خشکی اور کُتّے کا صابن

 موسمِ سرما کی بات ہے کہ ہمیں سردی کی وجہ سے خشکی کی شکایت ہوئی۔ بیگم معالجوں کے خاندان سے ہیں سو ان سے استدعا کی کہ کوئی ایسا صابن لا دیں جو اس بیزاری کا علاج کر سکے۔ وہ حسبِ معمول مقامی فارمیسی کے دورے پر تھیں ، انہوں نے ایک فارماسسٹ خاتون کو میرا مسئلہ بتایا اور خشکی سے نجات کیلئے کوئی صابن تجویز کرنے کو کہا۔ مغربی خاتون فوراً بولیں Oh, my dog has the same problem. Please use this soap, this is good, اور بکری کے دودھ سے بنا ایک صابن بیگم کو تھما دیا۔ بیگم چند لمحوں کیلئے تو ہکا بکا رہ گئیں لیکن کچھ کہے بغیر صابن گھر لے آئیں۔ شام کو صابن کی دودھیا سی ٹکیا تھماتے ہوئے سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگیں ’ حیرت ہے کہ فارماسسٹ نے آپ کے لیئے کُتّے کا صابن تجویز کیا ہے۔ ہم نے کہا بیگم مغربی خواتین کے منصبِ دلبری پر کتّا شوہر سے کہیں افضل ہے۔ ضرور کوئی بہت اچھا صابن ہو گاkalimana batain ورنہ اپنے کتّے کی لئے کبھی ستعمال نہ کرتیں۔ صابن کے استعمال سے خشکی و خارش سے تو آفاقہ ہوا لیکن اسکے سائیڈ افیکٹس سے کچھ غیر متوقع اخلاقی مسائل نے بھی جنم لینا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر بیگم کو سخت گِلہ ہے کہ ہم غیر ضروری طور پر ہر ڈِش کو سونگھنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیلز مین کے سامنے کپڑے تک سونگھ رہے ہوتے ہیں۔ دو چار بار سُپر مارکیٹ میں ڈاگ فوڈ والے سٹال کے سامنے مبہوت پاکر ڈانٹے بھی گئے کہ ’ نہیں جاناں یہ آپکی ڈائیٹ کا حصہ نہیں‘۔ لیکن کیا کیا جائے ہمیں خود بھی کہاں معلوم تھا کہ ھم ایسا کیوں کررہے تھے۔ گھر میں کوئی مکھی آجاتی ہے تو ہم ہمسائے کے ڈاگ بُش کی طرح مشتعل ہو کر اسکا پیچھا کرتے پھرتے ہیں اور یہ تحریک بیگم کے مشتعل ہونے تک جاری رہتی ہے۔ بُش کے بارے میں بتاتے چلیں کہ وہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے کا ایک بوڑھا کـتّا ہے جو عموماً سویا رہتا ہے اور آس پاس شور شرابے کی صورت میں بھی ٹس سے مَس نہیں ہوتا۔ گزشتہ چند سالوں سے مکھی کے علاوہ اسکے سحرخیزاشتعال کی وجہ صرف ہم ہیں۔ وہ یوں کہ اسکا شاہانہ ڈربہ اتفاق سے ہمارے شاور کی کھڑکی کے قرب و جوار میں ہے۔ گھر میں ہماری شُدھ کلاسیکی آواز کے باعث ہمیں گانے کی اجازت نہیں سو ہمارا ریاض صرف اور صرف غسل خانے تک محدود ہے۔ ادھر ہم شاور میں سُر بکھیرنا شروع کرتے ہیں اُدھر بُش فوراً اپنی پھٹی ہوئی آواز میں ہَف ہَف کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اول اول تو ہم بُش کی اس نازیبا حرکت سے بہت رنجیدہ ہوئے پھر یہ سوچ کر صبر کر لیا کہ شائد ہماری آواز کا درد اس غریب کے پرانے زخموں کو ہوا دیتا ہے۔ بقول بیگم کے جب سے ہم نے نئے صابن کا استعمال شروع کیا ہے انکے لئے یہ بتانا ناممکن ہوگیا ہے کہ ہم دونوں میں کون گا رہا ہے ۔ بیگم کو تو خیر کتوں سے یوں بھی اللہ واسطے کا بیر ہے۔ پارک میں واک کے دوراں کوئی کتنا ہی معصوم کتّا کیوں نہ نظر آئے فوراً اچھل کر میری پُشت میں چھپنے کی کوشش کرتی ہیں۔ خیر صابن کے استعمال سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ہم انہیں سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ پارک میں اب کسی کتے سے سامنا ہونے والا ہے۔ ہمارے خارشی مسائل کی ہوا ہمارے دوست میاں آصف کو لگنے کی دیر تھی کہ انکا لائلپوری ہیومر جاگ اُٹھا۔ فرمانے لگے کہ ہم اکثر غیر شعوری طور پر بیٹھے بیٹھے پاؤں سے اپنا سر کھجانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں تو کبھی تڑپ کر نیم وحشیانہ طور سے اپنی گردن کھجاتے ہیں۔ میاں صاحب نے یہ بھی مشہور کردیا ہے ہم موبائل فون کی گھنٹی بجتے ہی کالر آئی ڈی دیکھنے کے بجائے فون سونگھنے لگتے ہیں۔ ظالم کے اس طعنے نے تو بہت دکھ دیا کہ ’کچھ خدا کا خوف کرو خان صاحب آجکل بیگم کی صورت نظر آتے ہی تمہارے آنکھوں اور چہرے پر وفاداری کا وہ تاثر ابھرتا ہے کہ یار لوگ سہم جاتے ہیں‘۔ بس پھر کیا تھا ہم نے گھر جاتے ہی صابن پھینک دیا اور آئندہ ایسی متبادل تشخیص سے توبہ کی کہ جس سے وہ غیر اخلاقی مسائل پیدا ہوں کہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *