانے دی تھی۔ مناہل نے ٹیپ ریکارڈر میں جو پہلا گیت لگایا وہ تھا:

               میں پسند ہوں کسی اور کی

               مجھے چاہتا کوئی اور ہے

       ساتھ ہی کہا تھا ‘سنو کتنی اچھی غزل ہے‘ غزل تو اسے کوئی اتنی اچھی نہیں لگی تھی پر کھٹکی ضرور تھی کیونکہ اسے لگا تھا کہ سرآئینہ تو اب اس کا عکس ہی باقی بچا ہے، پس آئینہ کوئی اور لگتا ہے۔ اس نے طنزا" کہا تھا،" خیر تو ہے کہ ایسی غزلیں اچھی لگنے لگی ہیں تمہیں؟"۔ مناہل نے تنک کر کہا تھا،" کسی کو کوئی بھی غزل اچھی لگ سکتی ہے"۔ وہ سب گھر پہنچ چکے تھے۔ شام تک اسے ایسے لگنے لگا تھا جیسے وہ کہیں گیا ہی نہیں تھا۔ پرانے ساتھی ملنے آنے لگے تھے۔ ان کے لیے تو وہ زائر تھا جو ماسکو کی زیارت کرکے لوٹا تھا۔ وہ انہیں وہاں کے بارے میں بتاتا رہا تھا۔ ان کے سوالوں کے جواب دیتا رہا تھا۔ پھر رات ہو گئی تھی۔ بچے سو گئے تھے۔ میاں بیوی تنہا تھے۔ مناہل نے کہا تھا،" تم دوبارہ مت جانا"۔ اس نے پوچھا تھا ،"کیوں؟" اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ عاصم کے ساتھ کاروبار میں شامل ہونے کا وعدہ کر چکا ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ اس کے کام میں بھلا کیا رکھا ہے۔ ممکن ہے تجارت سے کچھ ہاتھ آ جائے۔ لیکن مناہل نے اس کے نہ جانے پر زور دیتے ہوئے جھجھکتے ہوئے کہا تھا،" میں ڈرتی ہوں"۔ جھجھک اور خوف دونوں ہی مناہل کی شخصیت کے انگ نہیں تھے۔ طغرل نے حیران ہو کر کہا تھا "کس سے ڈرتی ہو؟"

     "اپنے آپ سے" اس کے اس جواب کو طغرل نے محض شاعرانہ تعلی اور فلسفیانہ انداز پر محمول کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا تھا۔ ان کے لمس میں ایک دوسرے کے لیے وہ حدت باقی نہیں رہی تھی جو پہلے ہوتی تھی یا جسے ساڑھے تین ماہ کی جدائی کے بعد ہونا چاہیے تھا۔ دوچار روز تو امن سے گذرے پھر وہی توتکار شروع ہو گئی تھی۔ مناہل کے چیخنے چلانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے کی عمر تب گیارہ سال تھی جو ایسے ہی ایک ہنگامے کے دوران ڈرائنگ روم کے صوفے پر اکیلا بیٹھا سسکیاں بھر کر رو رہا تھا۔ جب طغرل اسے تسلی دینے کی خاطر اس کی طرف بڑھا تھا تو اس نے تند لہجے میں کہا تھا،"تم یہاں نہ آیا کرو" کچھ اور بھی کہا تھا مگر طغرل بچے کے منہ سے اپنے لیے آپ کی بجائے تم کا صیغہ سن کر بھونچکا گیا تھا۔ اسے اندازہ ہوا تھا کہ میاں بیوی کی چپقلش نے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات راسخ کرنا شروع کر دیے تھے چنانچہ اسے فی الواقعی میدان سے ہٹ جانا چاہیے۔ یہ سوچ ممکن ہے کہ غلط تھی مگر تب یہی سوچ تھی۔ زوجہ نے شدو مد کے ساتھ طلاق کا تقاضا کرنا شروع کر دیا تھا۔ طغرل نے ایک بار پھر "دیکھیں گے" کہہ کر ٹال دیا تھا۔

    طغرل اپنے رویوں میں انتہا پسند واقع ہوا تھا۔ یہ انتہا پسندی ہرگز وہ نہیں تھی جس کا آجکل زیادہ ذکر ہوتا ہے یعنی مذہبی یا کسی بھی طرح کی نظریاتی انتہا پسندی بلکہ ایک اور نوع کی انتہا پسندی تھی جس کا اسے گیان بھی تھا۔ ویسے تو انتہا پسندی کسی بھی طرح کی ہو اچھی نہیں لگتی لیکن جن کے ساتھ یہ بلا چمٹ جاتی ہے وہ اس سے جان بمشکل ہی چھڑا پاتا ہے۔ یہ رویہ اس کی ذات کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ کسی سے تب تک کوئی وعدہ نہیں کرتا تھا جب تک اسے یقین نہ ہو کہ وہ اسے نبھا سکتا ہے مگر جب وعدہ کر لیتا تھا تو اسے نبھانے کی پوری سعی کرتا تھا بلکہ نبھاتا تھا۔ وہ معاشرے کے لاگو کردہ فرائض کو نہیں مانتا تھا مگر جس بات کو وہ فرض تسلیم کر لیتا تھا اس کی ادائیگی سے گریز اس کا شیوہ نہیں تھا چنانچہ وہ عاصم سے کیے گئے وعدے کے مطابق چند روز بعد واپس کراچی چلا گیا تھا،  وہاں عاصم کے ساتھ دفتر جانے لگا تھا اور اس نے اسے کاروباری بات چیت میں شامل کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ عمل ایک ڈیڑھ ماہ چلا تھا اور طغرل کو تسلی ہو گئی تھی کہ وہ اس میدان میں اتنا برا نہیں رہے گا۔ 25 جنوری 1992 کو وہ ایک بار پھر روس کے دارالحکومت کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ نقد رقم اس بار بھی اس کے ہمراہ نہیں تھی۔ اس کی جگہ وہ چمڑے کی دس پندرہ جیکٹیں ساتھ لیتا گیا تھا۔ اس کے ذمے لگایا گیا تھا کہ ان جیکٹوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کے پیسے سے ماسکو میں ایک کمپنی رجسٹر کرا لے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *