باچا خان! فلسفہ عدم تشدد ناکام ہوگیا؟

saeed ahmed (final)

20جنوری باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا حملہ‘ ایک پروفیسر 20 طلباء شہید ہوئے۔ بات بہت دور تک جاتی ہے۔ 106 سال پہلے 1910 میں باچا خان نے پشاور میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی تھی اور یہ سلسلہ وقت کے ساتھ بڑھتا رہا۔ باچا خان کی انسانی فلاح و بہبود کی تحریک زور پکڑنے لگی، انگریز سامراج نے روکنا چاہا، باچا خان چٹان بن کر سامنے کھڑے ہو گئے۔ پشاور کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے باچا خان کے والد سے ملاقات کی اُن کو قائل کیا کہ اُن کا بیٹا خطرناک کام کر رہا ہے، جِس کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔ باپ نے بیٹے کو سمجھانا چاہا۔ بیٹا سمجھ گیا کہ انگریز بہت بڑے سازشی اور چالاک ہیں، انہوں نے باپ اور بیٹے کے درمیان اختلافات کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ باپ اپنے موقف پر ڈٹا رہا تب بیٹے نے کہا ، کہ انگریز آپکو نماز پڑھنے سے روکے اور منع کرے تو آپ نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے۔ باپ کی عقل میں بات آئی، اس نے کہا کہ یہ بات ہے تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ انگریزوں کے خلاف ڈٹ جاؤ۔1910 سے لے کر اپنے آخری دن 20 جنوری 1988 تک خان عبدالغفار نے انگریزوں پر اعتبار کیا ، نہ ان کا کوئی حکم مانا بلکہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک کے صف اول کے رہنما بن گئے۔ انگریزوں نے گرفتار کیا، اور اٹھارہ برس باچا خان کو برصغیر پاک و ہند کی دور دراز کی جیلوں میں قید رکھا گیا۔انگریزوں نے خدائی خدمتگار تحریک کو انسانی فلاح و بہبود کی تحریک سے سیاسی تحریک میں بدل دیا اور خدائی خدمتگاروں نے سامراج کو جن کا سورج آدھی دنیا پر غروب نہیں ہوتا تھا، ان کو دن میں تارے دکھائے۔چار بار انڈین نیشنل کانگرس کی صدارت کی پیش کش ہوئی، مگر ایک عام سادہ زندگی گذارنے والا پختون اپنے ارادے، مستقل مزاجی، ثابت قدمی، اصول پرستی اور نہایت مضبوط نظام اخلاق کا مالک، کسی عہدے کے لئے نہیں، ایک مقصد کے لئے جہدوجہد کر رہا تھا۔ اس کے سامنے خِرف ایک نصب العین تھا ۔ برصغیر کو انفریز سامراج سے آزاد کرانا۔
مہاتما گاندھی نے ایک بار غفار خان کو کہا’’ میری عدم تشدد کی تحریک میں پختون بہت بعد میں شامل ہوئے ہیں، مگر پورے ہندوستان میں سب سے بہتر نتائج پختونوں نے دئیے ہیں‘‘۔ باچا خان نے کہا ’’ عدم تشدد بہادر انسانوں کا فلسفہ ہے، آپ کے پاس بندوق ہے مگر آپ کا یہ فیصلہ ہے کہ آپ اس کو استعمال نہیں کریں گے اور تشدد کا مقابلہ عدم تشدد سے کریں گے، پختونوں نے بہتر نتائج اس لئے دئیے ہیں کہ پختون بہادر قوم ہیں‘‘۔
باچا خان زبردست حس مزاح کے مالک تھے۔ بہت بڑے باپ کے چھوٹے بیٹے خان عبدالولی خان کو بھی ورثے میں یہ خوبی ملی تھی۔ باپ انگریزوں کی جیل میں تھا، بیٹا پہلی بار quit india کی تحریک میں 1942 میں گرفتار ہوا۔ باچا خان 1928 کو دوسری بار حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد بیت المقدس حاضری دینے یروشلم گئے۔ وہاں وہ قہوہ خانوں اور ریستورانوں میں فلسطینیوں اور عربعں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ فلسطینی اپنی زمین فروخت کرکے نقل مکانی کر رہے تھے، باچا خان نے انہیں سمجھایا کہ جب تم لوگ اپنا گھر چھوڑ جاؤ گے تو کوئی اور آکر آباد ہوگا۔ باچا خان سمجھ گئے تھے کہ برطانوی سامراج ایک نئی ریاست قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔باچا خان اور قائد اعظم ایک دوسرے کے قریب آئے، باچا خان پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قائد اعظم کو اپنے تعاون کا یقین دلایا اور قائد اعظم نے کہا، پاکستان کا خواب آج شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔ دشمنوں سے مگر یہ دوستی برداشت نہ ہوئی۔ خان عبدالقیوم خان نے سازش کی انتہا کردی، یہ وہ شخص تھا جس نے باچا خان پر ایک کتاب لکھی تھی۔ جس میں باچا خان کی جدوجہد بیان کرتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔ دنیا کی تاریخ میں شاید یہ پہلا واقعہ ہے کہ قیوم خان جب صوبہ سرحد کا وزیر اعلیٰ بناتو سب سے پہلے اس نے باچا خان پر لکھی اپنی ہی کتاب پر پابندی عائد کردی۔
میرے ایک دوست ہیں کرنل سجاد یونس، انہوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا کہ وہ میٹرک کے طالبعلم تھے اور ایک دن ان کے والد نے کہا کہ آج پشاور میں باچا خان کا جلسہ ہے تو وہ دونوں چلیں گے۔ کرنل صاحب کہتے ہیں کہ عوام کے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے باچا خان نے سب سے پہلے کہا کہ ’’ لوگو !کل صبح جب تم اخبار پڑھو گے تو اس کی شہہ سرخی میں تمہیں ابھی بتانا چاہتا ہوں۔ جلی حروف میں لکھا ہوگا ۔ خان عبدالغفار خان نے’ پختونستان ‘کی آزادی کا اعلان کر دیا‘‘۔کرنل صاحب کہتے ہیں کہ اگلی صبح ہم سب اخبار دیکھنے کے لئے بے قرار تھے۔ اخبار دیکھا تو یہی شہہ سرخی تھی۔
باچا خان عملی انسان تھے ، باتیں کرنا انہیں پسند نہیں تھا۔ ایک بار بی بی سی کا نمائندہ بڑی ضد کے بعد انٹرویو کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ باچا خان نے کہا کہ اگر سیاست پر بات کرنی چاہتے ہو تو علی خان سے رابطہ کرو، اگر تعلیم پر بات کرنی ہے تو علی خان (سابق پرنسپل ایچی سن) سے کرلو، ادب اور شاعری پر غنی خان سے بات کر سکتے ہو اور اگر کوئی کام کی بات کرنی ہے تو اس کے لئے میں حاضر ہوں۔
خان عبدالولی خان کی حس مزاح بھی زبردست تھی اور وہ لوک داستانوں کی مثالیں بھی دیا کرتے تھے۔ ایک بار ضیا ء الحق نے سیاستدانوں پر الزام لگایا کہ انہیں سیاست کی اے بی سی نہیں آتی۔ ولی خان نے کہا کہ ضیاء الحق نے زیادتی کی ہے، ہم سیاستدان ہمیشہ اے بی سی سے شروع کرتے ہیں اور DEF کے بعد GHQ آجاتا ہے۔عدم تشدد کا عظیم ترین پرچارک ، پیامبرا، ایک عام ، سادہ انسان، اور خدائی خدمتگار، جس کے نام پر چارسدہ میں ایک دانش گاہ ہے، باچا خان یونیورسٹی، جس پر دہشت گردوں کے حملے میں 21 طالبعلم اور ایک پروفیسر شہید ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اس حملے کو پاکستان پر حملہ قرار دیا ہے۔ خان عبدالولی خان نے 1986 میں وارننگ دی تھی کہ پاکستان کے اس وقت کے حکمران اور دیگر صاحبان اختیار نے قابل میں جو آگ بھڑکائی ہے اس کے شعلے اٹک پار کرکے آپ کے گھروں تک پہنچیں گے۔ ہم ابھی آرمی پبلک سکول کے 144 بچوں کی ماؤں کے آنسو خشک نہیں کرسکے کہ ایک اور سانحے سے دوچار ہیں۔ خان عبدالغفار خان آپ کا عدم تشدد کا فلسفہ ناکام ہو گیا ہے۔ اب دشمنوں کے چہرے اور ان کے ارادے بدل گئے ہیں ۔ ! باچا خان آپ کا پوتا اسفند یار ولی وفاقی اور صوبائی حکومت کو بزدل کہہ رہا ہے اور خود اپنے گھر سے اپنے دادا کی یونیورسٹی تک نہیں آیا.....!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *