پہلے طالبان سےمذاکرات کرو پھر سکیورٹی معاہدے پر دستخط کروں گا ، افغان صدر

Afghanistanافغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ جب تک امریکا اور پاکستان طالبان سے مذاکراتی عمل کا آغاز نہیں کرتے، اس وقت تک امریکا کے ساتھ سیکورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔
کرزئی اس سے قبل بھی متعدد بار دوطرفہ سیکورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار کر چکے ہیں جس کے باعث امریکی افواج کے رواں سال کے اختتام کے بعد بھی افغانستان میں رکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔اس سلسلے میں امریکا کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا تھا جب کرزئی نے گزشتہ سال معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے لویا جرگہ کی رضامندی کے باوجود معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔امریکا اس صورتحال میں خاصی پریشانی اور دباؤ کا شکار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ نومبر میں مذاکرات مکمل ہو گئے تھے اور اب معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کرنا باقی ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کو بھی انتہائی اہمیت حاصل ہے اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان دباؤ میں آکر کوئی معاہدہ تسلیم یا اس پر دستخط نہیں کرے گا۔
کرزئی نے ہفتے کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو بی ایس اے پر ہماری شرائط قبول نہیں تو وہ کسی بھی وقت یہاں سے جا سکتا ہے اور افغانستان غیرملکیوں کے بغیر بھی چل سکتاہے، مذاکراتی عمل کا آغاز ہماری اصل شرط ہے۔
اس سے قبل امریکا نے اکتوبر کے اواخر میں بی ایس اے پر دستخط کروانے کی کوشش کی تھی تاکہ رواں سال نیٹو کی اتحادی افواج کے انخلا کا شیڈول مرتب کیا جا سکے۔تاہم کرزئی کے انکار کے بعد معاہدے پر دستخط کی آخری تاریخ گزر چکی ہے جن کا اب کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آخری فیصلہ ان کا جانشین کرے گا جس کا انتخاب 5 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں کیا جائے گا۔ہفتے کو انہوں نے ایک بار پھر واضح الفاظ میں کہا کہا جب تک امریکا طالبان شدت پسندوں سے امن مذاکرات کا آغاز اور فوجی آپریشن نہیں روک دیتا، اس وقت وہ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔افغان صدر نے کہا کہ حال ہی میں صوبہ پروان میں امریکی بمباری سے شہریوں کی ہلاکت اور کابل پر ریسٹورنٹ پر خود کش حملے میں 21 افراد کی ہلاکت اس بات کی دلیل ہے کہ امریکا امن مذاکرات کے آغاز میں ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کے آغاز کا مطلب یہ ہو گا کہ کوئی بھی غیر ملکی جنگ کے تسلسل کا فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
یاد رہے کہ اس وقت افغانستان میں تقریباً 58 ہزار نیٹو افواج موجود ہیں جنہیں 2014 کے اختتام تک انخلا متوقع ہے۔امریکا نے نیٹو کے انخلا کے بعد افغان افواج کی طالبان کے خلاف مدد اور تربیت کے لیے 10 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں چھوڑنے کی تجویز پیش کی تھی۔
گزشتہ سال جون میں قطر میں بات چیت کے لیے طالبان نے دفتر کھولا تھا لیکن اس پر کرزئی نے برہمی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد طالبان دفتر کے ساتھ مذاکرات کے راستے بھی بند ہو گئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *